ایجنسیاں
سرینگر؍۲۱جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرینگر میں حالیہ بارشوں کے بعد مختلف علاقوں، خصوصاً سول سیکریٹریٹ میں پانی جمع ہونے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرینگر اسمارٹ سٹی منصوبے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سول سیکریٹریٹ کی گراؤنڈ فلور پر پانی بھر جانا ایک ’شرمناک‘ واقعہ ہے اور اس معاملے کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’موسم بہتر ہونے دیں، اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کرائی جائیں گی اور اس کے بعد اجتماعی طور پر مناسب کارروائی کی جائے گی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزراء کونسل نے اپنے گزشتہ اجلاس میں اسمارٹ سٹی منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ منصوبہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت نے محسوس کیا ہے کہ منصوبے کے اصل مقاصد اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح فرق موجود ہے، تاہم اس آڈٹ کا باضابطہ حکم ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں نے اسمارٹ سٹی منصوبہ متعارف کرایا اور اس پر عمل درآمد کیا، اصل جواب دہی انہی پر عائد ہوتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا’’بدقسمتی سے آپ یہ سوال ان لوگوں سے نہیں پوچھ سکتے جنہیں اس کا جواب دینا چاہیے۔ جنہوں نے یہاں اسمارٹ سٹی منصوبہ شروع کیا اور نافذ کیا، اور جن سے ہمیں صرف تقریباً دس فیصد باقی ماندہ کام ملا، ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ جہلم ریور فرنٹ منصوبے کے علاوہ اسمارٹ سٹی کے لیے مختص رقم کہاں خرچ ہوئی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سرینگر کے نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، تاہم کئی دہائیوں پرانے اس مسئلے کو مختصر مدت میں مکمل طور پر حل کرنا ممکن نہیں۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ حالیہ بارشوں سے جن افراد کو نقصان پہنچا ہے، ان کے نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔










