پنجاب کی ایک نجی یونیورسٹی میں کشمیری طلبہ کے ساتھ پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لے آیا ہے کہ بیرونِ وادی تعلیم یا روزگار کے لیے جانے والے کشمیری نوجوان آج بھی عدم تحفظ کے احساس سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکے۔ ماہِ رمضان جیسے مقدس مہینے میں سحری اور افطار کے بنیادی انتظام کی درخواست کرنا کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں تھا، مگر اسے جس انداز میں مسترد کیا گیا اور مبینہ طور پر طلبہ کو ہراساں کیا گیا، وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ تشویشناک بھی ہے۔
اس معاملے میں سب سے اہم پیش رفت یہ رہی کہ پنجاب حکومت نے فوری اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو عہدے سے برطرف کر دیا اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر کے تحقیقات کا آغاز کیا۔ یہ اقدام اس لحاظ سے قابلِ ستائش ہے کہ اس نے واضح پیغام دیا کہ تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک یا دھمکی آمیز رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی ریاست کی ذمہ داری صرف امن و امان تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ وہاں مقیم ہر شہری—خواہ وہ مقامی ہو یا کسی اور خطے سے آیا ہو—کے وقار اور حقوق کا تحفظ بھی اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی فوری آمد، اور مکالمے کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لانا ایک مثبت پہلو ہے۔ اس سارے عمل میں یہ تاثر ابھرا کہ ریاستی مشینری نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا۔ یہی طرزِ عمل وفاقی ڈھانچے میں باہمی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ خاص طور پر اس پس منظر میں جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح طور پر کہا کہ وہ معاملہ اپنے ہم منصب کے ساتھ اٹھائیں گے اور پنجاب حکومت ہمیشہ جموں و کشمیر کے ساتھ کھڑی رہی ہے، تو یہ سیاسی سطح پر ذمہ دارانہ رویے کی مثال ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات بار بار کیوں پیش آتے ہیں؟ کیوں ہر چند ماہ بعد ملک کے کسی نہ کسی حصے سے کشمیری طلبہ کے ساتھ بدسلوکی، ہراسانی یا امتیازی سلوک کی خبریں سامنے آتی ہیں؟ یہ واقعات محض انتظامی کوتاہی کا نتیجہ نہیں ہوتے، بلکہ اکثر سماجی تعصبات، غلط فہمیوں اور سیاسی فضا سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ کشمیری نوجوان جب اپنے گھر سے سینکڑوں میل دور تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو ان کے ذہن میں خواب ہوتے ہیں‘اعلیٰ تعلیم، بہتر مستقبل اور قومی دھارے میں فعال کردار۔ اگر انہیں وہاں تحفظ اور احترام نہ ملے تو یہ نہ صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ ہے بلکہ قومی یکجہتی کے تصور کو بھی کمزور کرتا ہے۔
پنجاب تاریخی طور پر کشمیری طلبہ اور تاجروں کے لیے ایک مہمان نواز خطہ رہا ہے۔ لُدھیانہ، جالندھر، امرتسر اور دیگر شہروں میں کشمیری برادری دہائیوں سے آباد ہے اور مقامی سماج کا حصہ ہے۔ ایسے میں کسی ایک واقعے کو عمومی رویہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، مگر اسے معمولی بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ جب بھی کسی کشمیری طالب علم کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کی بازگشت وادی تک پہنچتی ہے اور وہاں کے خاندانوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
پنجاب حکومت کا فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے تاخیر کے بغیر کارروائی کی۔ اکثر ایسے معاملات میں تحقیقات کے نام پر معاملہ طول پکڑ لیتا ہے، جس سے متاثرین کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ یہاں فوری برطرفی اور وقت مقررہ میں تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل نے ایک مثال قائم کی ہے۔ اگر یہ روایت دیگر ریاستیں بھی اپنائیں تو ممکن ہے کہ مستقبل میں تعلیمی ادارے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کی ضرورت بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ثقافتی و مذہبی حساسیت کے حوالے سے واضح رہنما اصول ہونے چاہئیں۔ ہوسٹل اور میس انتظامیہ کو ایسے معاملات میں لچکدار اور باہمی احترام پر مبنی رویہ اپنانا چاہیے۔ رمضان میں سحری اور افطار کا انتظام کرنا کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں، جس طرح دیگر مذہبی یا ثقافتی مواقع پر خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ انتظامی نہیں، رویے کا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر بیرونِ ریاست زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے لیے ایک رابطہ نظام قائم کریں، جہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ کئی بار معاملات ابتدائی سطح پر حل ہو سکتے ہیں، اگر بروقت سنجیدگی دکھائی جائے۔ طلبہ تنظیموں کا کردار بھی اہم ہے، مگر حتمی ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
اس واقعے نے ایک مثبت پہلو بھی اجاگر کیا‘مکالمے کی طاقت۔ جب کمیونٹی لیڈروں، ضلعی انتظامیہ اور طلبہ نمائندوں نے بیٹھ کر بات کی تو صورتحال قابو میں آئی۔ یہ پیغام دیتا ہے کہ اشتعال اور تصادم کے بجائے گفتگو ہی دیرپا حل فراہم کرتی ہے۔ تاہم مکالمہ اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ عملی اقدام بھی ہو، اور پنجاب حکومت نے کم از کم ابتدائی سطح پر یہی کیا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ پنجاب حکومت کا اقدام قابلِ تحسین ہے اور اسے ایک مثال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ مگر اصل امتحان یہ ہے کہ ایسے واقعات کی تکرار کیسے روکی جائے۔ اگر ہر بار کارروائی بعد از وقوع ہو اور پیش بندی نہ کی جائے تو مسئلہ جڑ سے حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے ایک محفوظ، شمولیتی اور باوقار ماحول کو یقینی بنائیں جہاں کسی طالب علم کو اپنی شناخت، مذہب یا علاقائی پس منظر کی وجہ سے خوف یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کشمیری نوجوان اس ملک کا حصہ ہیں، اس کے مستقبل کا حصہ ہیں۔ انہیں تحفظ دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ہے۔ پنجاب نے ایک درست قدم اٹھایا ہے؛ اب وقت ہے کہ یہ قدم ایک مستقل روایت میں بدل جائے، تاکہ کسی بھی طالب علم کو آئندہ اپنے بنیادی حق کے لیے احتجاج نہ کرنا پڑے۔





