یہ بات تو ہم بھی جانتے ہیں اور سو فیصد مانتے ہیں کہ ……کہ کھیل میں سیاست نہیں ہو نی چاہئے ‘ بالکل بھی نہیں ہو نی چاہئے اور……اور ایل جی سنہا صاحب نے یہ بات کہہ کر ہمارے دل کی بات کہی اور اس لئے کہی کہ اللہ میاں کی قسم کھیل میں سیاست کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے ……گنجائش نہیں ہو سکتی ہے ……کھیل ‘ کھیل ہے ‘ اسے اسی جذبے سے لینا چاہئے ‘ کھیلنا چاہئے ……اگر اس میں سیاست گھس گئی تو صاحب کھیل‘ کھیل نہیں بلکہ کچھ اور ہو جائےگا ……لیکن صاحب اس کا یہ مطلب نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ ہمیں کھیل اور سیاست سے کوئی لگاؤ نہیں ہے …… بالکل بھی نہیں ہے ‘ نہیں صاحب ایسا نہیں ہے ……الٹا سچ تو یہ ہے کہ ہمیں دونوں عزیز ہیں……بہت قریب بھی ۔اس لئے کھیل میں اگر سیاست نہ سہی ……اگر کھیل میں سیاست کی گنجائش نہیں ہو سکتی ہے تو…… تو سیاست میں کھیل کی گنجائش تو ہو ہی سکتی ہے …… نکل ہی سکتی ہے …… ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا کھیل میں سیاست ہو تی ہے یا نہیں ‘ لیکن سیاست میں کھیل ضرور ہو تا ہے اور …… اور سو فیصد ہو تا ہے ……جو کھیل ‘ سیاست میں کھیلے جاتے ہیں ……اللہ میاں کی قسم ایسے کھیل تو کھیل میں بھی کھیلے نہیں جا تے ہیں …… بالکل بھی نہیں کھیلے جاتے ہیں …… اپنے جموں کشمیر میں کھیل میں کبھی سیاست ہو ئی یا نہیں …… لیکن سیاست میں کھیل ‘ برسوں نہیں بلکہ دہائیوں سے کھیلا جاتا رہا ہے …… کشمیر ……جموں کشمیر میں ایسی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے جو سیاست میں کھیل ‘ نہیں کھیل رہی ہے …… ایسی کوئی جماعت نہیں ہو سکتی ہے ۔ ہم تو صاحب ایک قدم آگے چل کر کہیں گے کہ …… کہ کشمیر میں سیاست میں اگر کھیل نہیں کھیلے جائیں گے تو اللہ میاں کی قسم یہاں سیاست مشکل نہیں بلکہ نا ممکن بن جائے گی‘ پھر یہاں کوئی سیاست نہیں کر سکتا ہے …… وہ چاہے خود کو کتنا بھی منجھا ہوا سیاستدان سمجھے ‘ لیکن اگر وہ سیاست میں کھیل نہیں کھیلے گا تو…… تو ایک منٹ بھی کشمیر کی سیاست میں ٹک نہیں پائیگا ……ٹک نہیں پا سکتا ہے ۔ اپنے ایل جی صاحب یہ بات جانتے ہیں ……مانتے ہیں یا نہیں ‘ لیکن جانتے ضرور ہیں ……اسی لئے تو انہوں نے کھیل میں سیاست نہ ہونے کی بات کہی …… اور صحیح کہی……لیکن سیاست میں کھیل پر خاموشی اختیار کی ……سو فیصد خاموشی ۔ ہے نا؟




