ٹیٹوال/۲۵؍اگست
کبھی۱۹۹۰کی دہائی میں نقل مکانی اور گولہ باری کا سامنا کرنے والا سرحدی گاؤں کیرن اب تیزی سے ایک مقبول سیاحتی منزل میں تبدیل ہورہا ہے۔
۲۰۲۳ میں عوام کے لیے کھولے جانے کے بعد یہاں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور امن نے مقامی معیشت کو نئی زندگی دی ہے۔
صرف مئی سے جولائی کے دوران۵۰ہزار سے زیادہ ملکی سیاح کیرن پہنچے، جبکہ روزانہ اوسطاً ایک ہزار سے ۱۵۰۰سیاح یہاں آتے ہیں۔ ہفتہ وار تعطیلات پر یہ تعداد۴۰۰۰سے۵۰۰۰تک پہنچ جاتی ہے۔ جون سے اگست تک کا مختصر عرصہ یہاں سیاحت کا مرکزی موسم ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بعد برف باری کے باعث علاقہ کئی ماہ کے لیے مشکل رسائی والا بن جاتا ہے۔
کیرن کے نمبر دار۶۰ سالہ مجاز خان کے مطابق ماضی میں گولہ باری معمول کا حصہ تھی، لیکن کئی برس کی خاموشی نے حالات بدل دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب سیاحت نے تقریباً ہر گھر کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
۲۰۲۳ سے پہلے مقامی نوجوان بڑی حد تک فوج کے ساتھ بطور پورٹر کام کرکے روزگار حاصل کرتے تھے، لیکن اب بہت سے نوجوانوں نے ہوم اسٹے، دکانوں اور دیگر چھوٹے کاروباروں کا رخ کرلیا ہے۔ درجنوں مقامی ہوم اسٹے ایک رات کے لیے تقریباً ایک ہزار سے ڈھائی ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں، جبکہ چند ہوٹل اور کیمپنگ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
۲۷ سالہ خالد احمد نے اپنے صدیوں پرانے لکڑی کے گھر کو ہوم اسٹے اور چائے کے اسٹال میں تبدیل کردیا ہے۔ ان کے بقول، ’’سیاحت نے سب کچھ بدل دیا ہے۔‘‘
زیریں کیرن دریائے کشن گنگا کے کنارے واقع ہے اور دریا کے دوسری جانب پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے کئی علاقے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ چونکہ دریا ہی عملی طور پر ایل او سی کا کردار ادا کرتا ہے، اس لیے آبی کھیلوں کی محدود گنجائش ہے، جبکہ سیاح قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ بالائی کیرن تک ٹریکنگ کرتے ہیں۔
سری نگر سے تقریباً۱۵۰کلومیٹر دور کیرن تک پہنچنے میں لگ بھگ پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔ راستے میں فیرکیان ٹاپ سے پیر پنجال کا وسیع منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ بارڈر روڈز آرگنائزیشن کی جانب سے سڑکوں میں بہتری کے بعد رسائی پہلے کے مقابلے میں آسان ہوئی ہے، تاہم آخری تقریباً چھ کلومیٹر کا حصہ اب بھی بہتر کیے جانے کا متقاضی ہے۔
سکیورٹی کے باعث کیرن جانے والے بھارتی سیاحوں کو کرالپورہ پولیس اسٹیشن سے اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ گاؤں میں بجلی دستیاب ہے، لیکن انٹرنیٹ اور موبائل رابطہ اب بھی انتہائی محدود ہے۔ طبی سہولیات بھی محدود ہیں اور ایک چھوٹا اسپتال مقامی آبادی کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیاحوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔
اس کے باوجود سیاحتی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران فوج کی جانب سے کھلے آسمان تلے فلموں کی نمائش بھی کی جاتی ہے، جہاں مقامی باشندے اور سیاح ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
مہاراشٹر سے آنے والے ایک سیاح انمول شنڈے نے کہا کہ انہیں یہاں جنگ جیسی صورتحال کی توقع تھی، لیکن اس کے بجائے انہوں نے ایک پُرامن اور خوبصورت مقام دیکھا۔
کیرن کے پہلے جدید۱۲ کمروں والے ہوٹل کے مالک راجا فرہاد کا کہنا ہے کہ فوج اور مقامی نوجوانوں نے سیاحت کی بنیاد تیار کردی ہے، اب حکومت کو بنیادی شہری سہولیات اور سیاحتی ڈھانچے کی فراہمی کے لیے مزید آگے آنا چاہیے۔
کیرن میں امن نے جہاں لوگوں کو گولہ باری کے خوف سے نکالا ہے، وہیں سیاحت نے اس سرحدی بستی کو ایک نئی معاشی شناخت بھی دے دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر یامین










