یہ تو ’بنتا ہے‘ صاحب، اور سو فیصد ’بنتا ہے‘۔ اگر لوگوں، یعنی کشمیر کے لوگوں میں میڈم جی…….محبوبہ مفتی کے خلاف غصہ ہے، یا شدید غصہ ہے، تو صاحب یہ تو ’بنتا ہے‘۔ اور اس لیے بنتا ہے کہ میڈم جی نے بات ہی ایسی کی، ’بنتا ہے‘ والی بات کی۔ اس بات کو جس نے بھی سنا، اس کا غصہ ہونا تو ’بنتا ہے‘، اور وہ غصہ ہو بھی رہا ہے۔خود کو دنیا کا سب سے ہوشیار اور سمجھدار سمجھنے والے وحید پرہ نے شاہ سے زیادہ وفادار بننے کی کوشش میں میڈم جی کی اس ویڈیو کو ’اے آئی‘ قرار دیا، اور ان کا اسے ’اے آئی‘ قرار دینا بھی تو ’بنتا ہے‘۔ اس لیے بنتا ہےکہ پرہ صاحب کو بھی لگتا ہے……. اپنی جگہ لگتا ہے…….کہ میڈم جی کی ’بنتا ہے‘ والی بات کے بعد سچ میں کشمیر میں ان کی کوئی بات نہیں بن سکتی۔ اسی لیے پرہ صاحب ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں تاکہ…….تاکہ میڈم نے منہ سے جو زہر اگلا ہے، اس زہر کا اثر کچھ کم کیا جا سکے، یا کم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ اور اللہ میاں کی قسم، اتنا تو ’بنتا ہے‘ ،پرہ صاحب سے تھوڑی بہت نمک حلالی…….اتنا تو ’بنتا ہے‘۔اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ بھی میدان میں کود پڑے ہیں……. اور سچ پوچھئے تو ان کا میدان میں کود پڑنا بھی ’بنتا ہے‘۔ اگر وہ اب اور آج بھی میدان میں نہیں کودیں گے تو پھر کب؟ آخر روز روز تھوڑے ہی نا میڈم جی ’بنتا ہے‘ والی بات کہیں گی۔ بالکل بھی نہیں کہیں گی۔آخری بار انہوں نے ۲۰۱۶ء میں ’دودھ ٹافی‘ والی بات کی تھی، اور آج دس برسوں کے طویل انتظار کے بعد انہوں نے قوم کو یہ سمجھایا کہ ان کی ’دودھ ٹافی‘ والی بات زبان کی لغزش نہیں تھی، بالکل بھی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی بات تھی۔ آج ’بنتا ہے‘ والی بات نے محض اس پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے، اور سو فیصد کی ہے۔رہی بات اپنے وزیر اعلیٰ کی، تو صاحب! ان کا اس پر سیاست کرنا بھی تو ’بنتا ہے‘، لیکن……. لیکن لوگ یہ بھی نہیں بھول پائے ہیں، اور نہ ہی بھول سکتے ہیں، کہ میڈم جی کے ’دودھ ٹافی‘ اور ’بنتا ہے‘ سے پہلے، اور بہت پہلے، ۲۰۱۰ء میں وزیر اعلیٰ صاحب اس کا عملی نمونہ پیش کر چکے ہیں۔ اور یہ تو ’بنتا ہے‘ کہ لوگ……. اپنے کشمیر کے لوگ… وہ بھی نہ بھول پائیں۔ بھول جائیں، یہ تو بنتا ہی نہیں ہے۔ ہے نا؟




