جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

سیاحتی مقامات کو محفوظ بنانے کی ضرورت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-25
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

کشمیر میں سیاحتی سیزن کی آمدوادی کی معاشی، سماجی اور نفسیاتی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتی ہے۔ برف کے پگھلنے، موسم کے خوشگوار ہونے اور ملک کے مختلف حصوں میں امتحانات کے اختتام کے ساتھ ہی سیاحوں کا رخ ایک بار پھر کشمیر کی جانب ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اس قدرتی جنت کے دروازے کھلے رکھیں بلکہ یہاں آنے والے ہر سیاح کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر کی معیشت میں سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مجموعی علاقائی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً سات سے آٹھ فیصد کے درمیان ہے، جبکہ لاکھوں افراد براہ راست یا بالواسطہ اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دستکاری، گائیڈ سروسز، ریستوران اور چھوٹے کاروبار سبھی اسی ایک دھارے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سیاحت کا فروغ صرف تفریحی سرگرمی نہیں بلکہ روزگار، استحکام اور خوشحالی کا ضامن بھی ہے۔

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

تاہم، گزشتہ برس پہلگام میں پیش آنے والا دہشت گرد حملہ اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی کراتا ہے کہ یہ صنعت کتنی نازک بنیادوں پر کھڑی ہے۔ ایک ہی واقعہ نہ صرف قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے بلکہ پورے خطے کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد سیاحتی سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی، کئی مقامات کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا اور ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال سیزن کے آغاز سے قبل سکیورٹی کو لے کر غیر معمولی سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے۔

وفاقی داخلہ سیکریٹری کی جانب سے سیاحتی مقامات پر فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ہدایت اسی تناظر میں اہمیت اختیار کرتی ہے۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اس بار کسی بھی کوتاہی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ سیاحوں کا اعتماد بحال کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ اعتماد ہی وہ بنیاد ہے جس پر سیاحت کا پورا ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے۔

یہ بھی قابل غور ہے کہ سکیورٹی کو صرف عسکری نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اگرچہ فوج، نیم فوجی دستے، پولیس اور اسپیشل آپریشنز گروپ کی تعیناتی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مضبوطی ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک نرم اور دوستانہ ماحول بھی قائم رکھنا ضروری ہے۔ سیاح جب کسی مقام پر آتے ہیں تو وہ خود کو محفوظ محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد اور خوشگوار فضا میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سکیورٹی اور مہمان نوازی کے درمیان ایک متوازن ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ گزشتہ سال بند کیے گئے بیشتر سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف سیاحوں کو مزید مقامات دیکھنے کا موقع ملے گا بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ تاہم، ان مقامات کی بحالی کے ساتھ ان کی نگرانی اور تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ٹالا جا سکے۔

ادھر، پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سکیورٹی ادارے خطرات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ برف پگھلنے کے ساتھ ہی ان کارروائیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ بھی بروقت معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دہشت گرد عناصر نقل و حرکت کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ آپریشنز میں کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر حکمت عملی درست ہو تو نتائج بھی مثبت آ سکتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو جس پر توجہ دی جا رہی ہے وہ جموں و کشمیر پولیس کی جدید کاری اور مالی وسائل کا جائزہ ہے۔ ایک مضبوط، تربیت یافتہ اور جدید آلات سے لیس پولیس فورس ہی طویل مدتی امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اگرچہ پولیس پہلے ہی کافی حد تک جدید ہو چکی ہے، لیکن بدلتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اس عمل کو مسلسل جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

یہاں ایک سوال خود بخود ابھرتا ہے: کیا صرف سکیورٹی اقدامات ہی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کافی ہیں؟ شاید نہیں۔ سکیورٹی بنیادی شرط ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، صفائی، ڈیجیٹل سہولیات اور سیاحوں کے لیے معلوماتی نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ ایک سیاح جب یہاں آتا ہے تو وہ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ مجموعی تجربہ بھی ساتھ لے کر جاتا ہے۔ اگر یہ تجربہ مثبت ہو تو وہ خود بھی دوبارہ آئے گا اور دوسروں کو بھی آنے کی ترغیب دے گا۔

مقامی آبادی کا کردار بھی اس سارے عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کشمیری عوام اپنی مہمان نوازی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں، اور یہی جذبہ سیاحت کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ انہیں بھی سکیورٹی معاملات میں حساس اور ذمہ دار بننا ہوگا۔ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دینا اور سیاحوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیر کے لیے سیاحت محض ایک صنعت نہیں بلکہ امید کی ایک کرن ہے۔ یہ امید امن کی، ترقی کی اور ایک بہتر مستقبل کی ہے۔ لیکن یہ کرن اسی وقت روشن رہ سکتی ہے جب اس کے گرد حفاظتی حصار مضبوط ہو۔ سکیورٹی اور سیاحت کا یہ توازن ہی اصل امتحان ہے—اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی، عملداری اور عوامی تعاون ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ کیونکہ کشمیر کی کہانی میں ایک چھوٹی سی لغزش بھی بڑا فرق ڈال دیتی ہے—اور ایک درست قدم، بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’ ملک کو چیلنجز کیلئے تیار رہنا ہوگا‘

Next Post

کانگریس کی نا سمجھ ،سمجھ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

کانگریس کی نا سمجھ ،سمجھ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.