چلیے صاحب، بالآخر یہ جناب بلی چڑھ ہی گئے۔ پردھان سیوک……. معاف کیجیے، دھرمیندر پردھان مستعفی ہو ہی گئے اور یوں انہوں نے جنتر منتر پر جمع طلبہ کے غصے کو بہت حد تک ٹھنڈا بھی کر دیا۔ وہ غصہ جسے دہلی کی تیز بارشیں بھی ٹھنڈا نہیں کر پائیں، الٹا یہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ لیکن پردھان نے پردھان سیوک کے حکم پر، بغیر کسی چوں و چرا کے استعفیٰ دیا اور اُس آگ پر پانی پھیر دیا جس کی لپٹیں پردھان سیوک کی رہائش گاہ تک پہنچنے لگی تھیں۔لیکن اب نہیں۔ اب یہ آگ پہلے دھیمی پڑ جائے گی اور پھر بجھ کر راکھ کے ڈھیر میں بدل جائے گی اور……. اور یہی تو اپنے پردھان سیوک بھی چاہتے تھے۔ دیر سے ہی سہی، ان کی یہ خواہش اب پوری ہو جائے گی۔لیکن بات پھر اُسی پر آ پہنچتی ہے کہ اب اُس کا کیا؟ اب راہل بابا کیا کریں گے؟ اب اُن کے پاس جو گولہ بارود تھا، اُس پر پانی گر چکا ہے اور وہ اب کسی کام کا نہیں رہا۔بارہ برسوں میں پہلی بار، جی ہاں، پہلی بار راہل بابا کو لگ رہا تھا کہ اب اُن کا وقت آ گیا ہے، یا آنے والا ہے۔ لیکن پردھان نے زیادہ وقت ضائع کیے بغیر یہ یقینی بنا دیا کہ راہل بابا کو ابھی مزید انتظار کرنا پڑے گا……. اُس وقت کا، جب اُن کا وقت آئے گا۔ آئے گا بھی یا نہیں، یہ ہم نہیں جانتے۔ بالکل بھی نہیں جانتے۔اور ہم اس لیے نہیں جانتے کہ راہل بابا کئی ماہ سے پردھان کا سر چاہتے تھے۔ جہاں جاتے تھے، چھاتروں سے ملتے تھے تو وہاں بھی ایک ہی گونج سنائی دیتی تھی کہ پردھان مستعفی ہو جائیں……. استعفیٰ دیں۔پردھان نے یقیناً استعفیٰ دیا، لیکن راہل بابا کے کہنے پر نہیں، راہل بابا کے دباؤ میں آ کر نہیں، بلکہ طلبہ کے کہنے پر، طلبہ کے دباؤ میں آ کر استعفیٰ دیا اور……. اور راہل بابا کا سارا کا سارا کھیل بگاڑ دیا۔اور ایک ہم نادان ہیں جو اب بھی یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں، جو اب بھی اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ……. آخر یہ ان ’کاکروچوں ‘ کا شانِ نزول کیا ہے؟ یہ آئے کہاں سے؟ کس نے لایا؟ اور کہاں سے؟اگر آپ اب بھی نہیں سمجھتے، اگر آپ کو اب بھی اس سوال کا جواب نہیں مل رہا، تو…….اللہ میاں کی قسم، ہماری طرح آپ بھی احمق ہیں اور ناسمجھ بھی۔ہے نا؟



