صاحب جب کہہ دیا کہ ایک مناسب وقت پر کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کیا جائےگا تو…. تو بس ۔ اس کے آگے اب ایک لفظ بھی کہنے اور سننے کی گنجائش نہیں رہتی ہے اور….اور اس لئے نہیں رہتی ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں مرکز نے کم از کم سات درجن بار یہ یقین د ہانی کرائی ہو گی…. وہ بھی پارلیمنٹ میں کہ کشمیر کا ایک مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کیا جائےگا …. لیکن ایک گورے گورے بانکے چھورے ‘وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ ہیں‘ جنہیں اس یقین دہانی پر یقین ہے اور نہ صبر ۔تھوڑا انتظار کیجئے ‘ صبر کیجئے اور…. اور اس مناسب وقت کے آنے کا انتظا رکیجئے جو گزشتہ سات برسوں سے نہیں آرہا ہے …. لیکن اس کا یہ ہر گز بھی مطلب نہیں کہ یہ مناسب وقت آئے گا ہی نہیں …. نہیں اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہو سکتا ہے ۔ ہمیں امید سے زیادہ یقین ہے ایک مناسب وقت پر یہ مناسب وقت آئے گا اور…. اور مرکز اپنا وعدہ نبھائے گا…. تب تک یو ٹی کے درجہ کے ساتھ ہی گزارا کیجئے کہ …. کہ اللہ میاں کی قسم اس درجے سے کم از کم ہمیں تو کانٹے نہیں لگ رہے ہیں…. جن کو اس سے مرچیں لگ رہی ہیں…. ہم ان سے صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ صاحب جب کشمیر ایک ملک…. معاف کیجئے گا کہنے کا مطلب ہے ریاست تھی تب آپ نے اس ریاست کے ساتھ کیا کیا …. آپ کو تو کئی مواقع آئے …. کئی بار آپ حکومت میں رہے…. کئی بار کیا ‘ آپ ہی ہر بار حکومت میں رہے …. پھر آپ نے اس ریاست کے ساتھ کون سا انصاف کیا ‘ اس کےلئے کون سے تارے توڑ لائے ‘ اس کے ہاں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں‘ بنیادی ڈھانچے میں کون سی انقلابی تبدیلیاں لائیں ‘ کون سے روز گار کے مواقع پیدا کئے …. امن اور قانون کےلئے کون سا قدم اٹھایا …. لوگوں کے مسائل حل کرنے میں آپ نے کون سی دلچسپی دکھائی‘ کرپشن کے خاتمے کےلئے آپ نے کیا کوشش کی جو…. جو آج آپ ریاستی درجے کی بحالی کی با ت کررہے ہیں اور…. اور ہر ایک بات میں کررہے ہیں ۔ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ مناسب وقت یقیناً آئے گا اور…. اور ایک مناسب وقت پر آئےگا۔تب تک آپ انتظار کیجئے‘ اورہاں صبر بھی ۔ ہے نا؟



