جموںکشمیر پولیس کی کارروائی میں۱۶برس سے مفرور پاکستانی دہشت گرد ابو حریرہ سمیت ۵ گرفتار
سرینگر سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو بھی دھر لیا گیا ‘ دہشت گردوں کو پناہ، خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کیں
ویب ڈیسک
سرینگر؍۷؍اپریل
سری نگر پولیس نے ایک بڑے بین الریاستی لشکرِ طیبہ(ایل ای ٹی) گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں ایک پاکستانی دہشت گرد عبداللہ عرف ابو حریرہ بھی شامل ہے جو گزشتہ۱۶ برس سے مفرور تھا اور اس دوران اس نے یونین ٹیریٹری سے باہر بھی اپنے ٹھکانے قائم کر لیے تھے، حکام نے منگل کو بتایا۔
ایک دوسرے پاکستانی دہشت گرد‘ عثمان عرف خبیب کو بھی پیر کے روز اسی آپریشن میں گرفتار کیا گیا۔
یہ کارروائی چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے جب جموں و کشمیر پولیس نے ایک’وائٹ کالر‘ دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا، جس کا مرکز فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی میں تھا اور جس کے روابط کشمیر، ہریانہ اور اتر پردیش تک پھیلے ہوئے تھے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران تفتیشی اداروں نے جموں و کشمیر‘ راجستھان اور ہریانہ سمیت۱۹مقامات پر چھاپے مارے اور بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا، جن میں چار اے کے رائفلیں اور دیگر قابلِ اعتراض مواد شامل ہے۔ اس تفتیش، جس میں مرکزی ایجنسیاں بھی شامل ہیں، نے ایک وسیع نیٹ ورک کا انکشاف کیا جو لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں کو لاجسٹک اور مالی معاونت فراہم کر رہا تھا۔
تفصیلات دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں سری نگر کے تین رہائشی بھی ‘محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ اور غلام محمد میر عرف ماما بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو پناہ، خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔
جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات خود اس آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے دونوں پاکستانی دہشت گردوں کو’ اے پلس‘ زمرے میں رکھا گیا ہے اور وہ جعلی دستاویزات اور شناخت کے ذریعے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی لشکرِ طیبہ کا نیٹ ورک قائم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔
ان دہشت گردوں نے تقریباً۱۶سال قبل بھارت میں دراندازی کی تھی اور اس دوران کشمیر وادی کے مختلف اضلاع میں سرگرم رہے۔ ان برسوں میں انہوں نے تقریباً۴۰ غیر ملکی دہشت گردوں کو ہینڈل اور کمانڈ کیا، جن میں سے بیشتر کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔
حکام نے اس نیٹ ورک کو’گہری جڑوں والا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دہشت گردوں کو پناہ گاہیں اور مالی معاونت فراہم کرنے کا منظم نظام شامل تھا۔ تحقیقات میں لشکرِ طیبہ کے مالی وسائل اور فنڈنگ کے طریقہ کار کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
حکام نے کہا کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں کیونکہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ مزید ساتھیوں، مالی معاونین، سہولت کاروں، محفوظ ٹھکانوں اور بین الریاستی روابط کی نشاندہی کی جا سکے۔
مختلف مقامات سے برآمد ہونے والے مواد میں تین اے کے ۴۷رائفلیں، ایک اے کے-کرنکوف، پستول، ہینڈ گرینیڈ، الیکٹرانک آلات اور دیگر سامان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ عبداللہ اور عثمان کے قبضے سے دیگر ریاستوں کے پتوں پر مبنی جعلی دستاویزات بھی برآمد ہوئے ہیں، جو جعلی شناختوں کے استعمال اور ریاست سے باہر سہولت کاری کے ممکنہ نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ پورا نیٹ ورک۳۱ مارچ کو بے نقاب ہونا شروع ہوا جب سری نگر کے پنڈاچ علاقے سے محمد نقیب بھٹ کو ایک پستول اور دیگر قابلِ اعتراض مواد کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔
ابتدائی پوچھ گچھ میں اس نے بتایا کہ وہ لشکرِ طیبہ کا حصہ ہے اور اسلحہ و گولہ بارود ایک اور ساتھی عادل رشید زکوڑہ سے حاصل کرتا تھا۔ اس نے غیر ملکی دہشت گردوں کو بھی سہولت فراہم کی۔
نقیب بٹ کی نشاندہی پر پولیس غلام محمد میر اور عادل رشید بھٹ تک پہنچی، جو سری نگر میں سرگرم ساتھی تھے۔
حکام کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک غیر ملکی دہشت گرد نے جعلی دستاویزات اور شناخت کے ذریعے ملک سے باہر سفر کیا، جس میں دیگر ریاستوں میں موجود لشکرِ طیبہ نیٹ ورک نے مدد فراہم کی۔
تفتیش کے دوران گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر سری نگر اور اس کے اطراف جنگلاتی علاقوں میں کئی خفیہ ٹھکانوں کا بھی پتہ لگایا گیا۔
نومبر۲۰۲۵ میں ہونے والے’الفلاح آپریشن‘ کے دوران بھی سری نگر پولیس نے ایک ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا جس میں زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، خاص طور پر ڈاکٹرز، شامل تھے جنہیں شدت پسندی کی طرف مائل کیا گیا تھا۔
ان میں سے ایک ملزم الفلاح یونیورسٹی کا ڈاکٹر عمر النبی تھا، جو۱۰نومبر کو لال قلعہ کے باہر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی چلا رہا تھا، جس کے دھماکے میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق وہ اس سے قبل۲۰۱۶اور۲۰۱۸ میں بھی دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کی ناکام کوششیں کر چکا تھا۔ (ایجنسیاں)










