نہیں صاحب یہ سب کچھ نہیں چلے گا …. اسے چلنے نہیں دیا جائےگا ….اور اس لئے نہیں دیا جائےگا کیونکہ یہ ناقابل برداشت ہے …. اس کو بر داشت نہیں کیا جا سکتا ہے اور…. اور اس لیئے نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ گستاخی کے زمرے میں آتا ہے ‘ اسے آرام سے نافرمانی قرار دیا جا سکتا ہے …. چار پانچ برسوں سے کشمیر میں اگر سب کی عقل ٹھکانے پر آگئی ہے تو …. تو شہر اوروادی کی ان سڑکوں کو کیا ہوا جو آج بھی اکڑ دکھا رہی ہیں…. جو آج بھی سر کشی کے موڈ میں ہیں…. جو آج بھی یہ بارش کے چند قطروں سے جھیلوں میں بدل جاتی ہیں…. ایسا نہیں ہو نا چاہئے ‘ ایسا نہیں ہو سکتا ہے…. ایسا ہونے نہیں دیا جائےگا …. اس سے پہلے کہ ان سرکش سڑکوں کےخلاف کوئی تادیبی کارروائی کی جا ئے ‘کوئی ان سے کہہ دے اور…. اور واضح الفاظ میں کہہ دے کہ …. کہ اب یہ سب کچھ برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے…. اور اگر ان سڑکوں نے اس تنبیہ کے بعد بھی اپنی یہ حرکتیں جاری رکھیں تو…. تو نتائج کی ذمہ داری ان پر ہی عائد ہوگی کسی اور پر نہیں …. بالکل بھی نہیں ۔اور …. اور اس لئے نہیں کہ یہ تو کوئی بات نہیں ہو ئی کہ …. کہ بارش کے چند قطروں کے ساتھ ہی شہر اور وادی کی یہ سڑکیں پانی میں ڈوب جاتی ہیں…. بالکل ایسے ہی جیسے اگست۲۰۱۹ سے پہلے ڈوب جاتی تھیں….تب کی بات اور تھی‘ اب کی بات اور ہے…. تب کشمیرمیں کچھ بھی چلتا تھا …. کچھ بھی ہوتا تھا…. لیکن اب یہ سب کچھ برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے…. اب یہ کچھ چل نہیں سکتا ہے…. بھلائی اسی میں ہے کہ …. کہ یہ سڑکیں اپنا رویہ درست کریں ….اور اس حقیقت کے آگے سر تسلیم خم کریں کہ کشمیر بدل گیا ہے اور…. اور ہول سیل میں بدل گیا ہے…. اس لئے ان سڑکوں کو بھی بدلنا ہو گا…. انہیں بھی بدلنا پڑے گا …. اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو…. تو پھر انہیں بدلنے پر مجبور کیا جائےگا …. اور اس حوالے سے یہ سڑکیں کسی غلط فہمی میں نہ رہیں…. یہ بھی امید نہ رکھیں کہ انہیں کوئی رعایت دی جائےگی …. کہ …. کہ اب کشمیر بدل گیا ہے اور…. اور جو کوئی بھی لوگوں کو نقصان پہنچائے گا اسے بخشا نہیں جائےگا …. بالکل بھی نہیں جائےگا …. پھر چاہے وہ سڑکیں…. جھیل میں ترتی ہو ئیں سڑکیں ہی کیوں نہ ہوں ۔ ہے نا؟




