میرا ماننا ہے کہ بیداری ہماری سب سے طاقتور دوا ہوگی:ایل جی
جموں؍۲۴مارچ
یومِ تپِ دق کے موقع پر لیفٹیننٹ گورنر ‘منوج سنہا نے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ٹی بی کی جانچ میں تیزی لائیں، حساس علاقوں کی نشاندہی کریں اور گھر گھر جا کر بیداری پیدا کریں۔
سنہانے کہا کہ ہر خاندان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ٹی بی کی علامات کی جانچ اور علاج مفت ہے اور مکمل صحت یابی ممکن ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’میرا ماننا ہے کہ بیداری ہماری سب سے طاقتور دوا ہوگی۔ کسی بھی مریض کو پیچھے نہ چھوڑیں۔ ٹی بی کی تشخیص آدھی جنگ ہے، اصل چیلنج مریض کے ساتھ مکمل علاج اور صحت یابی تک قدم بہ قدم چلنا ہے۔ نکشے متر پروگرام اسی کا حل ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ اس میں شامل ہر فرد پوری لگن کے ساتھ کام کرے گا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر جموں کے کنونشن سینٹر میں ’ٹی بی مکت بھارت ابھیان ۱۰۰روزہ مہم‘ کے آغاز کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔
یہ ملک گیر مہم، جس کا آغاز مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے کیا، ٹی بی کے خاتمے کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے مربوط، ہدفی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کے ذریعے ترتیب دی گئی ہے۔
۱۰۰ روزہ مہم کے دوران اے آئی سے لیس پورٹیبل ایکسرے مشینیں قبائلی بستیوں، مہاجر کیمپوں، شہری جھونپڑیوں اور دیگر خطرہ زدہ علاقوں تک جانچ کی سہولت پہنچائیں گی۔ نکشے وین موبائل طبی خدمات فراہم کریں گی جبکہ آیوشمان صحت کیمپوں میں سینے کے ایکسرے، این اے اے ٹی ٹیسٹ، بلڈ شوگر، ہیموگلوبن، بلڈ پریشر اور بی ایم آئی کی جانچ کی جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کو اس قومی مہم میں صرف شریک ہی نہیں بلکہ قائد کے طور پر پیش کریں۔
سنہا نے کہا، ’’یہ ہمارا عزم ہے کہ ہم اس مہم کو جموں و کشمیر میں عوامی تحریک میں تبدیل کریں۔ اس سال کی مہم کو مزید تیز، زیادہ مرکوز اور عوامی سطح پر گہرائی تک لے جانا ہوگا۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ صحتِ عامہ صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ٹی بی سے پاک جموں و کشمیر کا ہمارا عہد اسی یقین پر قائم ہے۔ ہر ضلع میں صحت عملہ اور عوام کو ایک ہی مقصد کے ساتھ مسلسل محنت کرنی ہوگی—آخری شخص تک پہنچنا، آخری کیس کی نشاندہی کرنا اور ہر مریض کو مکمل صحت یابی تک ہر ممکن سہارا دینا۔‘‘
سنہا نے۱۰۰ روزہ مہم کو ہر حساس ضلع میں عوامی تحریک بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں مشکل راستوں پر چل کر گھر گھر پہنچنے والا ہیلتھ ورکر اس مہم کا اصل ہیرو ہوگا، جبکہ نکشے متر کی جانب سے فراہم کی جانے والی غذائی امداد مریض کی زندگی بدل سکتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ہمیں ایسی۱۰۰روزہ تحریک بنانی ہے جس میں ہر شہری خود کو اس کا حصہ سمجھے اور دل و جان سے اپنا کردار ادا کرے۔‘‘
سنہانے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ سیلف ہیلپ گروپس، طلبہ، اسکولوں، صنعتوں، این جی اوز اور عوامی اداروں کو اس مہم میں شامل کریں۔ انہوں نے ٹیسٹنگ آلات اور ادویات کی دستیابی کا جامع جائزہ لینے اور عوامی شکایات کے اندراج کے لیے ایک مخصوص پورٹل قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
ایل جی نے کہا، ’’آج ہم عہد کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں کوئی مرد، عورت یا بچہ ٹی بی کی وجہ سے اپنا مستقبل نہیں کھوئے گا۔ ہر سانس قیمتی ہے، ہر زندگی منفرد ہے۔ کوئی کیس نظر انداز نہیں ہوگا اور کوئی مریض بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘
یو ٹی سطح کے اس پروگرام کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے نکشے واہن کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور پوشن کٹس تقسیم کیں۔ ضلع ڈوڈہ اور ضلع سری نگر کو ٹی بی مکت پنچایت ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس موقع پر نکشے عہد دلایا گیا اور نکشے متر حضرات کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔










