جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کھیل اور سیاست:

ایک دوسرے سے دور ہی رہیں تو اچھا ہے  

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-01-20
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا یہ واضح اور دو ٹوک موقف کہ کھیلوں کو سیاست سے دور رکھنا ناگزیر ہے، ایک گہرے مسئلے کی طرف اشارہ ہے جس نے برسوں سے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک میں کھیلوں کی صحت مند نشوونما کو متاثر کیا ہے۔
سری نگر میں منعقدہ قومی سطحی اسپورٹس کانفرنس ’سریجن‘ کے افتتاحی اجلاس میں ان کے خیالات دراصل ایک بڑے اصلاحی ایجنڈے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جس کا مقصد کھیلوں کو محض مقابلوں تک محدود رکھنے کے بجائے سماجی تعمیر، نوجوانوں کی کردار سازی اور قومی ترقی کے ایک طاقتور وسیلے کے طور پر بروئے کار لانا ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کھیلوں کی دنیا میں سیاست کی مداخلت نے اکثر باصلاحیت نوجوانوں کو ان کے جائز حق سے محروم کیا ہے۔ انتخابی عمل میں جانبداری، علاقائی تعصب، گروہی مفادات اور سفارش کا کلچر وہ زخم ہیں جنہوں نے کھیلوں کے اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
جموں و کشمیر میں سنتوش ٹرافی کے لیے یو ٹی فٹ بال اسکواڈ کے متنازع انتخاب نے اسی تلخ حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا، جہاں جموں خطے سے محض ایک کھلاڑی کے انتخاب نے نہ صرف سوالات کو جنم دیا بلکہ سیاسی بیانات اور الزامات کی ایک نئی لہر بھی پیدا کر دی۔ ایسے حالات میں لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار نظام کی بات کرنا نہایت بروقت اور ضروری قدم ہے۔
کھیل محض جسمانی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو نظم و ضبط، ٹیم ورک، قیادت، برداشت اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں کھیلوں کو اپنی تعلیمی پالیسیوں اور سماجی ڈھانچے کا لازمی حصہ بناتی ہیں۔ منوج سنہا کا اس بات پر زور دینا کہ کھیلوں کو تعلیم اور بنیادی زندگی کی مہارتوں سے جوڑا جائے، دراصل اسی عالمی رجحان کی عکاسی ہے۔ نصابِ تعلیم میں کھیلوں کی بامعنی شمولیت نوجوانوں کو نہ صرف صحت مند بناتی ہے بلکہ انہیں عملی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار کرتی ہے۔
جموں و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں نوجوانوں کو طویل عرصے تک عدم استحکام، تشدد اور بے یقینی کا سامنا رہا، کھیل ایک پُرامن متبادل راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ اسپورٹس گراؤنڈز، اکیڈمیز اور مقابلے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں، ان کی توانائی کو تعمیری رخ دیتے ہیں اور انہیں شناخت، اعتماد اور مقصد کا احساس دلاتے ہیں۔ تاہم یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب کھیلوں کا ماحول واقعی پُرامن، شفاف اور سیاست سے پاک ہو۔
لیفٹیننٹ گورنر کا یہ کہنا کہ کھیلوں کی صلاحیت صرف پُرامن ماحول میں ہی پروان چڑھ سکتی ہے، ایک بنیادی سچائی ہے۔ جب کھلاڑی کو یہ یقین ہو کہ اس کی محنت، صلاحیت اور کارکردگی ہی اس کے انتخاب اور کامیابی کا معیار ہے، تبھی وہ اپنی تمام تر توانائی کھیل پر مرکوز کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہر انتخاب پر شبہ، ہر فیصلے پر سوال اور ہر ناکامی کے پیچھے سازش کی بو ہو، تو کھیل کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کھیلوں میں سیاست کی مداخلت صرف انتخابی عمل تک محدود نہیں رہتی بلکہ وسائل کی تقسیم، انفراسٹرکچر کی ترقی اور مواقع کی فراہمی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ بعض علاقوں کو دانستہ نظر انداز کیا جاتا ہے، بعض کھیلوں کو غیر ضروری ترجیح دی جاتی ہے اور بعض کھلاڑی محض تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے نچلی سطح پر جدید اسپورٹس انفراسٹرکچر کی ترقی اور کھلاڑیوں کو ضروری تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ اسی عدم توازن کو دور کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
قومی اسپورٹس پالیسی۲۰۲۵؍اور جموں و کشمیر اسپورٹس پالیسی۲۰۲۲کا مؤثر نفاذ اس سمت میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ان پالیسیوں کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے۔ ’’سریجن‘‘ جیسی کانفرنسیں اسی وقت بامعنی ثابت ہوں گی جب ان سے نکلنے والی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جائے، واضح روڈ میپ تیار کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کی مستقل نگرانی کی جائے۔
خواتین اور نوجوانوں کی کھیلوں میں شرکت پر خصوصی توجہ دینا بھی ایک نہایت اہم پہلو ہے۔ سماجی دباؤ، سہولیات کی کمی، مالی رکاوٹیں اور تحفظ کے خدشات آج بھی بہت سی باصلاحیت لڑکیوں کو کھیلوں کے میدان سے دور رکھتے ہیں۔ اگر واقعی ایک مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار نسل کی تشکیل مقصود ہے تو ان رکاوٹوں کو سنجیدگی سے دور کرنا ہوگا۔ کھیلوں میں خواتین کی شمولیت نہ صرف صنفی مساوات کو فروغ دیتی ہے بلکہ معاشرے کے مجموعی رویے میں بھی مثبت تبدیلی لاتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر کارکردگی بہتر بنانے کے لیے خصوصی اسٹریٹجک ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دینا بھی ایک حقیقت پسندانہ سوچ کی عکاسی ہے۔ آج کھیل عالمی مسابقت کا میدان بن چکے ہیں، جہاں صرف جذبہ کافی نہیں بلکہ سائنسی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسس اور طویل مدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسپورٹس کونسلوں، فیڈریشنز اور منتظمین کو اس بدلتی ہوئی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنے کا مطالبہ دراصل نوجوانوں کے مستقبل کو سیاست سے بچانے کی اپیل ہے۔ باصلاحیت نوجوانوں کو ان کے جائز مواقع سے محروم کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اگر بھارت کو واقعی ایک اسپورٹس پاور ہاؤس بنانا ہے تو اسے کھیلوں کو محض تمغوں اور ٹرافیوں کے تناظر میں نہیں بلکہ قوم سازی کے ایک مضبوط ستون کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
منوج سنہا کے بیانات اس سمت میں ایک واضح اشارہ ہیں، مگر اصل امتحان نیت سے آگے بڑھ کر عمل کا ہے۔ شفاف نظام، غیر جانبدار انتخاب، مساوی مواقع اور سیاست سے پاک کھیل ہی وہ بنیاد ہیں جن پر ایک صحت مند، بااعتماد اور باصلاحیت نسل پروان چڑھ سکتی ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایل جی کا قومی اسپورٹس کانفرنس سے خطاب’ کھیلوں کی صلاحیت صرف پُرامن ماحول میں ہی پروان چڑھ سکتی ہے‘

Next Post

……اور سیاست میں کھیل ؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

......اور سیاست میں کھیل ؟

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.