ٹنگمرگ؍۲۵؍اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اپنی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ مجبوری کے تحت کیا گیا، خوشی سے نہیں، تاہم انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت کی مدت کے دوران بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
ٹنگمرگ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والی اپوزیشن جماعتوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ان کی سابقہ کارکردگی پر سوال اٹھایا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’وہ یہ کہنے میں غلط نہیں ہیں۔ ہم نے بجلی کی قیمتیں بڑھائی ہیں، میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔ ہم نے یہ کام خوشی سے نہیں کیا، ہمیں ایسا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ چار سال بعد کیا گیا ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران ملک بھر میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا، ’’بجلی کے نرخ چار سال بعد بڑھائے گئے ہیں‘‘ اور اس عرصے کے دوران مہنگائی میں تقریباً۱۹یا۲۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
عمرعبداللہ نے اپنی حکومت کے فیصلے کا سابقہ حکومتوں کے فیصلوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت کے دور میں بجلی کے نرخوں میں تقریباً۱۵ فیصد اور محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت کے دوران تقریباً۱۳ء۵سے۱۴فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’جب یہ لوگ حکومت میں تھے اور چار سال پہلے انہوں نے بجلی کے نرخ بڑھائے تھے تو انہوں نے۱۵فیصد اضافہ کیا تھا۔‘‘
پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’جب پی ڈی پی۔بی جے پی کی اتحادی حکومت اقتدار میں تھی، جس کے گناہوں کی قیمت ہم آج ادا کر رہے ہیں، اس وقت بھی بجلی کے نرخ بڑھائے گئے تھے، جب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ تھیں۔‘‘انہوں نے سوال کیا، ’’اس وقت وہ خاموش کیوں تھے؟‘‘
تاہم وزیر اعلیٰ نے حالیہ اضافے سے صارفین پر پڑنے والے بوجھ کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ، ان شاء اللہ، اس حکومت کی مدت کے دوران اور اس کے بعد بھی بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت اور اس کے نمائندوں کی جانب سے زمینی سطح پر خاطر خواہ کام نہ کرنے کی تنقید کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگرامہ، پٹن، بارہمولہ، بیروہ اور اوڑی سمیت مختلف حلقوں کے ارکان اسمبلی مسلسل ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور عوام کی ضروریات کا جواب دے رہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ایسا ایک بھی دن نہیں گزرتا جب یہاں موجود میرے معزز ارکان اسمبلی، خواہ وہ سنگرامہ، پٹن، بارہمولہ، بیروہ یا اوڑی سے ہوں، اپنے علاقوں میں کسی نہ کسی منصوبے، کسی نہ کسی کام یا عوام کی کسی نہ کسی مانگ کے سلسلے میں دورہ نہ کر رہے ہوں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا حکومت پر تنقید کرنا ان کا حق ہے، تاہم ان پر الزام لگایا کہ وہ اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی کارکردگی کو نظر انداز کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ان کا کام یہ ہے کہ کسی جگہ جائیں، آنکھیں بند کریں اور کہیں کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا۔‘‘
عمرعبداللہ نے خاص طور پر سابق نمائندوں سے سوال کیا کہ زمین دستیاب ہونے کے باوجود تنگمرگ میں فروٹ منڈی قائم کیوں نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا، ’’میں ان حضرات سے پوچھتا ہوں جنہوں نے یہاں۱۲‘۱۶یا۱۸ سال تک لوگوں کی نمائندگی کی: اگر آپ کے پاس موقع تھا تو آپ نے یہاں فروٹ منڈی کیوں نہیں بنائی؟‘‘انہوں نے کہا کہ جس زمین پر منڈی تعمیر کی جا رہی ہے وہ پہلے سے دستیاب تھی اور حکومت کو نہ غیر قانونی قبضے ہٹانے پڑے اور نہ نئی زمین حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’یہ زمین پہلے سے موجود تھی۔ ہم نے یہ زمین حاصل نہیں کی۔ اس زمین پر کوئی غیر قانونی قبضہ نہیں تھا۔ ہمیں کسی کو وہاں سے ہٹانا نہیں پڑا۔ زمین پہلے ہی موجود تھی۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے فاروق شاہ کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ سنگِ بنیاد رکھا جانا طویل عرصے سے زیرِ انتظار اس ترقیاتی منصوبے کے آغاز کی علامت ہے۔انہوں نے اپنی حکومت کی باقی مدت کے لیے پینے کے پانی، اسکولوں، صحت، سڑکوں، فروٹ منڈیوں اور پنچایتوں کے ذریعے ترقیاتی کاموں سمیت متعدد ترجیحات بھی گنوائیں۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ان شاء اللہ، آئندہ ساڑھے تین سال کے دوران ہم عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے اور اس کے بعد آپ کے سامنے دوبارہ پیش ہوں گے۔‘‘انہوں نے پیش گوئی کی کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے تک گلمرگ۔ٹنگمرگ جموں و کشمیر کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اسمبلی حلقوں میں شامل ہوگا۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’جب ساڑھے تین سال بعد آپ تمام۹۰؍اسمبلی حلقوں کو دیکھیں گے تو آپ پائیں گے کہ اگر کسی ایک حلقے میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہوگی تو گلمرگ۔ٹنگمرگ ان حلقوں میں شامل ہوگا۔‘‘انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ علاقے میں منی سیکریٹریٹ پر کام اسی سال شروع کردیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ان شاء اللہ، اسی سال ہم اس منی سیکریٹریٹ پر کام شروع کردیں گے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










