جموں و کشمیر کی سیاست میں ہر نئی تجویز محض ایک انتظامی قدم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے سیاسی معنی، علاقائی حساسیت اور عوامی توقعات کی ایک پوری دنیا جڑی ہوتی ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ کی جانب سے پیش کردہ نجی بل‘جس میں چناب اور پیر پنجال کے نام سے دو نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے‘بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس بل کو لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا کی جانب سے اسمبلی میں پیش کرنے اور اس پر غور کی اجازت ملنا ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل نے اس بحث کو سیاسی رنگ بھی دے دیا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا اس بل کی مخالفت واقعی اس کے مواد اور ممکنہ اثرات کی بنیاد پر ہو رہی ہے، یا پھر محض اس لیے کہ یہ ایک حریف سیاسی جماعت کے رکن کی جانب سے پیش کیا گیا ہے؟ جمہوری نظام کی روح یہی ہے کہ کسی بھی تجویز کو اس کی افادیت، عوامی فائدے اور عملی امکان کی بنیاد پر پرکھا جائے، نہ کہ صرف اس کے پیش کنندہ کی سیاسی وابستگی کو دیکھ کر رد کر دیا جائے۔
چناب اور پیر پنجال خطے جموں صوبے کے وہ علاقے ہیں جو جغرافیائی لحاظ سے نہ صرف دور افتادہ ہیں بلکہ کئی حوالوں سے پسماندگی کا شکار بھی رہے ہیں۔ ان علاقوں کے عوام کو اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے جموں جیسے مرکزی مقام تک طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ صرف فاصلے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ وقت، وسائل اور سہولتوں کی کمی بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر انتظامی سطح پر ان خطوں کو الگ صوبائی حیثیت دی جائے تو ممکن ہے کہ مقامی سطح پر فیصلہ سازی تیز ہو، عوامی مسائل کا حل قریب تر ہو اور حکمرانی کا عمل زیادہ موثر بن سکے۔
تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ نئے صوبوں کا قیام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک بھاری مالی بوجھ بھی جڑا ہوتا ہے۔ نئے سیکریٹریٹ، دفاتر، عملہ، بنیادی ڈھانچے اور دیگر انتظامی اخراجات ایک ایسے خطے کے لیے سوالیہ نشان بن سکتے ہیں جہاں پہلے ہی مالی وسائل محدود ہیں۔ کیا جموں و کشمیر کا موجودہ خزانہ اس بوجھ کو برداشت کر سکتا ہے؟ کیا یہ اقدام ترقی کے نام پر ایک نیا مالی دباؤ پیدا نہیں کرے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
سیاسی جماعتوں کا ردعمل بھی اپنی جگہ قابل غور ہے۔ نیشنل کانفرنس اور بی جے پی نے اس بل کو سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے اسے عوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کہا ہے۔ بظاہر یہ تنقید سیاسی حقیقت پسندی کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ چار دہائیوں میں بہت کم نجی رکن بل قانون کی شکل اختیار کر سکے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پرہ کا بل واقعی ایک مشکل راستے پر ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا کسی تجویز کو صرف اس لیے نظر انداز کر دینا چاہیے کہ اس کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں؟
جمہوریت میں بعض اوقات تجاویز اپنی عملی کامیابی سے زیادہ ایک بحث کو جنم دینے کے لیے اہم ہوتی ہیں۔ یہ بل بھی شاید اسی نوعیت کا ہے‘ایک ایسا نکتہ آغاز جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ واقعی ان دور دراز علاقوں کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں، تو پھر متبادل کیا ہو سکتے ہیں؟ کیا مکمل صوبائی درجہ دینا ہی واحد حل ہے، یا اس کے بغیر بھی انتظامی اصلاحات کے ذریعے بہتری لائی جا سکتی ہے؟
یہاں ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا:جموں و کشمیر کی سیاست میں علاقائی شناخت ہمیشہ ایک حساس موضوع رہی ہے۔ نئے صوبوں کا قیام نہ صرف انتظامی نقشہ بدلتا ہے بلکہ اس کے ساتھ شناخت، نمائندگی اور وسائل کی تقسیم کے سوالات بھی جڑ جاتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی فیصلے سے پہلے اس کے سماجی اور سیاسی اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جو مستقبل میں نئے تنازعات کو جنم دے۔
وحید پرہ کے اس اقدام کے پیچھے کیا نیت ہے‘یہ ایک الگ بحث ہو سکتی ہے۔ سیاست میں نیت اور حکمت عملی اکثر ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ ممکن ہے کہ اس بل کے پیچھے واقعی کچھ سیاسی مقاصد ہوں، لیکن اس امکان کی بنیاد پر اس کی مکمل نفی کرنا شاید درست نہیں۔ ہر تجویز کو کم از کم اس حد تک سنجیدگی ضرور ملنی چاہیے کہ اس پر کھلے ذہن کے ساتھ بحث ہو سکے۔
اسمبلی جیسے ادارے کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہاں مختلف آراء سامنے آئیں، ان پر بحث ہو، اختلاف ہو، اور پھر کسی نتیجے تک پہنچا جائے۔ اگر ہر تجویز کو ابتدا ہی میں سیاسی عینک سے دیکھ کر مسترد کر دیا جائے تو یہ عمل محض رسمی رہ جائے گا، جس میں عوامی مفاد کہیں پیچھے رہ جائے گا۔
آخر میں بات وہیں آ کر ٹھہرتی ہے:کیا چناب اور پیر پنجال کو الگ صوبے بنانے سے واقعی عوامی مسائل حل ہوں گے، یا یہ ایک نیا انتظامی اور مالی بوجھ بن جائے گا؟ اس سوال کا جواب نہ تو صرف پی ڈی پی کے پاس ہے اور نہ ہی اس کے مخالفین کے پاس۔ اس کا جواب صرف ایک سنجیدہ، غیر جانبدار اور کھلے مباحثے سے ہی نکل سکتا ہے۔
شاید اصل مسئلہ بل خود نہیں، بلکہ اس پر ہونے والی گفتگو کا معیار ہے۔ اگر گفتگو نیت پر مرکوز رہے گی تو نتیجہ بھی وہی ہوگا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ لیکن اگر توجہ مسئلے پر رکھی جائے—ان خطوں کی محرومی، فاصلے، سہولتوں کی کمی—تو ممکن ہے کہ اس بل سے ہٹ کر بھی کچھ ایسے راستے نکل آئیں جو واقعی عوام کے کام آئیں۔
کبھی کبھی ایک تجویز کا اصل فائدہ اس کا منظور ہونا نہیں، بلکہ وہ سوال ہوتے ہیں جو وہ ہمارے سامنے چھوڑ جاتی ہے۔ یہ بل بھی کچھ ایسے ہی سوال چھوڑ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ان سوالوں سے بچتے ہیں، یا ان کا سامنا کرتے ہیں۔





