جموں۔سرینگر قومی شاہراہ (این ایچ۔۴۴) جموں و کشمیر کی معاشی، سماجی اور تزویراتی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو وادیٔ کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتا ہے اور روزانہ ہزاروں مسافر گاڑیوں، سیاحوں اور مال بردار ٹرکوں کی آمدورفت اسی شاہراہ کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں اس اہم شاہراہ پر حفاظتی اقدامات، ٹریفک کی روانی اور مسافروں کی سہولتوں کو بہتر بنانا ہمیشہ سے ایک اہم ضرورت رہی ہے۔ حالیہ دنوں مرکزی وزیر برائے سڑک و شاہراہ نِتِن گڈکری کی جانب سے اس شاہراہ پر کئی اہم منصوبوں کی تکمیل کا اعلان اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مرکزی حکومت کے مطابق تقریباً ۱۷۱ کروڑ روپے کی لاگت سے این ایچ۔۴۴ کے مختلف مقامات پر حادثات کے خطرناک مقامات کی اصلاح، سانبہ میں ویہیکولر انڈر پاس اور مختلف مقامات پر جدید وے سائیڈ سہولتوں کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد نہ صرف حادثات میں کمی لانا ہے بلکہ اس مصروف ترین شاہراہ پر سفر کرنے والوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا بھی ہے۔ جموں۔سرینگر شاہراہ پر گزشتہ کئی برسوں سے حادثات کے کئی ایسے مقامات موجود تھے جہاں ٹریفک کے دباؤ اور ناقص ڈیزائن کی وجہ سے حادثات پیش آتے رہتے تھے۔ ایسے مقامات کی اصلاح دراصل شاہراہ کو زیادہ محفوظ بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
سانبہ کے علاقے میں واقع ایس آئی ڈی سی او چوک(سڈکو چوک) کو طویل عرصے سے ایک خطرناک بلیک اسپاٹ سمجھا جاتا تھا۔ یہاں صنعتی علاقے کی وجہ سے بھاری ٹرکوں اور ٹریلرز کی بڑی تعداد آتی جاتی رہتی تھی جس کے نتیجے میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا اور حادثات کا خطرہ رہتا تھا۔ اس مقام پر ویہیکولر انڈر پاس اور اضافی پل کی تعمیر ایک تکنیکی لحاظ سے اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف ٹریفک کے تصادم کے امکانات کم ہوں گے بلکہ گاڑیوں کی آمدورفت بھی زیادہ منظم انداز میں ہو سکے گی۔ اس قسم کے انجینئرنگ حل اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب سڑکوں کی تعمیر میں جدید تکنیکی منصوبہ بندی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسی طرح سڈکو چوک اور گولے میلہ۔سنگور جیسے حصوں پر بلیک اسپاٹس کی اصلاح بھی نہایت ضروری تھی۔ جموں و کشمیر کی پہاڑی جغرافیائی صورتحال کے باعث یہاں سڑکوں کی تعمیر ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے۔ تنگ موڑ، تیز ڈھلوان اور موسم کی سختیاں ٹریفک کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ ان مقامات پر سڑک کی ساخت کو بہتر بنانا، موڑوں کو محفوظ بنانا اور ٹریفک کی سمت کو منظم کرنا ایسے اقدامات ہیں جو طویل مدت میں حادثات کی شرح کو کم کر سکتے ہیں۔
جموں۔سرینگر شاہراہ پر جدید وے سائیڈ سہولتوں کی تعمیر بھی ایک خوش آئند قدم ہے۔ جھجر کوٹلی، قاضی گنڈ اور مرہامہ میں قائم کی گئی یہ سہولتیں مسافروں کے لیے آرام گاہوں، پارکنگ، خوراک اور صفائی جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کریں گی۔ دراصل طویل فاصلے کے سفر میں ایسی سہولتیں نہایت اہم ہوتی ہیں۔ ٹرک ڈرائیوروں، سیاحوں اور عام مسافروں کے لیے مناسب آرام گاہوں کی کمی ایک طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ ایسے میں اگر شاہراہ کے مختلف حصوں پر جدید سہولتوں کے مراکز قائم کیے جاتے ہیں تو اس سے سفر زیادہ آرام دہ اور محفوظ ہو سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کی معیشت کے لیے بھی یہ شاہراہ انتہائی اہم ہے۔ وادی کی زرعی پیداوار، سیب، خشک میوہ جات اور دیگر اشیاء کی ترسیل بڑی حد تک اسی شاہراہ پر منحصر ہے۔ اگر ٹریفک کی روانی بہتر ہو اور سفر کا وقت کم ہو تو اس کا براہ راست فائدہ مقامی معیشت کو پہنچتا ہے۔ بہتر سڑکیں تجارت کو فروغ دیتی ہیں اور اشیاء کی ترسیل کو آسان بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو کسی بھی خطے کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
سیاحت کے شعبے کے لیے بھی بہتر شاہراہیں نہایت اہم ہیں۔ کشمیر کی خوبصورتی دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے لیکن سیاحوں کے لیے آسان اور محفوظ سفر بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ اگر سڑکیں بہتر ہوں، سفر کے دوران مناسب سہولتیں دستیاب ہوں اور حادثات کا خطرہ کم ہو تو سیاحت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے شاہراہوں کی بہتری کو سیاحت کی ترقی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
تاہم اس ترقیاتی عمل کے ساتھ کچھ اہم سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ جموں۔سرینگر شاہراہ کو اکثر موسمی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ، بارشیں اور برفباری اکثر اس شاہراہ کو متاثر کرتی ہیں۔ گزشتہ برسوں میں کئی مواقع ایسے آئے جب خراب موسم کی وجہ سے شاہراہ کئی گھنٹوں یا حتیٰ کہ کئی دنوں کے لیے بند رہی۔ اس لیے صرف سڑکوں کی توسیع یا بلیک اسپاٹس کی اصلاح کافی نہیں بلکہ موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔
اسی طرح ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ جموں۔سرینگر شاہراہ پر گاڑیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر آنے والے برسوں میں ٹریفک مینجمنٹ اور متبادل راستوں کی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو مستقبل میں دوبارہ بھیڑ اور حادثات کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ساتھ طویل مدتی ٹریفک حکمت عملی بھی تیار کی جائے۔
ایک اور اہم پہلو تعمیراتی منصوبوں کے معیار اور نگرانی کا ہے۔ اکثر ترقیاتی منصوبوں میں یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ کچھ عرصہ بعد سڑکیں دوبارہ خراب ہو جاتی ہیں یا سہولتوں کی دیکھ بھال مناسب انداز میں نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے منصوبوں کی تکمیل کے بعد ان کی مسلسل نگرانی اور دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جائے۔ وے سائیڈ سہولتوں کو فعال اور صاف ستھرا رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کی تعمیر۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ جموں و کشمیر میں شاہراہوں کی ترقی پر گزشتہ برسوں میں خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ نئے سرنگی منصوبے، شاہراہوں کی توسیع اور حفاظتی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں رابطے کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ بہتر سڑکیں نہ صرف سفر کو آسان بناتی ہیں بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
جموں۔سرینگر شاہراہ کی بہتری دراصل صرف ایک سڑک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کی ترقی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب سڑکیں محفوظ اور معیاری ہوں گی تو تجارت بڑھے گی، سیاحت کو فروغ ملے گا اور لوگوں کی روزمرہ زندگی آسان ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس شاہراہ پر ہونے والے ہر ترقیاتی اقدام کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
این ایچ۔۴۴ پر حالیہ منصوبوں کی تکمیل ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ اقدامات طویل مدت تک مؤثر ثابت ہوں۔ سڑکوں کی بہتری، ٹریفک کے نظم و نسق اور مسافروں کی سہولتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہی اس شاہراہ کو حقیقی معنوں میں ایک محفوظ اور جدید شاہراہ بنا سکتا ہے۔ جموں و کشمیر جیسے حساس اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ خطے میں مضبوط اور محفوظ رابطہ دراصل ترقی، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔





