ماؤنٹ مونگانوئی، 14 مارچ (یو این آئی): نیوزی لینڈ دنیا کے ہر خطے سے کافی دوری پر واقع ہے، یہاں تک کہ اس کا قریبی پڑوسی آسٹریلیا بھی 1600 کلومیٹر دور ہے۔ لیکن کیا یہ دوری جنوبی افریقہ کو مردوں کے حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ کی تلخ یادیں بھلانے کے لیے کافی ہے؟ جواب ہے ‘نہیں’۔
ایڈن گارڈنز میں ہونے والے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کی زبردست شکست کو ابھی صرف 11 دن گزرے ہیں اور یہ شکست انہیں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہی ملی تھی۔ ٹورنامنٹ کی واحد ناقابلِ شکست ٹیم، جس نے جیت کے نئے طریقے ڈھونڈے تھے، اچانک 77 رنز پر 5 وکٹیں گنوا بیٹھی اور نو وکٹوں سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ اب دونوں ٹیمیں اتوار کو ماؤنٹ مونگانوئی میں پانچ میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کا پہلا مقابلہ کھیلیں گی۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی زخم خوردہ ہے، جسے فائنل میں ہندوستان کے ہاتھوں 96 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ڈیون کونوے نے اس ورلڈ کپ کو ایک "شاندار سفر” قرار دیا ہے، لیکن فائنل کی شکست کا درد چھپانا آسان نہیں ہے۔
اس سیریز کی ایک خاص بات ‘ڈبل ہیڈرز’ ہیں، جہاں مردوں کے میچ سے پہلے اسی پچ پر خواتین ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ جنوبی افریقہ کے کپتان کیشو مہاراج نے اسے خواتین کی کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک بہترین موقع قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کی ٹیمیں تجربے کے لحاظ سے مردوں سے کہیں آگے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی خواتین ٹیم کے پاس مجموعی طور پر 921 کیپس ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کی خواتین ٹیم کے پاس 864 کیپس ہیں۔
لورا ولوارڈٹ کی قیادت میں جنوبی افریقہ کی خواتین ٹیم کے لیے یہ سیریز انتہائی اہم ہے، کیونکہ انگلینڈ اور ویلز میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے آغاز میں اب صرف 91 دن باقی ہیں۔ جہاں مردوں کے لیے اگلا بڑا عالمی ٹورنامنٹ دو سال دور ہے، وہیں خواتین ٹیموں کے لیے یہ سیریز تیاری کا بہترین موقع ثابت ہوگی۔






