سرینگر/۲۵؍اگست
ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے۱۹۹۸ کے وندھامہ قتلِ عام کی تحقیقات دوبارہ شروع کردی ہیں، جس میں جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں۲۳کشمیری پنڈتوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ حکام نے منگل کو یہ اطلاع دی۔
وندھامہ قتلِ عام کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب ایس آئی اے نے وادی میں کشمیری پنڈتوں کے قتل سے متعلق کئی مقدمات کی تحقیقات بھی دوبارہ شروع کی ہے۔
حکام کے مطابق تازہ تحقیقات کا مقصد وندھامہ قتلِ عام میں ملوث دہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کی شناخت کرنا اور اس واقعے میں ان کے کردار کا تعین کرنا ہے۔
۲۵ جنوری۱۹۹۸کو وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع کے وندھامہ گاؤں میں دہشت گرد کشمیری پنڈت خاندانوں کے گھروں میں داخل ہوئے اور۲۳؍ افراد کو قتل کردیا، جن میں نو خواتین اور چار بچے شامل تھے۔
یومِ جمہوریہ سے ایک روز قبل فوجی وردیوں میں ملبوس دہشت گردوں کا ایک گروپ گاؤں میں پہنچا۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور پنڈت خاندانوں کو ایک جگہ جمع ہونے کے لیے کہا، جس کے بعد ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی گئی، جس کے نتیجے میں۲۳؍افراد ہلاک ہوگئے۔
حملے کا نشانہ بننے والے افراد چار خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے۱۹۹۰کی دہائی کے اوائل میں عسکریت پسندی کے دوران وادی سے ہجرت نہیں کی تھی اور وہیں رہ گئے تھے۔
اس واقعے کے سلسلے میں گاندربل پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی، تاہم تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ مقدمہ حل نہیں ہوسکا۔ پولیس کے مطابق قتلِ عام میں لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ دہشت گرد ملوث تھے۔
حکام نے بتایا کہ مقدمے کی دوبارہ تحقیقات ان دہشت گردی کے واقعات کا ازسرِنو جائزہ لینے کی کوشش کا حصہ ہیں جو طویل عرصے سے حل طلب چلے آرہے ہیں، تاکہ ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔
وندھامہ قتلِ عام کے علاوہ ایس آئی اے نے۱۹۸۹میں ٹیکا لال ٹپلو اور جسٹس نیل کنٹھ گنجو کے قتل کے مقدمات کی تحقیقات بھی دوبارہ شروع کردی ہیں۔
معروف وکیل اور جموں و کشمیر بی جے پی کے سابق نائب صدر ٹیکا لال ٹپلو کو ستمبر۱۹۸۹ میں سری نگر میں ان کی رہائش گاہ کے قریب گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
جسٹس نیل کنٹھ گنجو نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی مقبول بٹ کو سزائے موت سنائی تھی۔ انہیں۴ نومبر۱۹۸۹کو سری نگر کی ہری سنگھ اسٹریٹ میں تنظیم سے وابستہ مشتبہ دہشت گردوں نے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔
حکام کے مطابق ان دونوں مقدمات کی تحقیقات بھی دوبارہ کھول دی گئی ہیں اور حال ہی میں ایس آئی اے نے تحقیقات کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے ہیں۔
حال ہی میں ایجنسی نے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کی تحقیقات مکمل کی تھیں۔ ایس آئی اے نے اپریل۱۹۹۰ میں نرس کے اغوا اور قتل کے معاملے میں کالعدم جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک کو کلیدی ملزم قرار دیتے ہوئے۷۳۷صفحات پر مشتمل چارج شیٹ بھی پیش کی۔
ایس آئی اے نے یہ مقدمہ۲۰۲۴میں دوبارہ کھولا تھا اور سرلا بھٹ، جو شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں نرس تھیں، کی گمشدگی کے ایک روز بعد وسطی سری نگر میں لاش ملنے کے واقعے کے۳۶سال بعد نامزد این آئی اے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔
حکام کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں ایس آئی اے نے اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے کے سواف شالی کے رہائشی کشمیری پنڈت مصنف اور سماجی کارکن سروانند کول پریمی اور ان کے بیٹے ویرندر کول کے۱۹۹۰کے دوہرے قتل کے مقدمے کے سلسلے میں بھی جموں و کشمیر کے متعدد مقامات پر چھاپے مارے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں
ایجنسیاں










