جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

فیک نیوز کا سیلاب:

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-29
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

 

 قانون، ذمہ داری اور سچ کی بقا کا امتحان

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

            جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں فیک نیوز اور غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ہونے والی حالیہ بحث اُس گہرے بحران کی عکاسی تھی جس نے نہ صرف صحافت بلکہ پورے سماج کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

            اسپیکر عبدالرحیم راتھر اور دیگر اراکین کی جانب سے ایک جامع قانونی فریم ورک کی ضرورت پر زور دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ مسئلہ اب محض اخلاقی اپیلوں سے حل ہونے والا نہیں رہا، بلکہ اس کے لیے مضبوط، متوازن اور دور اندیش پالیسی سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

            یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سوشل میڈیا کی آمد نے معلومات کے بہاؤ کو جمہوری بنا دیا ہے۔ اب خبر کسی ایک ادارے یا چند بڑے میڈیا ہاؤسز کی جاگیر نہیں رہی۔ ہر فرد ایک ممکنہ ’براڈکاسٹر‘ ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے خوش آئند تھی، مگر اس کے ساتھ جو غیر ذمہ داری، بے لگامی اور سنسنی خیزی جڑی، اس نے سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کو دھندلا کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج خبر سے زیادہ ’وائرل‘ ہونا اہم ہو گیا ہے، اور تصدیق سے زیادہ رفتار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

            اسمبلی میں اٹھنے والی آوازیں اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ایک طرف قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف آزادی اظہار کے تحفظ کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ یہی وہ نازک توازن ہے جسے قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر قانون بہت سخت ہوا تو یہ اختلافی آوازوں کو دبانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، اور اگر بہت نرم رہا تو فیک نیوز کا سیلاب یونہی جاری رہے گا۔ اس لیے وہی قانون مؤثر ہو سکتا ہے جو نہ صرف واضح ہو بلکہ اس کے نفاذ کا طریقہ کار بھی شفاف اور غیر جانبدار ہو۔

            نائب وزیر اعلیٰ‘سرندر سنگھ چودھری کی یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ میڈیا کو خود احتسابی کرنی ہوگی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ ماحول میں خود احتسابی ممکن ہے؟ جب ریٹنگ، ویوز اور فالوورز ہی کامیابی کا پیمانہ بن جائیں، تو سچائی اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ صحافت جو کبھی ذمہ داری، تحقیق

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

منشیات نیٹ ورکوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت

Next Post

فیک نیوز اور فیک جرنلسٹ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

فیک نیوز اور فیک جرنلسٹ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.