کسی چیز کی خواہش یا اس کا اظہار کوئی گناہ نہیں ہے ‘کوئی جرم بھی نہیں ہے کہ آپ بھی اپنی کسی خواہش کا اظہار کر سکتے ہیں کہ اللہ میاں نے ہمارے منہ میں بغیر کسی ہڈی کے گوشت کا جو ایک عدد ٹکڑا عنایت فرمایا ہے اس کا کام ہی یہی ہے …….یہ ہے کہ یہ آپ کی کسی خواہش کو الفاظ کے پیراہن میں پیش کرے …….سو اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ نے بھی ایک ……. صرف ایک عدد خواہش کا اظہار کیا ہے …….اس خواہش کا کہ ان کی خواہش ہے کہ چار ریاستوں اور ایک یوٹی میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں اپوزیشن جماعتیں کامیاب ہوں …….یہ وزیر اعلیٰ صاحب کی خواہش ہے…….صرف خواہش کہ من ہی من میں یہ جناب بھی جانتے ہیں ‘ اور اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کی جو خواہش ہے وہ صرف خواہش ہی رہ سکتی ہے ……. حقیقت نہیں بن سکتی ہے کہ الیکشن کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کی کوئی بھی خواہش پوری ہو ‘ ایسا ہو نہیں سکتا ہے……. بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے …….اب کی بار تو اپنی ممتا جی کی بھی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے اور ……. اور عین ممکن ہے کہ چوتھی بار بھی وزیر اعلیٰ بننے کی ان کی خواہش……. خواہش ہی رہے کہ……. کہ بی جے پی کا سارا زور یا سب سے زیادہ زور اسی ایک ریاست پر ہے ۔بی جے پی جانتی ہے کہ آسام اس کی مٹھی میں ہے ……. ان انتخابات میں سبھی سیاسی جماعتوں کی کوئی نہ کوئی خواہش ہے ……. ایسی خواہش جو پوری بھی ہو سکتی ہے ……. لیکن صرف ایک ایسی جماعت ہے جس نے ایسی کسی خواہش کا اظہا ر نہیںکیا ہےاور ……. اور اس لئے نہیں کیا ہے کیونکہ وہ جانتی ہے …….یہ جانتی ہے کہ ……. کہ یہ الیکشن بھی اس کیلئے کوئی خوش خبر نہیں لائے گا اور ……. اور بالکل بھی نہیں لائے گا کہ بے چارے راہل بابا کی قسمت ہی خراب ہے …….یا بے چارے کی قسمت میں الیکشن میں جیتنا نہیں لکھا ہے …….اور بالکل بھی نہیں لکھا ہے ۔ اور اسی لئے ہمیں یقین ہے اور سو فیصد یقین ہے کہ اپنے وزیر اعلیٰ نے جس خواہش کا اظہار کیا ہے ……. اور دل سے کیا ہے ‘ ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی ……. پوری نہیں ہو سکتی ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو سکتی ہے ۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔




