جموں و کشمیر صحت عامہ کا بحران خاموشی سے گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ ایک بڑے نظامی خلل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔
کشمیر میں۲۰۱۸سے۲۰۲۴ کے درمیان۵۰ ہزار سے زائد کینسر کیسز کا سامنے آنا محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، ماحولیاتی اور پالیسی سطح کا چیلنج ہے، جسے اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ کینسر کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔۲۰۱۸ میں۶۶۴۹کیسز سے بڑھ کر۲۰۲۴میں۸۳۵۵کیسز تک پہنچ جانا ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگرچہ۲۰۱۹؍اور۲۰۲۰ میں معمولی کمی دیکھنے کو ملی، مگر ماہرین اسے کووڈ۱۹کے دوران کم رپورٹنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، نہ کہ حقیقی کمی۔ اس کے بعد کے برسوں میں تیزی سے اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ جڑ پکڑ چکا ہے۔
اسی طرح گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے اعداد و شمار بھی ایک سنگین تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں ایک دہائی میں۲۲ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو پھیپھڑوں کے کینسر کا بڑھتا ہوا رجحان ہے، جو کہ تمباکو نوشی، ماحولیاتی آلودگی اور پیشہ ورانہ خطرات سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد چھاتی اور منہ کے کینسر کے کیسز بھی بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ آخر کشمیر میں کینسر اور دیگر غیر متعدی امراض(این سی ڈیز)اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ اس کا جواب کئی عوامل میں پوشیدہ ہے۔ سب سے نمایاں عنصر طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ تمباکو کا استعمال، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی، اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ اس بحران کے بنیادی محرکات ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں۲۳فیصد سے زائد بالغ افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جو کہ قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھیپھڑوں کا کینسر اور دل کے امراض یہاں عام ہوتے جا رہے ہیں۔
صرف کینسر ہی نہیں بلکہ دل کی بیماریاں اور ذیابیطس بھی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں ہر تین میں سے ایک موت دل کی بیماری سے ہوتی ہے۔دل کی بیماری تیزی سے سب سے بڑی قاتل بیماری بن رہی ہے، جبکہ نوجوانوں میں بھی اچانک دل کے دوروں کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ بیماریوں کی نوعیت بدل رہی ہے اور عمر کی حدیں بھی ٹوٹ رہی ہیں۔
ذیابیطس کی صورتحال بھی کم تشویشناک نہیں۔ جموں ڈویژن میں اس کی شرح۱۸ء۹فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ۲۶فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ کشمیر میں بھی۱۰سے۱۲ فیصد بالغ افراد اس بیماری کا شکار ہیں، اور تشویشناک بات یہ ہے کہ تقریباً۱۰ فیصد نوجوان پری ڈائبیٹک ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آنے والے برسوں میں بیماریوں کا بوجھ مزید بڑھے گا۔
ان تمام عوامل میں ایک اور خطرناک پہلو ماحولیاتی اور زرعی کیمیکلز کا بے دریغ استعمال ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ۹۰فیصد دماغی کینسر کے مریض ان علاقوں سے تعلق رکھتے تھے جہاں ان کیمیکلز کا استعمال عام ہے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی بحران بھی ہے۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر مریض بیماری کے آخری مراحل میں ہسپتال پہنچتے ہیں، جب علاج مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کم آگاہی اور اسکریننگ کی ناکافی سہولیات ہیں۔ دیہی علاقوں میں تشخیصی مراکز کی کمی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال ابھرتا ہے:کیا ہمارا صحت کا نظام اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ انفراسٹرکچر پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی کمی، جدید علاج کی سہولیات کا فقدان، اور مہنگا علاج عام آدمی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے—اور وہ ہے روک تھام ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر اور دیگر غیر متعدی امراض کی بڑی تعداد کو طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ تمباکو سے پرہیز، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، اور باقاعدہ میڈیکل چیک اپ نہ صرف بیماریوں کو روک سکتے ہیں بلکہ ان کے اثرات کو بھی کم کر سکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ حکومت اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ ضروری ہے کہ کینسر اسکریننگ پروگرامز کو وسعت دی جائے، دیہی علاقوں میں تشخیصی سہولیات فراہم کی جائیں، اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے۔ عوامی آگاہی مہمات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں، تاکہ لوگ بیماری کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں۔
یہ بحران ہمیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے: ہم علاج پر تو توجہ دے رہے ہیں، مگر روک تھام کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ جب تک یہ سوچ تبدیل نہیں ہوتی، تب تک اعداد و شمار میں اضافہ جاری رہے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیر اس وقت ایک ’خاموش وبا‘کا شکار ہے۔ یہ وبا شور نہیں مچاتی، مگر آہستہ آہستہ زندگیوں کو نگل رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
اگر ابھی بھی ہم نے اجتماعی طور پر قدم نہ اٹھایا، تو آنے والے برسوں میں یہ بحران نہ صرف صحت بلکہ معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کو بھی متاثر کرے گا۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال پوچھیں:یا ہم انتظار کر رہے ہیں کہ یہ بحران ہمیں مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے، یا ہم ابھی جاگ کر اس کا مقابلہ کریں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔



