اس دنیا میں احمقوں کی کوئی کمی نہیںہے …….بالکل بھی نہیں ہے ۔اورجب کبھی احمقوں کی درجہ بندی کی جائےگی تو ہمیں یقین ہے کہ اپنا ہمسایہ ملک سر فہرست ہو گا …….اور اس لئے ہو گاکہ یہ دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو دن رات ایک کردیتا ہے ……. خود کو احمق ثابت کرنے میں ایک کر دیتا ہے ۔ ہمیں اس ہمسایہ ملک کو مبارکباد دینی چاہئے کہ کم از کم اس کی یہ ایک محنت رنگ لائی ہے اور دنیا سچ میں اسے احمقوں کی جنت سمجھتی ہے …….اور سردار بھی ۔ نہیں اس ملک کے لوگوں کو نہیں ‘ وہ بے چارے تو آپ کے اور ہمارے جیسے ہیں ‘ بلکہ اس ملک کے حکمران اور وہ سب جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی تقدیر لکھی جاتی ہے ۔ بھارت نے بنگلہ دیش کے ایک کھلاڑی ……. کرکٹ کھلاڑی کو آئی پی ایل میں شرکت سے روکا ‘ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی کہ وہ اس بنگلہ دیشی کھلاڑی کو فارغ کردے اور اس نے ایسا ہی کیا ۔کیا اس کھلاڑی کو آئی پی ایل سے فارغ کیا جانا چاہئے تھا یا نہیں یہ الگ بحث ہے …….لیکن اس فیصلے کے ردعمل میں بنگلہ دیش نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کرکٹ کپ کے اپنے میچ بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا …….ان میچوں کو سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جو آئی سی سی نے رد کیا ۔بنگلہ دیشی کھلاڑی کو نہ کھیلنے دینا بھارت اور بنگلہ دیش کا آپسی معاملہ تھا ۔میچوں کی منتقلی کا مطالبہ نہ ماننا بنگلہ دیش اور آئی سی سی کا آپسی معاملہ تھا ……. خدا را ہمیں بتائیے کہ اس سب میں ہمسایہ ملک کہاں آتا ہے …….اس کا کہاں رول تھا ‘اس کے کرکٹ مفادات کو کہاں اور کیسے زخ پہنچ رہی تھی جو اس نے بھارت کے ساتھ ہونے والا اپنے ممیچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ؟یہ ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے ‘ اگر آپ کی سمجھ میں آ رہی ہے یا آگئی ہے تو پلیز ہمیں بھی سمجھائیے……. لیکن ……. لیکن ہم جانتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ اللہ میاں کی قسم یہ بات آپ کی بھی سمجھ میں نہیں آئی ہو گی کیوں کہ ہمسایہ ملک کے فیصلے ……. احمقانہ فیصلے ہوتے ہی ایسے ہیں جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتے ہیں سوائے احمقوں کے……. لیکن یقین لیجئے کہ ہمسایہ ملک کے فیصلے ‘ کم از کم یہ ایک فیصلہ ……. بائیکاٹ کا فیصلہ ‘ ان کی سمجھ میں بھی نہیں آیا ہو گا …….احمق بھی اس احمقانہ فیصلے کو سمجھ نہیں پا رہے ہوں گے ……. بالکل بھی نہیں سمجھ پا رہے ہوں ہے ۔ ہے نا؟




