۵؍مسافر زخمی ‘بیشتر ہسپتال سے رخصت ‘دوسری کچھ گاڑیاں بھی برف کے نیچے دب گئیں ‘بچاؤ کارروائی جاری
پھنسے ہوئے افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے‘ایل جی سنہا کی ہدایت
سرینگر؍۲۷مارچ
جمعہ کے روز سرینگر،لہہ شاہراہ پر زوجیلا پاس کے مقام پر ایک بڑے برفانی تودے کی زد میں آکر کم از کم سات افراد جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق کئی مسافر گاڑیاں بھی ملبے تلے دب گئیں۔
حادثے کے بعد شاہراہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اور برف ہٹانے اور ٹریفک کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ، جو خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، نے کہا’’زوجیلا میں برفانی تودے کی افسوسناک خبر ملی۔ میں نے کرگل کے ڈی سی اور ایس ایس پی کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور ریسکیو کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تمام سرکاری ایجنسیاں بشمول ڈیزاسٹر ریلیف فورسز اور بی آر او کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے‘‘۔
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’زوجیلا پاس پر برفانی تودہ گرنے سے۷؍ افراد کی موت اور۵ کے زخمی ہونے کی خبر سن کر افسوس ہوا۔ سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہوں۔ تمام ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے‘‘۔
بارڈر روڈز آرگنائزیشن(بی آر او)اور پولیس کی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
سرینگر،لہہ شاہراہ (این ایچ۱)۴۳۴ کلومیٹر طویل ایک اہم راستہ ہے جو سری نگر کو لہہ سے جوڑتا ہے۔۱۱ہزار۵۷۵ فٹ بلندی پر واقع زوجیلا پاس اپنے دشوار گزار حالات اور شدید برفباری کے باعث موسم سرما میں اکثر بند رہتا ہے۔
اسی مسئلے کے مستقل حل کے لیے زوجیلا پاس پر ایک طویل سرنگ زیر تعمیر ہے، جو مکمل ہونے کے بعد لداخ کو سال بھر محفوظ رابطہ فراہم کرے گی۔ یہ سرنگ تقریباً۱۴ء۲کلومیٹر طویل‘۹ء۵میٹر چوڑی اور تقریباً۱۲ہزارفٹ کی بلندی پر واقع ہوگی، اور تکمیل کے بعد ایشیا کی طویل ترین سرنگوں میں شامل ہوگی۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
کرگل کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر لیاقت علی خان کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو ابتدائی علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ ایک زخمی زیر علاج ہے۔ زخمیوں میں فریدہ بانو(۴۷)‘عابدہ جان(۲۹)‘عبدالقادر(۶۲)‘ ابرار(۲۵)‘ محمد باقر بلتی(۶۳)ساجدہ بانو(۳۲) اور دانش مجید شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اس دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گاندربل کے زوجیلا علاقے میں پیش آئے المناک برفانی تودہ حادثے کے بعد سینئر حکام سے بات کر کے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
سنہا نے اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ پھنسے ہوئے افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔
ایل جی نے کہا’’زوجیلا میں برفانی تودے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید دکھ ہوا ہے۔ اس غم کی گھڑی میں میرا دل سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘










