جموں و کشمیر میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی ایک گہرا سماجی، معاشی اور آبادیاتی بحران بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ برسوں کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ وادی میں خواتین کی قوتِ افزائش اور مجموعی فرٹیلٹی ریٹ خطرناک حد تک نیچے آ چکا ہے۔ ایک ایسا خطہ جو کبھی بڑے خاندانوں، بچوں کی رونق اور مضبوط خاندانی نظام کے لیے جانا جاتا تھا، آج وہاں نوجوان جوڑے ایک یا دو بچوں تک محدود ہو رہے ہیں جبکہ کئی خاندان علاج اور جدید تولیدی ٹیکنالوجی کے سہارے اولاد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔
قومی خاندانی صحت سروے کے مطابق جموں و کشمیر کا مجموعی فرٹیلٹی ریٹ تقریباً۱ء۴ تک گر چکا ہے جبکہ آبادی کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے۲ء۱کی شرح ضروری سمجھی جاتی ہے۔ شہری علاقوں میں یہ شرح مزید کم ہو کر تقریباً۱ء۲تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں اگر یہی رجحان برقرار رہا تو وادی میں افرادی قوت کم ہوگی، عمر رسیدہ آبادی بڑھے گی اور معیشت پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
اس صورتحال کو محض ایک عددی تبدیلی سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ دراصل یہ کشمیر کے سماجی ڈھانچے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ تعلیم، روزگار، شہری زندگی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدلتے طرزِ حیات نے خاندانی نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے جہاں جلد شادی اور بڑے خاندان عام تھے، اب نوجوان نسل دیر سے شادی کو ترجیح دے رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین اعلیٰ تعلیم، ملازمت اور مالی خودمختاری کے حصول کے بعد دیر سے شادی کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں قدرتی طور پر تولیدی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق حمل کے لیے موزوں عمر۲۰ سے۳۰ برس کے درمیان سمجھی جاتی ہے، مگر کشمیر میں اب بڑی تعداد میں شادیاں اس عمر کے بعد ہو رہی ہیں۔ کئی خواتین اس وقت شادی کرتی ہیں جب تولیدی صلاحیت میں کمی شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بانجھ پن اور آئی وی ایف مراکز کی ضرورت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سرینگر کے علاقے کرن نگر کا ’فرٹیلٹی کوریڈور‘ میں بدل جانا اس بدلتے سماج کی ایک علامت بن چکا ہے۔
معاشی عوامل بھی اس بحران میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بے روزگاری کی بلند شرح، محدود روزگار کے مواقع اور بڑھتی مہنگائی نے نوجوان جوڑوں کو خوف اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک بچے کی تعلیم، صحت، رہائش اور دیگر اخراجات آج متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔ ایسے میں نوجوان خاندان محدود بچوں کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ کم وسائل میں بہتر معیارِ زندگی برقرار رکھا جا سکے۔
شہری زندگی نے روایتی خاندانی نظام کو بھی کمزور کیا ہے۔ پہلے مشترکہ خاندان بچوں کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتے تھے، مگر اب نیوکلیئر فیملی سسٹم عام ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان ملازمت یا تعلیم کی خاطر شہروں میں چھوٹے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ بزرگ اکثر دیہات میں رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً بچوں کی دیکھ بھال کی پوری ذمہ داری میاں بیوی پر آ جاتی ہے، جو مزید ذہنی اور مالی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جدید طرزِ زندگی نے صحت کے نئے مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ جسمانی مشقت میں کمی، فاسٹ فوڈ، موٹاپا، تمباکو نوشی، آلودگی اور ذہنی تناؤ جیسے عوامل مرد و خواتین دونوں کی تولیدی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وادی میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور نفسیاتی مسائل گزشتہ تین دہائیوں کی شورش کے باعث غیر معمولی حد تک بڑھے ہیں۔ ایسے حالات ازدواجی زندگی اور تولیدی صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ایک اور تشویشناک پہلو منشیات کے بڑھتے استعمال کا ہے۔ نوجوان نسل میں منشیات کی لت نہ صرف جسمانی صحت کو تباہ کر رہی ہے بلکہ ہارمونل نظام، اسپرم کی کوالٹی اور تولیدی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں مزید سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
اگرچہ کچھ ماہرین کم شرحِ پیدائش کو خواتین کی تعلیم، صحت اور بااختیار ہونے سے جوڑتے ہیں اور اسے سماجی ترقی کی علامت قرار دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ کمی غیر متوازن رفتار سے جاری رہی تو کیا کشمیر مستقبل میں ایک بوڑھے سماج میں تبدیل نہیں ہو جائے گا؟ جاپان اور اٹلی جیسے ممالک آج کم شرحِ پیدائش کے باعث افرادی قوت کی کمی اور معاشی سست روی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ صنعتی اور معاشی طور پر مضبوط ممالک ہیں جبکہ کشمیر ابھی معاشی استحکام کی منزل سے کافی دور ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ محض زیادہ بچے پیدا کرنا کسی سماج کی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتا، مگر آبادی میں غیر معمولی کمی بھی کسی خطے کے سماجی اور معاشی توازن کو بگاڑ سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھا جائے اور جذباتی یا سطحی بحث کے بجائے متوازن پالیسی اپنائی جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے، شادیوں کو آسان بنانے کے لیے سماجی بیداری مہم چلائے، ذہنی صحت کے مراکز کو مضبوط کرے اور تولیدی صحت سے متعلق آگاہی کو عام کرے۔ ساتھ ہی خواتین کو یہ سہولت بھی دی جائے کہ وہ تعلیم اور کیریئر کے ساتھ خاندانی زندگی میں توازن قائم کر سکیں۔
کشمیر ایک خاموش آبادیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر خاموش ضرور ہے مگر اس کے اثرات آنے والی نسلوں کی سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی پر گہرے ہوں گے۔ اگر آج اس مسئلے پر سنجیدہ غور نہ کیا گیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔



