مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ جنگ، عدم استحکام اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث بیشتر ممالک شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ کئی معیشتیں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور قلت کے سبب عوامی بے چینی کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت کا منظرنامہ نسبتاً مختلف دکھائی دیتا ہے، جہاں مؤثر حکمتِ عملی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے نہ صرف سپلائی برقرار رکھی گئی بلکہ عام آدمی کو بڑے پیمانے پر بحران سے محفوظ بھی رکھا گیا۔
دنیا کے کئی خطوں میں پٹرول اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے متعدد ممالک میں عوام کو لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ایندھن حاصل کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بعض جگہوں پر راشن بندی جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ اس کے برعکس بھارت میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی فراہمی تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جو ایک منظم اور پیشگی منصوبہ بندی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔
یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً پچاس فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود بھارت میں ایندھن کی قیمتوں کو بڑی حد تک قابو میں رکھا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اگرچہ پٹرول کی قیمت میں تقریباً دو روپے فی لیٹر اضافہ ہوا، لیکن اسے ایک معمولی اور قابلِ برداشت اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب عالمی سطح پر قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہو۔ اسی طرح گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں کو بھی مستحکم رکھا گیا ہے، جو متوسط اور نچلے طبقے کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
اس صورتحال کے پس منظر میں بھارت کی خارجہ پالیسی کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات اور توانائی کے متنوع ذرائع تک رسائی نے بھارت کو ایک مستحکم پوزیشن میں رکھا ہے۔ توانائی کی درآمدات کو ایک ہی خطے تک محدود نہ رکھنا اور مختلف سپلائرز کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ایک ایسا قدم ہے جس نے موجودہ بحران کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے اندرونِ ملک سطح پر کیے گئے اقدامات بھی اہم ہیں۔ اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کا قیام، توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ، اور قیمتوں کے تعین میں لچکدار پالیسی نے اس استحکام کو ممکن بنایا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد یہی تھا کہ کسی بھی عالمی بحران کی صورت میں ملک کو فوری جھٹکا نہ لگے اور عام آدمی متاثر نہ ہو۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک بڑی حد تک مستحکم رہیں۔ مارچ میں دو روپے فی لیٹر کی کمی کے بعد قیمتوں کو منجمد رکھا گیا، جس سے عوام کو کچھ حد تک راحت ملی۔ اس کے برعکس کئی ممالک میں قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہی ہیں، جس سے معاشی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
تاہم، اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کمرشل ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ کاروباری طبقہ، خاص طور پر ہوٹل اور چھوٹے تاجر، اس اضافے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ بھارت مکمل طور پر عالمی اثرات سے محفوظ ہے، شاید مبالغہ ہوگا۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اثرات کو محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔
سیاسی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے بحران کو مؤثر طریقے سے سنبھالا، جبکہ اپوزیشن اس میں خامیوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ فی الحال ملک میں ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں کا استحکام عوامی سطح پر اطمینان کا باعث ہے۔ اس طرح کے حالات میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سطح پر استحکام کو برقرار رکھنا ایک مشترکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔
وزیر اعظم نریندرمودی نےاس طرف اشارہ کرتے ہوئے گجرات میں ایک ریلی سے خطاب میں کہاکہ جب دنیا جنگ، بے چینی اور بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کا سامنا کر رہی ہے، بھارت نے مضبوط خارجہ پالیسی اور عوام کے اتحاد کے ذریعے اس صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ کہ مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً۱۰فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن مرکزی حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اس کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک میں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے کہ لوگ پیٹرول پمپوں اور گیس ایجنسیوں پر قطاریں لگانے پر مجبور ہو جائیں۔
مزید برآں، قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں بھارت کی پیش رفت بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے نہ صرف مستقبل کے لیے امید افزا ہیں بلکہ موجودہ بحران جیسے حالات میں بھی ایک متبادل راستہ فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ شعبہ مزید مضبوط ہوتا ہے تو آنے والے برسوں میں بھارت کو بیرونی انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ عالمی بحران نے ہر ملک کی حکمتِ عملی کو پرکھا ہے۔ کچھ ممالک اس امتحان میں مشکلات کا شکار ہوئے، جبکہ بھارت نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ یہ کامیابی صرف حکومتی اقدامات کا نتیجہ نہیں بلکہ عوامی نظم و ضبط اور اجتماعی شعور کا بھی عکس ہے۔
مگر سوال یہی رہتا ہے کہ کیا یہ استحکام طویل عرصے تک برقرار رہ سکے گا؟ عالمی حالات ابھی بھی غیر یقینی ہیں، اور توانائی کی منڈی کسی بھی وقت نئی کروٹ لے سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ پالیسیوں کو مزید مضبوط بنایا جائے، متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے، اور عوام کو بھی اس بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار رکھا جائے۔
یوں لگتا ہے کہ ابھی تک کشتی سنبھلی ہوئی ہے‘لیکن سمندر پرسکون نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





