ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

اسمبلی کا حالیہ بجٹ اجلاس

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-07
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس کا اختتام مجموعی طور پر ایک مثبت نوٹ پر ہوا، جہاں طویل عرصے کے بعد کارروائی نسبتاً ہموار اور بامقصد دکھائی دی۔ تاہم آخری دن پیش آنے والی گرما گرم بحث نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا ہمارے منتخب نمائندے واقعی عوامی مسائل کو ترجیح دے رہے ہیں یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نے ایوان کے وقار کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

وزیر تعلیم سکینہ ایتو اور پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ایک وقتی سیاسی جھڑپ نہیں تھی بلکہ اس نے اس بڑے مسئلے کو اجاگر کیا جس کا سامنا ہمارے جمہوری ادارے طویل عرصے سے کر رہے ہیں‘یعنی بحث کا معیار اور ترجیحات کا فقدان۔

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

ایک طرف وزیر کی جانب سے ۲۰۱۶ کے متنازعہ ’دودھ اور ٹافیاں‘ والے بیان کو بار بار دہرانا، اور دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے ذاتی نوعیت کے حملے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی مکالمہ کس حد تک اپنی سنجیدگی کھو چکا ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ کہ اپوزیشن کا کام حکومت کو جوابدہ بنانا ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کا دفاع کرے۔ لیکن جب بحث کا محور عوامی مسائل سے ہٹ کر ذاتی الزامات اور ماضی کے بیانات پر آ جائے تو اس کا نقصان براہ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسکولوں کی اپ گریڈیشن جیسے اہم مسئلے پر شروع ہونے والی بحث کا رخ جس طرح ذاتیات کی طرف مڑ گیا، وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ تشویشناک بھی۔

وزیر تعلیم کی جانب سے پی ڈی پی کو جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، خصوصاً دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی اور ریاست کی یونین ٹیریٹری میں تبدیلی کا ذمہ دار ٹھہرانا ایک سیاسی موقف ہو سکتا ہے، لیکن اس کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے، یہ ایک الگ بحث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی بھارتیہ جنتا پارٹی کے دیرینہ سیاسی ایجنڈے کا حصہ رہی ہے۔ ۲۰۱۹ میں جب اسے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تو اس نے اس ایجنڈے کو عملی جامہ پہنایا۔ ایسے میں یہ کہنا کہ اگر ۲۰۱۴ میں پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہ کیا ہوتا تو یہ فیصلہ نہ ہوتا، ایک سادہ بیانیہ تو ہو سکتا ہے، مگر مکمل حقیقت نہیں۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ سیاست میں اتحاد اور مفاہمت اکثر حالات کے تحت کیے جاتے ہیں، اور ان کے نتائج ہمیشہ پیش گوئی کے مطابق نہیں ہوتے۔ پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد پر تنقید اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن اسے تمام موجودہ مسائل کی جڑ قرار دینا ایک حد تک سیاسی سہولت پسندی معلوم ہوتی ہے۔

دوسری جانب، اپوزیشن کی جانب سے بھی جو رویہ اختیار کیا گیا، وہ کسی طور قابل دفاع نہیں۔ وحید الرحمان پرہ کی جانب سے وزیر تعلیم پر ذاتی حملہ، خصوصاً ان کی تعلیمی قابلیت کو نشانہ بنانا، اس بات کا مظہر ہے کہ بحث کا معیار کس قدر نیچے جا چکا ہے۔ جمہوری ایوان میں دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ ذاتیات کے ذریعے۔

اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ بجٹ اجلاس کارکردگی کے لحاظ سے خاصا فعال رہا۔ ۲۲ نشستیں، ہزاروں منٹ کی کارروائی، سینکڑوں سوالات، اور متعدد بلوں کی منظوری—یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایوان نے اپنے آئینی فرائض انجام دیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض عددی کارکردگی ہی کامیابی کا معیار ہے؟

جمہوریت کی اصل روح صرف قانون سازی یا سوالات کے جوابات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا دارومدار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ ایوان میں ہونے والی بحث کس حد تک بامعنی، مہذب اور عوامی مسائل سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ایوان میں ہونے والی گفتگو ذاتی الزامات، سیاسی طنز اور ماضی کی تلخیوں تک محدود ہو جائے تو پھر یہ کارکردگی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس اجلاس میں ماضی کے مقابلے میں کم ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی، جو ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ لیکن آخری دن پیش آنے والا واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ابھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسمبلی محض ایک سیاسی میدان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ادارہ ہے جہاں ہر لفظ اور ہر عمل عوام کی نظر میں ہوتا ہے۔

عوام اپنے نمائندوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل،تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر—پر توجہ دیں گے۔ جب یہ نمائندے ذاتی نوعیت کے حملوں میں مصروف ہو جاتے ہیں تو یہ اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوجوان نسل کو جو پیغام جاتا ہے، وہ بھی مثبت نہیں ہوتا۔

سیاست میں اختلاف رائے فطری ہے اور یہی جمہوریت کی خوبصورتی بھی ہے۔ لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا اور بحث کو ذاتیات تک لے جانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ایوان میں ہونے والی ہر بحث کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جموں و کشمیر اسمبلی کا حالیہ بجٹ اجلاس مجموعی طور پر ایک مثبت پیش رفت تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی صرف کارکردگی سے نہیں بلکہ رویوں سے بھی ہوتی ہے۔ اگر سیاسی قیادت اپنے طرز عمل میں سنجیدگی، برداشت اور شائستگی کو جگہ دے تو نہ صرف ایوان کا وقار بلند ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال رہے گا۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اصل سیاست شروع ہوتی ہے—عوام کے لیے، عوام کے ساتھ، اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’یو سی سی بی جے پی کا نامکمل ایجنڈا‘

Next Post

زندگی ….!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

زندگی ....!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.