’یہ گرمائی یا پھر سرمائی تعطیلات ہیں ‘ تعطیلات میں توسیع کے فیصلے پر سوشل میڈیا دو حصوں میں تقسیم‘فیصلے پر حمایت بھی، سخت تنقید بھی
(ندائے مشرق رپورٹ)
سرینگر؍۲۱ جولائی
جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے کشمیر ڈویژن اور جموں کے سرمائی زون کے تمام سرکاری و تسلیم شدہ نجی اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں۲۶ جولائی تک توسیع کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اگرچہ حکومت نے اس فیصلے کو موجودہ خراب موسمی حالات میں طلبہ، اساتذہ اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین نے اس فیصلے پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور تدریسی عملے کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے تعطیلات میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ اسکول اب۲۷ جولائی سے دوبارہ کھلیں گے۔
تاہم اس اعلان کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ بعض افراد نے حکومت کے فیصلے کو حالات کے مطابق درست اور بروقت قرار دیا، جبکہ کئی صارفین نے مسلسل تعطیلات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ایک صارف سعید بٹ نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ موجودہ خراب موسمی حالات میں تعطیلات میں توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے اور بچوں کی محفوظ واپسی کو ہر حال میں ترجیح دی جانی چاہیے۔
اس کے برعکس سہیل احمد نے فیصلے پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر تعطیلات میں بار بار توسیع کیوں کی جا رہی ہے۔ابراہیم نامی ایک اور صارف نے پوچھا ہے کہ یہ گرمائی تعطیلات ہیں یا پھر سرمائی ‘؟
ایک اور صارف سعید مہوش نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اب موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان بھی ابھی کر دیا جائے، کیونکہ بقول ان کے بچوں کو صرف فیس ادا کرنے کی ضرورت رہ گئی ہے، تعلیم تو متاثر ہی ہو رہی ہے۔
ایک اور صارف ظفر اقبال خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر خراب موسم ہی تعطیلات میں توسیع کی بنیاد ہے تو پھر جموں ڈویژن کے سمر زون میں بھی تعطیلات بڑھائی جائیں، کیونکہ وہاں بھی موسمی حالات سازگار نہیں ہیں اور طلبہ، اساتذہ اور والدین کی سلامتی کو یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔
بعض صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ گرمیوں کی تعطیلات کا مقصد شدید گرمی سے بچاؤ تھا، لیکن اب انہی تعطیلات میں توسیع بارشوں کی وجہ سے کی جا رہی ہے، جس سے حکومت کے فیصلے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خراب موسم میں احتیاطی اقدامات ضروری ہیں، تاہم بار بار تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل سے طلبہ کی پڑھائی، امتحانی شیڈول اور تعلیمی معیار پر پڑنے والے اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ غیر معمولی موسمی صورتحال میں انسانی جانوں کا تحفظ ہر دوسری ترجیح پر مقدم ہے، اسی لیے حالات معمول پر آنے تک احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔










