وزیر اعلیٰ نے دہلی احتجاج سے دور رہنے پر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا؛ ٹرمپ سے مداخلت مانگنے کے الزامات مسترد
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۲۱ جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس(این سی ) کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس ملنا ہی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج میں شریک نہ ہونے پر سیاسی مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
پیر کو دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کے احتجاج کے ایک روز بعد سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جو جماعتیں احتجاج میں شامل ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر تنقید کرتی رہیں، انہوں نے دراصل عوامی حقوق کی جدوجہد سے خود کو دور رکھا۔
این سی نائب صدر نے کہا’’گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں، وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے‘‘۔انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ۲۰۰۰ میں وجود میں آنے والی ایک سیاسی جماعت مسلسل جموں و کشمیر کے عوام کی آواز کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور آج بھی وہی صورتحال دہرائی جا رہی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے ہونے والے احتجاج میں جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی، کیونکہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے خطے کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
این سی کے نائب صدر نے کہا کہ بعض جماعتیں بی جے پی اور مرکزی حکومت کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھیں، اس لیے وہ احتجاج میں شریک ہونے کے بجائے گھروں میں بیٹھ کر صرف سوشل میڈیا پر بیانات دیتی رہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب عوام اچھی طرح جان چکے ہیں کہ کون ان کے حقوق، وقار اور جموں و کشمیر کے بہتر مستقبل کے لیے سڑکوں پر نکلتا ہے اور کون صرف موبائل فون تک محدود رہتا ہے۔
عمرعبداللہ نے اس تنقید کو بھی مسترد کیا کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی درجہ کے بغیر آرٹیکل۳۷۰ یا کسی بھی خصوصی آئینی انتظام کی کوئی عملی حیثیت نہیں رہتی۔انہوں نے کہا کہ خصوصی حیثیت کا مطلب مرکز اور ریاست کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہوتا ہے، جبکہ یونین ٹیریٹری میں تمام اختیارات مرکز یا لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہوتے ہیں، اس لیے ریاستی درجہ خصوصی حیثیت کی بحالی کی پہلی شرط ہے۔
حکمران جماعت کے نائب صدر نے یاد دلایا کہ ان کی حکومت نے اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں خصوصی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کی تھی اور وہ قرارداد آج بھی برقرار ہے، تاہم اس پر مؤثر پیش رفت ریاستی درجہ بحال ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
عمرعبداللہ نے عوام کو یقین دلایا کہ نیشنل کانفرنس اپنے تمام وعدوں پر قائم ہے اور ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے جلد ہی نئی حکمت عملی اور آئندہ کے پروگراموں کا اعلان کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے متعلق اپنے حالیہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تبصرہ صرف سیاسی طنز تھا، نہ کہ کسی بیرونی مداخلت کی اپیل یا پالیسی میں تبدیلی کا اظہار۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مکمل طور پر ملک کا اندرونی معاملہ ہے اور انہوں نے کبھی بھی مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی بنانے یا ٹرمپ سے ریاستی درجہ دلانے کی درخواست نہیں کی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ دہلی میں نیشنل کانفرنس کا احتجاج صرف ایک آغاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں آئندہ دنوں جموں، کشمیر اور نئی دہلی میں عوامی اور تنظیمی سطح پر مزید پروگرام ترتیب دیے جائیں گے تاکہ ریاستی درجہ کی بحالی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکے۔










