نئے سال کا آغاز ہمیشہ ایک نرم مگر معنی خیز توقف ہوتا ہے۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے، مگر انسان اس لمحے رک کر پیچھے بھی دیکھتا ہے اور آگے بھی۔ یکم جنوری ۲۰۲۶ کو کشمیر بھی اسی کیفیت کے ساتھ نئے سال میں قدم رکھ رہا ہے۔دل میں سوال بھی ہیں، خدشات بھی، مگر ان سب کے باوجود ایک خاموش سی امید بھی کہ شاید آنے والا وقت کچھ بہتر لے آئے۔یہ امید کسی خوش فہمی کا نام نہیں۔ یہ اس تجربے سے جنم لیتی ہے جو کشمیری عوام نے دہائیوں میں سمیٹا ہے۔ یہ وادی آزمائشوں سے گزر کر بھی کھڑی رہی ہے، اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
گزرے ہوئے سال ۲۰۲۵ میں اگرچہ ایک عام شہری کی زندگی میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نظر نہیں آئی، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ مشکلات کے باوجود زندگی رکی نہیں۔ یہی تسلسل، یہی برداشت، نئے سال کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔۲۰۲۶ کا استقبال کرتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیر کے لوگ مایوس نہیں، بلکہ محتاط طور پر پُرامید ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حالات راتوں رات نہیں بدلتے، مگر یہ توقع ضرور رکھتے ہیں کہ محنت، سنجیدگی اور درست فیصلوں سے آہستہ آہستہ بہتری کی سمت بڑھا جا سکتا ہے۔
نوجوان، جو ہر دور میں کشمیر کی سب سے متحرک قوت رہے ہیں، نئے سال میں بھی مرکزِ توجہ ہیں۔ بے روزگاری ایک حقیقت ہے، مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ کشمیری نوجوان تعلیم، ہنر اور محنت میں کسی سے کم نہیں۔ ۲۰۲۶ ؍اگر پالیسیوں میں وضاحت، فیصلوں میں تیزی اور مواقع کی منصفانہ تقسیم لے کر آتا ہے تو یہی نوجوان وادی کے لیے ایک نئی معاشی اور سماجی توانائی بن سکتے ہیں۔ یہ سال نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کا سال بن سکتا ہے‘بشرطیکہ ان کے سوالات کو سنا جائے اور ان کے خوابوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
معاشی محاذ پر بھی نئے سال کے ساتھ نئی گنجائشیں موجود ہیں۔ باغبانی، خاص طور پر سیب کی صنعت، نے ہر مشکل کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھی ہے۔ گزشتہ برس موسمی رکاوٹوں اور شاہراہ کی بندش نے کسانوں کو نقصان ضرور پہنچایا، مگر ساتھ ہی یہ احساس بھی اجاگر ہوا کہ متبادل راستے اور بہتر منصوبہ بندی ممکن ہے۔ ریلوے کے ذریعے مال برداری کا تجربہ اگرچہ محدود رہا، لیکن اس نے ایک نئی سمت کی طرف اشارہ ضرور کیا۔
۲۰۲۶ ؍ان امکانات کو مضبوط بنیادوں میں بدلنے کا سال بن سکتا ہے۔سیاحت کے شعبے میں بھی امید کی گنجائش ختم نہیں ہوئی۔ اگرچہ گزشتہ برس کے بعض واقعات نے اعتماد کو متاثر کیا، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ کشمیر کی کشش آج بھی قائم ہے۔ امن، بہتر انتظام اور مستقل حکمتِ عملی کے ساتھ سیاحت ایک بار پھر ہزاروں خاندانوں کیلئے روزگار اور خود اعتمادی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
نیا سال اسی اعتماد کی تدریجی واپسی کا موقع فراہم کرتا ہے۔سماجی سطح پر بھی ۲۰۲۶ ؍ایک خود احتسابی کا سال بن سکتا ہے۔ گزشتہ برس سامنے آنے والے بعض تلخ واقعات نے یہ واضح کیا کہ صرف حکومت ہی نہیں، معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داری پہچاننی ہوگی۔ جب عوامی مفاد، صحت اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دی جائے گی تو سماج خود بخود مضبوط ہوگا۔ یہ احساس خود ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔اسی طرح بنیادی ڈھانچے کے میدان میں جو پیش رفت ہو چکی ہے، وہ محض کاغذی نہیں۔ سونہ مرگ ٹنل، سرینگر،کٹرا ریل رابطہ، اور پن بجلی کے منصوبے طویل المدتی اعتبار سے کشمیر کے مستقبل میں ایک نیا باب کھول سکتے ہیں۔ یہ منصوبے یہ بتاتے ہیں کہ امکانات موجود ہیں، اور اگر تسلسل کے ساتھ کام جاری رہا تو ان کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکتے ہیں۔
۲۰۲۶ ؍ان منصوبوں کو محض علامت کے بجائے عملی فائدے میں بدلنے کا سال بن سکتا ہے۔یہاں حکمرانی کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ منتخب حکومت، اور بالخصوص وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، کے لیے نیا سال ایک نئے عزم کے ساتھ آغاز کا موقع ہے۔ دہرا نظامِ حکمرانی ایک چیلنج ضرور ہے، مگر اس کے باوجود عوامی مسائل پر توجہ، بروقت فیصلے اور انتظامی حساسیت سے بہت کچھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
۲۰۲۶ ؍اگر حکمرانی میں سنجیدگی، مکالمہ اور نتیجہ خیزی لے آئے تو عوام کا اعتماد مضبوط ہو سکتا ہے۔یہ سال شکایتوں کا نہیں، سمت متعین کرنے کا سال ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کے لیے مواقع، کسانوں کے لیے تحفظ، تاجروں کے لیے استحکام اور عام شہری کے لیے باوقار زندگی—یہ سب ناممکن اہداف نہیں۔ شرط صرف نیت، ترجیح اور عمل کی ہے۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ امید کوئی کمزوری نہیں، بلکہ زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ۲۰۲۶ ؍اسی امید کے تسلسل کا نام ہے۔ایک ایسا سال جو شاید سب کچھ یک دم نہ بدلے، مگر بہتری کی سمت اعتماد کے ساتھ قدم ضرور بڑھا سکتا ہے۔نیا سال مبارک ہو، کشمیر۔یہ سال شاید مکمل جواب نہ دے، مگر درست سوال اٹھانے اور صحیح سمت میں چلنے کا حوصلہ ضرور دے سکتا ہے۔اور بعض اوقات، یہی سب سے بڑی پیش رفت ہوتی ہے۔





