کوئی انہیں کہہ دے اور زور سے کہہ دے کہ وہ اپنی یہ بکواس ‘ یہ اول جلول باتیں بند کردے کہ ……. کہ ان کی یہ باتیں اب برداشت سے باہر ہو رہی ہیں اور اس لئے ہو رہی ہیں کیونکہ یہ اصل میں اب گستاخی کے زمرے میں آتی ہیں اور ہمیں گستاخ پسند ہیں اور نہ گستاخانہ باتیں ……. اس لئے وہ سب حضرات جو ایسی نا سمجھ باتیں کررہے ہیں کہ مودی جی جانے والے ہیں‘اقتدار سے جانے والے ہیں ‘ کوئی انہیں کہہ دے کہ وہ مودی کے مستقبل کے بارے میں باتیں کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کی فکر کریں ۔ جن کے بارے میں ان حضرات کا کہنا ہے کہ وہ تاریخ بن جائیں گے اور جلد بن جائیں گے تو کوئی ان احمقوں کو بتا دے کہ مودی تاریخ کیا بنیں گے وہ تو خود تاریخ لکھتے ہیں ……. اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں ۔اس لئے جو کوئی بھی انہیں تاریخ کا حصہ بنتے دیکھ رہا ہے یا ایسی باتیں کررہا ہے اس کے دماغ کا کوئی نہ کوئی حصہ یا پھر پورا دماغ ہی تاریکیوں میں ڈوب گیا ہے جو وہ ایسی اناف شناف باتیں کررہے ہیں ۔یہ حضرات شاید یہ بات ‘ یہ حقیقت بھول گئے ہیں کہ مودی ہے تو ممکن ہے ……. اس لئے اگر کوئی بات ممکن ہے تو وہ اس بات کا نا ممکن ہو نا ممکن ہے کہ مودی جی جا رہے ہیں …….دہلی کے جنتر منتر پر مٹھی بھر لوگوں کو دیکھ کر یہ حضرات ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں ……. یا مٹھی بھر گمراہ کن نوجوانوں کو دیکھ کر ان میں ایسی بہکی بہکی باتیں کرنا کا حوصلہ مل رہا ہے ……. ورنہ کم بخت کل تک تو یہ سب حضرات بھیگی بلی بنے ہو ئے تھے ……. لیکن کوئی بات نہیں ‘ بالکل بھی نہیں کہ یہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر عروج کا زوال ہوتا ہے اور ہر زوال کا عروج ہو تا ہے …….مودی جی بھی اس بات کو مانتے ہیں ‘ اور جانتے ہیں ……. یہ جانتے ہیں کہ جنتر منتر والوں کا اس وقت عروج چل رہا ہے اور جلد ہی یہ زوال کا شکار ہو جائیں گے ۔آپ کو کیا لگ رہا ہے کہ ۱۲ برسوں سے ایک سو چالیس کروڑلوگوں کو ’من کی بات‘ سنانے والے مودی جی ان مٹھی بھر لوگوں کی من کی بات نہیں سمجھیں ہو ں گے ……. یقیناً سمجھیں ہو ں گے یہ بات سمجھیں ہوں گے کہ …….کہ ملک کا یہ پردھان سیوک اپنے پردھان کی بلی چڑھا کر ان سب لوگوں کو گھن چکر بنا کر اس چکر ویو سے باہر آئیں گے اور سو فیصد آئیں ۔اس لئے تمام گستاخ …….خاموش! ہے نا؟




