امریکہ،ایران جنگ کے توانائی کی سپلائی چین اور مہنگائی پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:وزیر اعظم مودی
مزدور اور کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں‘ ان کے تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں
ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۴مارچ
وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے مغربی ایشیا میں جاری امریکہ،ایران جنگ کے ممکنہ اثرات سے خبردار کیا ہے اور عوام سے کہا ہے کہ وہ آنے والے چیلنجز کے لیے خود کو تیار رکھیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس جنگ کے توانائی کی سپلائی چین اور مہنگائی پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام محاذوں پر سرگرم ہے تاکہ صورتحال کو سنبھالا جا سکے اور عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مودی کاکہنا تھا’’میں شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہر چیلنج کے لیے تیار رہیں۔ اس جنگ کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں، لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت چوکس ہے اور قومی مفاد اولین ترجیح ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے ریاستی حکومتوں پر بھی زور دیا کہ وہ کورونا وبا کے دوران کی طرح متحد ہو کر کام کریں۔ مودی نے کہا کہ مشکل حالات میں مزدور طبقہ اور کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بلیک مارکیٹنگ کے خدشات پر بھی خبردار کرتے ہوئے ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ اس پر سخت نظر رکھیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت نے کورونا دور کی طرز پر سات بااختیار گروپس تشکیل دیے ہیں جو ایندھن، سپلائی چین، کھاد اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔
مودی نے مغربی ایشیا میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک۳لاکھ۷۵ہزار سے زائد بھارتیوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جا چکا ہے، جن میں ایران سے ایک ہزار سے زائد افراد شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد میڈیکل کے طلبہ کی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی ہے، تاہم بھارت نے سفارتی کوششوں کے ذریعے اپنی توانائی ضروریات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے۔
مودی کے مطابق بھارت کے پاس خام تیل کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو۵۳لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھا کر۶۵لاکھ میٹرک ٹن تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ گزشتہ دہائی میں ملک نے اپنی ریفائننگ صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنایا ہے اور گزشتہ دس برسوں میں۲۷ ممالک سے بڑھا کر۴۱ممالک سے تیل و گیس درآمد کرنا شروع کیا ہے تاکہ کسی ایک خطے پر انحصار کم کیا جا سکے۔ ساتھ ہی گھریلو سطح پر گیس کی تقسیم، بشمول پائپڈ نیچرل گیس اور ایل پی جی، کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بحران کسی بھی ملک کے عزم اور تیاری کا امتحان ہوتے ہیں، اور گزشتہ برسوں میں کیے گئے اقدامات نے بھارت کو ان چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹنے کے قابل بنایا ہے۔
مودی نے مغربی ایشیا میں جاری بحران کے وسیع معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور چونکہ مغربی ایشیا عالمی توانائی کا بڑا ذریعہ ہے، اس لیے موجودہ صورتحال دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، جسے مضبوط معاشی بنیادوں، مختلف شعبوں کے ماہرین سے مشاورت اور ایک خصوصی بین وزارتی گروپ کی نگرانی حاصل ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر درآمدات و برآمدات سے متعلق مسائل کا جائزہ لے رہا ہے۔
ان کاکہنا تھا’’مجھے پورا یقین ہے کہ حکومت اور صنعت کے مشترکہ اقدامات سے ہم ان حالات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے‘‘۔
مودی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس تنازع کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جن کے اہل خانہ کو ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے اور زخمیوں کے علاج کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
زراعت کے حوالے سے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اگرچہ جنگ کے اثرات اس شعبے پر بھی پڑ سکتے ہیں، تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ ملک کے کسانوں نے اناج کے ذخائر کو بھرپور رکھا ہے، جس سے بھارت غذائی تحفظ کے معاملے میں مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خریف کی بوائی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے اور کھاد کی وافر فراہمی کے انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
مودی نے یقین دہانی کرائی کہ ماضی کی طرح اس بار بھی عالمی بحران کا بوجھ کسانوں پر نہیں پڑنے دیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گرمیوں کے آغاز کے ساتھ بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ملک کے تمام بجلی گھروں میں کوئلے کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے مسلسل دوسرے سال ایک ارب ٹن سے زائد کوئلہ پیدا کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے، جبکہ گزشتہ دہائی میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، اور حکومت اس کے ممکنہ اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے متعدد محاذوں پر سرگرم دکھائی دیتی ہے۔










