جموں و کشمیر کے ضلع ادھمپور میں پیر کی صبح پیش آنے والا المناک سڑک حادثہ، جس میں ۲۱ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہمارے سڑک نظام میں خامیاں اب بھی جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی بدقسمتی سے آخری لگتا ہے۔ وادی سے جموں تک، پہاڑی سڑکوں پر آئے دن پیش آنے والے حادثات ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس پر وقتی افسوس اور اعلانات تو ہوتے ہیں مگر دیرپا حل اب بھی تشنۂ تکمیل ہے۔
حکومت ہر بڑے حادثے کے بعد روایتی طور پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، معاوضے کا اعلان ہوتا ہے اور تحقیقات کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی دہرایا جاتا ہے کہ سڑک حادثات میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی مؤثر اقدامات ہو رہے ہیں تو پھر ایسے ہولناک حادثات کی تکرار کیوں ہو رہی ہے؟ کیا یہ محض اتفاقات ہیں یا کسی گہرے نظامی خلل کی نشاندہی کرتے ہیں؟
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر حادثے کا بوجھ مکمل طور پر حکومت پر ڈال دینا بھی درست تجزیہ نہیں۔ زمینی سطح پر کئی عوامل ایسے ہیں جو ان حادثات کو جنم دیتے ہیں۔ اوورلوڈنگ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مسافر بردار گاڑیاں، خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں چلنے والی، اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافروں کو لے کر چلتی ہیں۔ یہ نہ صرف ٹریفک قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی نقصان کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
اسی طرح ڈرائیوروں کی تیز رفتاری اور بعض اوقات غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ بھی بڑے حادثات کا سبب بنتی ہے۔ پہاڑی سڑکیں، جہاں ایک طرف گہری کھائیاں اور دوسری طرف تنگ موڑ ہوتے ہیں، وہاں معمولی سی لاپرواہی بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود اکثر ڈرائیور وقت بچانے یا زیادہ چکر لگانے کی دوڑ میں رفتار پر قابو نہیں رکھتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان رویوں پر قابو پانے کے لیے نگرانی کا نظام مؤثر ہے؟
یہاں حکومت کی ذمہ داری دوبارہ اہم ہو جاتی ہے۔ ٹریفک قوانین کا نفاذ اگر سخت اور بلا امتیاز ہو تو اوورلوڈنگ اور تیز رفتاری جیسے مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کئی علاقوں میں چیکنگ کا نظام یا تو کمزور ہے یا مستقل بنیادوں پر فعال نہیں۔ کہیں کہیں بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں، جہاں معمولی جرمانہ یا اثر و رسوخ کے ذریعے قانون کی خلاف ورزی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
سڑکوں کی حالت بھی ایک اہم عنصر ہے۔ جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں کئی سڑکیں تنگ، خستہ حال اور حفاظتی انتظامات سے محروم ہیں۔ گارڈ ریلز (حفاظتی ریلنگ)، مناسب سائن بورڈز، روشنی اور بروقت مرمت جیسے بنیادی اقدامات کی کمی حادثات کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ بارشوں یا برفباری کے بعد سڑکوں کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے، جس کے باوجود ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہتا ہے۔
ایک اور پہلو جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ ڈرائیوروں کی تربیت اور فٹنس ہے۔ کیا تمام ڈرائیور واقعی ان دشوار گزار راستوں پر گاڑی چلانے کے اہل ہوتے ہیں؟ کیا ان کے لائسنس سخت جانچ کے بعد جاری کیے جاتے ہیں؟ اور کیا ان کی وقتاً فوقتاً میڈیکل اور مہارت کی جانچ ہوتی ہے؟ اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں تو پھر اصلاح کی بڑی گنجائش موجود ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بھی ایک کلیدی عنصر ہے۔ مسافر خود بھی اکثر اوورلوڈنگ کا حصہ بن جاتے ہیں، صرف اس لیے کہ انہیں جلدی اپنی منزل تک پہنچنا ہوتا ہے یا متبادل ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر مسافر خود ایسے خطرناک سفر سے انکار کریں تو ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹ مالکان پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ قواعد کی پابندی کریں۔
ادھمپور کا حالیہ حادثہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک وارننگ ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ مسئلہ کثیر الجہتی ہے اور اس کا حل بھی ہمہ جہتی ہونا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ محض اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ سڑکوں کی بہتری، جدید نگرانی نظام، سی سی ٹی وی اور اسپیڈ کنٹرول ٹیکنالوجی کا استعمال، اور ٹریفک پولیس کی مؤثر تعیناتی وقت کی ضرورت ہے۔
اسی کے ساتھ سخت قانون سازی اور اس پر بلا امتیاز عملدرآمد ناگزیر ہے۔ اوورلوڈنگ پر بھاری جرمانے اور لائسنس کی معطلی جیسے اقدامات ہی اس رجحان کو روک سکتے ہیں۔ ڈرائیوروں کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا، خاص طور پر پہاڑی علاقوں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام متعارف کرانے ہوں گے۔
آخر میں، یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حکومت، انتظامیہ، ڈرائیور اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک ہم اس مسئلے کو صرف حادثہ سمجھ کر بھولتے رہیں گے، تب تک یہ سانحات دہراتے رہیں گے۔ ادھمپور کے اس دردناک واقعے کو ایک موڑ بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس سے سبق سیکھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
یہ ۲۱ جانیں صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ۲۱ خاندانوں کی دنیا تھیں جو ایک لمحے میں اجڑ گئیں۔ ان کی یاد ہمیں یہ احساس دلاتی رہنی چاہیے کہ سڑک پر احتیاط محض ایک اصول نہیں، بلکہ زندگی اور موت کے درمیان فرق ہے۔



