سرینگر/۲۵؍اگست
سکیورٹی فورسز نے منگل کو بتایا کہ کشمیر میں تین الگ الگ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے۸؍اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو) کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے شوپیاں ضلع کے امام صاحب علاقے میں ایک باغ میں مشترکہ کارروائی شروع کی۔
تلاشی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے نذیر احمد وانی کے باغ سے ایک گرنیڈ، اے کے رائفل کے دو میگزین، چار موبائل فون اور ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے پوسٹر برآمد کیے۔
گرفتار کیے گئے تین مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکرز کی شناخت عاشق حسین کمار، عارف کمار اور حارث منظور کے طور پر ہوئی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے پیر کی رات بھی شوپیاں ضلع سے تین اوور گراؤنڈ ورکرز کو گرفتار کیا تھا۔
حکام کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار تین افراد کو حراست میں لیا گیا، جن کی تلاشی کے دوران حزب المجاہدین سے متعلق دو ہینڈ گرنیڈ اور کچھ قابلِ اعتراض مواد برآمد ہوا۔گرفتار افراد کی شناخت جنید احمد ڈار، عامر یوسف اور جنید مظفر کے طور پر کی گئی ہے۔
ادھر جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نلن پربھات، آئی پی ایس، نے پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) کشمیر میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں آئندہ عید میلاد النبیؐ اور جموں و کشمیر میں ہونے والی دیگر تقریبات کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور انہیں مزید مستحکم کرنے پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں عید میلاد النبیؐ کے بعد آنے والے جمعہ، رکشا بندھن اور دیگر اہم تقریبات کے لیے بھی سکیورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران سکیورٹی تعیناتی، ہجوم کو منظم کرنے، نگرانی، ٹریفک کی روانی کو منظم کرنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ڈی جی پی نے فیلڈ فارمیشنز کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور افسران کو ہدایت دی کہ مقررہ تقریبات سے کافی پہلے نگرانی میں اضافہ، پیشگی پولیسنگ اور فول پروف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔
اہم مزارات، مساجد اور دیگر مذہبی مقامات، بالخصوص درگاہ حضرت بل اور دیگر نمایاں مذہبی مقامات پر سکیورٹی انتظامات پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اور رات بھر عبادت و دعاؤں کا امکان ہے۔
پربھات نے افسران کو ہدایت دی کہ مناسب سکیورٹی کوریج، مؤثر نگرانی اور تمام فیلڈ فارمیشنز کے درمیان قریبی رابطہ یقینی بنایا جائے تاکہ پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کی بروقت نشاندہی کرکے فوری طور پر اس سے نمٹا جاسکے۔
ڈی جی پی نے حساس اور خطرے سے دوچار مقامات پر نگرانی مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا، جبکہ اہم مقامات اور زیادہ ہجوم والے علاقوں میں اہلکاروں کی مؤثر تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے افسران کو مزید ہدایت دی کہ بڑے مذہبی مقامات اور جلوس کے راستوں کے اطراف جامع ٹریفک نظم و نسق اور روٹ مینجمنٹ کے منصوبے تیار کرکے نافذ کیے جائیں، تاکہ عقیدت مندوں اور عام لوگوں کی آمدورفت محفوظ اور ہموار انداز میں جاری رہ سکے۔
رکشا بندھن کے لیے سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ افسران کو ہدایت دی گئی کہ بازاروں، مندروں اور دیگر نمایاں مذہبی مقامات پر پیشگی انتظامات کیے جائیں، جبکہ ان علاقوں میں نگرانی اور سکیورٹی تعیناتی بڑھائی جائے جہاں لوگوں کی آمدورفت میں اضافے کا امکان ہے۔
ڈی جی پی نے زور دیا کہ تمام فیلڈ فارمیشنز تقریبات کے دوران پوری طرح چوکس، مربوط اور فوری ردِعمل کے لیے تیار رہیں، جبکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب ہنگامی انتظامات بھی موجود ہوں۔
اجلاس کے اختتام پر ڈی جی پی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں عید میلاد النبیؐ، رکشا بندھن اور دیگر آئندہ تقریبات کو پُرامن، محفوظ اور کامیاب بنانے کے لیے تمام ضروری سکیورٹی، ٹریفک اور ہجوم سے نمٹنے کے انتظامات وقت سے پہلے مکمل کیے جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)










