کچھ باتیں ایسی ہو تی ہیں جنہیں اگر کہا بھی نہ جائے تو وہ بن کہے ہی سب کی سمجھ میں آجا تی ہیں ۔لیکن صاحب اس کا یہ مطلب نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ ایسی باتیں کرنے پر کوئی پابندی ہے۔ نہیں صاحب ایسا نہیں ہے کہ ہم کون ہو تے ہیں پابندی لگانے والے ہیں ۔ لیکن ہاں اتنا ضرور ہے کہ جو بات ہم آپ کو بتانے والے ہیں وہ آپ پہلے سے جانتے ہیں اور سو فیصد جانتے ہیں ……. لیکن ہم پھر بھی آپ کو اس لئے بتا رہے ہیں کیونکہ ہم نے یہ بات کسی سے سنی ہے اور جس سے ہم نے یہ بات سنی ہے وہ کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے ۔ وہ ایک ماہر ہیں ‘ انتخابی نتائج اورووٹنگ کے طرز عمل کا ماہر ہے ‘ تجزیہ کار ہیں۔ تو صاحب انہوں نے جو بات کہی وہ بات ہم پہلے سے جانتے تھے……. یہ بات کہ بی جے پی اقتدار میں بنی رہے گی ‘ کم از کم ۲۰ برسوں تک رہے گی ‘ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ۲۰ برس بعد اسے اقتدار سے ‘ دہلی سے بے دخل کیا جا ئے گا ‘ نہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کم از کم ۲۰ برسوں تک یہ دہلی پر حکمرانی کرے گی اور …….اور۲۰ برسوں بعد اسے اقتدار سے بے دخل کیا جائے گا ‘ اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے …….بالکل بھی نہیں ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ اور ہمارے لئے کوئی بریکنگ نیوز ہے اور نہ کوئی دل دکھانے والی بات ۔ ہاں اپوزیشن کیلئے یہ بات کسی صدمے سے کم نہیں ہو گی اور اس لئے نہیں ہو گی کیونکہ وہ بھی ذہینی طور پر اس بات کیلئے تیار ہے کہ ۲۰ برسوں تک بی جے پی دہلی پر راج کرے گی ‘ لیکن ۲۰ برسوں بعد بھی ‘ اس کیلئے وہ تیار نہیں ہو گی ۔ ……. پر صاحب اسے تیار رہنا ہو گا اور اس لئے رہنا ہو گا کہ جس تیز رفتار سے بی جے پی ریاست کے بعد ریاست پر قبضہ ……. اقتدار پر قبضہ کررہی ہے ‘ اسے دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں اور سو فیصد کہہ سکتے ہیں کہ جب ۲۰ برس ہو جائیں گے تو ……. تو ملک کا سیاسی نقشہ کچھ ایسے ہو گا کہ کوئی جماعت ‘ کوئی سیاسی گروپ بی جے پی کو چیلنج کرنے کیلئے بچا ہی نہیں ہو گا …….پھر ۲۰ برس کیا اور۲۰۰ برس کیا ۔ ہے نا؟



