ایک مہم، ایک چیلنج اور اجتماعی ذمہ داری بھی
جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے حالیہ برسوں میں ایک سنگین سماجی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ مسئلہ اب چند افراد یا مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے معاشرے، خصوصاً نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسے میں ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے تحت۱۰۰ روزہ مہم کا اعلان ایک خوش آئند قدم ضرور ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ مہم اس گہرے اور پیچیدہ مسئلے کا مؤثر حل پیش کر سکے گی؟
گزشتہ چند برسوں کے دوران وادی اور جموں خطے میں منشیات کے استعمال میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ہوں یا غیر سرکاری رپورٹس، سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوان تیزی سے اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں سے لے کر دور دراز دیہات تک، کہیں بھی اس خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ اور مقامی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا مضبوط نیٹ ورک ہے، جسے توڑنا محض ایک انتظامی چیلنج نہیں بلکہ ایک منظم اور طویل المدتی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے اس مہم کو ’جن آندولن‘ بنانے پر زور دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ مسئلہ صرف حکومتی اقدامات سے حل نہیں ہو سکتا۔ جب تک عوام، خاص طور پر والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی کے دیگر طبقات اس میں فعال کردار ادا نہیں کریں گے، تب تک کسی بھی مہم کی کامیابی محدود رہے گی۔ نشے کے خلاف لڑائی دراصل گھروں، محلوں اور تعلیمی اداروں سے شروع ہوتی ہے، جہاں شعور اور نگرانی دونوں کی ضرورت ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ منشیات کا مسئلہ محض قانون نافذ کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی بحران ہے۔ بے روزگاری، ذہنی دباؤ، مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور سماجی بے چینی جیسے عوامل نوجوانوں کو اس طرف دھکیلتے ہیں۔ ایسے میں اگر صرف کریک ڈاؤن پر انحصار کیا جائے اور بحالی و مشاورت کے پہلو کو نظر انداز کیا جائے تو مسئلہ جڑ سے ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے نشہ کے عادی افراد کو مجرم کے بجائے مریض کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی بحالی ممکن ہو سکے۔
انتظامیہ کی جانب سے یہ یقین دہانی کہ’بے گناہوں کو نہ چھیڑا جائے اور مجرموں کو نہ بخشا جائے‘ ایک متوازن نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم اس اصول پر عملدرآمد ہی اصل امتحان ہوگا۔ ماضی میں کئی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران بعض بے گناہ افراد بھی متاثر ہوئے، جس سے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مہم کے دوران شفافیت، احتساب اور انصاف کے اصولوں کو سختی سے ملحوظ رکھا جائے۔
اس مہم کے تحت مختلف بیداری پروگراموں، پدیاترا اور عوامی اجتماعات کا انعقاد یقیناً شعور بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سرگرمیاں وقتی جوش و خروش تک محدود رہیں گی یا ان کے اثرات دیرپا ہوں گے؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایسی مہمات اکثر ابتدائی دنوں میں تو سرگرم رہتی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس۱۰۰روزہ مہم کو ایک مستقل اور مربوط حکمت عملی میں تبدیل کیا جائے، جس کے تحت مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہتری کا عمل جاری رہے۔
ضلع سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل، ہیلپ لائن نمبروں کی تشہیر اور یوتھ کلبوں کا قیام مثبت اقدامات ہیں۔ خاص طور پر یوتھ کلب نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ کھیل، ثقافتی سرگرمیاں اور ہنر مندی کے پروگرام نوجوانوں کو مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں نشے سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار ان کے مؤثر نفاذ اور تسلسل پر ہوگا۔
ایک اور اہم پہلو مخبروں کی حفاظت اور عوامی شرکت کا ہے۔ اگر لوگ بغیر خوف کے منشیات کے نیٹ ورکس کے بارے میں اطلاع دے سکیں تو اس لعنت کے خاتمے میں بڑی پیش رفت ممکن ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ واقعی ان کی شناخت کو محفوظ رکھے اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچنے دے۔ عوامی تعاون صرف اپیلوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اعتماد سازی سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف سڑکوں، اسکولوں اور دفاتر میں نہیں لڑی جا سکتی بلکہ اسے ذہنوں اور رویوں میں بھی جیتنا ہوگا۔ اس کے لیے میڈیا، تعلیمی نصاب اور مذہبی و سماجی بیانیے کو بھی اس مہم کا حصہ بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ نشہ نہ صرف ان کی صحت بلکہ ان کے مستقبل، خاندان اور پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ ایک اہم اور بروقت قدم ہے، مگر اس کی کامیابی کا دارومدار صرف حکومتی عزم پر نہیں بلکہ اجتماعی شعور اور مسلسل کوششوں پر ہے۔ یہ ایک دن، ایک مہینے یا۱۰۰دن کی جنگ نہیں بلکہ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد ہے۔ اگر اس مہم کو سنجیدگی، دیانتداری اور عوامی شمولیت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یقیناً ایک مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ ورنہ یہ بھی دیگر مہمات کی طرح محض ایک وقتی اقدام بن کر رہ جائے گی۔
اب فیصلہ ہمارے معاشرے کے ہاتھ میں ہے‘کیا ہم اس چیلنج کو سنجیدگی سے قبول کریں گے یا اسے ایک اور خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



