پیر, اکتوبر 12, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

میرے دورِ حکومت میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ نہیں ہوگا:وزیر اعلیٰ

’ ہم نے بجلی کی قیمتیں بڑھائی ہیں، میں اسے تسلیم کرتا ہوں‘لیکن  یہ کام خوشی سے نہیں کیا، ہمیں ایسا کرنے پر مجبور ہونا پڑا‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-26
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, کاروبار
A A
اقتدار کے لیے اپنے  اصولوں کا سودا نہیں  کریں گے:عمرعبداللہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

ٹنگمرگ؍۲۵؍اگست

                 جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اپنی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ مجبوری کے تحت کیا گیا، خوشی سے نہیں، تاہم انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت کی مدت کے دوران بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

                ٹنگمرگ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والی اپوزیشن جماعتوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ان کی سابقہ کارکردگی پر سوال اٹھایا۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’وہ یہ کہنے میں غلط نہیں ہیں۔ ہم نے بجلی کی قیمتیں بڑھائی ہیں، میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔ ہم نے یہ کام خوشی سے نہیں کیا، ہمیں ایسا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘

                انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ چار سال بعد کیا گیا ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران ملک بھر میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا، ’’بجلی کے نرخ چار سال بعد بڑھائے گئے ہیں‘‘ اور اس عرصے کے دوران مہنگائی میں تقریباً۱۹یا۲۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

                عمرعبداللہ نے اپنی حکومت کے فیصلے کا سابقہ حکومتوں کے فیصلوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت کے دور میں بجلی کے نرخوں میں تقریباً۱۵ فیصد اور محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت کے دوران تقریباً۱۳ء۵سے۱۴فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’جب یہ لوگ حکومت میں تھے اور چار سال پہلے انہوں نے بجلی کے نرخ بڑھائے تھے تو انہوں نے۱۵فیصد اضافہ کیا تھا۔‘‘

                پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’جب پی ڈی پی۔بی جے پی کی اتحادی حکومت اقتدار میں تھی، جس کے گناہوں کی قیمت ہم آج ادا کر رہے ہیں، اس وقت بھی بجلی کے نرخ بڑھائے گئے تھے، جب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ تھیں۔‘‘انہوں نے سوال کیا، ’’اس وقت وہ خاموش کیوں تھے؟‘‘

                تاہم وزیر اعلیٰ نے حالیہ اضافے سے صارفین پر پڑنے والے بوجھ کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ، ان شاء اللہ، اس حکومت کی مدت کے دوران اور اس کے بعد بھی بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت اور اس کے نمائندوں کی جانب سے زمینی سطح پر خاطر خواہ کام نہ کرنے کی تنقید کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگرامہ، پٹن، بارہمولہ، بیروہ اور اوڑی سمیت مختلف حلقوں کے ارکان اسمبلی مسلسل ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور عوام کی ضروریات کا جواب دے رہے ہیں۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’ایسا ایک بھی دن نہیں گزرتا جب یہاں موجود میرے معزز ارکان اسمبلی، خواہ وہ سنگرامہ، پٹن، بارہمولہ، بیروہ یا اوڑی سے ہوں، اپنے علاقوں میں کسی نہ کسی منصوبے، کسی نہ کسی کام یا عوام کی کسی نہ کسی مانگ کے سلسلے میں دورہ نہ کر رہے ہوں۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا حکومت پر تنقید کرنا ان کا حق ہے، تاہم ان پر الزام لگایا کہ وہ اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی کارکردگی کو نظر انداز کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ان کا کام یہ ہے کہ کسی جگہ جائیں، آنکھیں بند کریں اور کہیں کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا۔‘‘

                عمرعبداللہ نے خاص طور پر سابق نمائندوں سے سوال کیا کہ زمین دستیاب ہونے کے باوجود تنگمرگ میں فروٹ منڈی قائم کیوں نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا، ’’میں ان حضرات سے پوچھتا ہوں جنہوں نے یہاں۱۲‘۱۶یا۱۸  سال تک لوگوں کی نمائندگی کی: اگر آپ کے پاس موقع تھا تو آپ نے یہاں فروٹ منڈی کیوں نہیں بنائی؟‘‘انہوں نے کہا کہ جس زمین پر منڈی تعمیر کی جا رہی ہے وہ پہلے سے دستیاب تھی اور حکومت کو نہ غیر قانونی قبضے ہٹانے پڑے اور نہ نئی زمین حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’یہ زمین پہلے سے موجود تھی۔ ہم نے یہ زمین حاصل نہیں کی۔ اس زمین پر کوئی غیر قانونی قبضہ نہیں تھا۔ ہمیں کسی کو وہاں سے ہٹانا نہیں پڑا۔ زمین پہلے ہی موجود تھی۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے فاروق شاہ کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ سنگِ بنیاد رکھا جانا طویل عرصے سے زیرِ انتظار اس ترقیاتی منصوبے کے آغاز کی علامت ہے۔انہوں نے اپنی حکومت کی باقی مدت کے لیے پینے کے پانی، اسکولوں، صحت، سڑکوں، فروٹ منڈیوں اور پنچایتوں کے ذریعے ترقیاتی کاموں سمیت متعدد ترجیحات بھی گنوائیں۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’ان شاء اللہ، آئندہ ساڑھے تین سال کے دوران ہم عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے اور اس کے بعد آپ کے سامنے دوبارہ پیش ہوں گے۔‘‘انہوں نے پیش گوئی کی کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے تک گلمرگ۔ٹنگمرگ جموں و کشمیر کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اسمبلی حلقوں میں شامل ہوگا۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’جب ساڑھے تین سال بعد آپ تمام۹۰؍اسمبلی حلقوں کو دیکھیں گے تو آپ پائیں گے کہ اگر کسی ایک حلقے میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہوگی تو گلمرگ۔ٹنگمرگ ان حلقوں میں شامل ہوگا۔‘‘انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ علاقے میں منی سیکریٹریٹ پر کام اسی سال شروع کردیا جائے گا۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ان شاء اللہ، اسی سال ہم اس منی سیکریٹریٹ پر کام شروع کردیں گے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایجنسیاں

متعلقہ

جموں کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز کے قیام کیلئےتیار

وزیر اعلیٰ کی امتحانات سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی وکالت

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

گولوں کی گونج سے سیاحوں کی رونق تک، سیاحت کیرن کا نقشہ بدل رہی ہے

Next Post

آغا روح اللہ مستعفی ہونے کیلئے تیار؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

زوجیلا سرنگ کی آخری ۲ء۵میٹر کی رکاوٹ بھی ختم، کشمیر اور لداخ سرنگ کے ذریعے جڑ گئے
اہم ترین

جموں کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز کے قیام کیلئےتیار

2026-10-11
جنتر منتر پر احتجاج :’اجازت کے منتظر ہیں‘
اہم ترین

وزیر اعلیٰ کی امتحانات سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی وکالت

2026-10-11
سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی سخت مذمت، فوجی کشیدگی فوری روکنے کا مطالبہ
اہم ترین

’جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘

2026-10-11
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج
اہم ترین

وادی بھر میں انڈیا بلاک کے احتجاجی مارچ‘سی ای سی گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

2026-10-11
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح
اہم ترین

’بی جے پی عمر سرکار کے خلاف ضلع سطح پر احتجاجی مہم چلائے گی‘

2026-10-11
پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے   قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد
اہم ترین

سوپور کے جنگلات سے اسلحہ گولہ بارود اور دھماکہ  خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

2026-10-11
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

پی او کے میں مقیم دو ملزمان کی  ایک کروڑ روپے مالیت کی  جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی

2026-10-11
پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے   قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد
اہم ترین

پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے  قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد

2026-10-11
Next Post
نیشنل کانفرنس کو اب میری ضرورت نہیں رہی:روح اللہ

آغا روح اللہ مستعفی ہونے کیلئے تیار؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.