سال۲۰۲۵ آج رخصت ہو رہا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں اس سال کو کس نام سے یاد رکھا جائے گا، یہ فیصلہ یقیناً آنے والے مورخ کریں گے۔ لیکن اگر حال کی زمین پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ رخصت ہونے والا سال ایک عام کشمیری کے لیے غیر معمولی نہیں تھا۔ امیدوں، دعوؤں اور منصوبوں کے باوجود، روزمرہ زندگی میں کوئی ایسا ٹھوس مثبت بدلاؤ نظر نہیں آیا جو ایک عام شہری کو یہ احساس دلا سکے کہ حالات واقعی اس کے حق میں بدل رہے ہیں۔
کشمیر میں زندگی اب بھی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ، جو کسی بھی معاشرے کی روح اور مستقبل ہوتا ہے، مختلف محاذوں پر بیک وقت لڑتا دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاری آج بھی وادی کا سب سے سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، ڈگریاں ہاتھ میں لیے، برسوں سے ملازمت کے منتظر ہیں۔ سرکاری نوکریاں محدود، نجی شعبہ کمزور، اور صنعتوں کی عدم موجودگی نے نوجوانوں کو مایوسی کے ایسے دائرے میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ فی الحال واضح نہیں۔
اس پر مستزاد ریزرویشن پالیسی کے گرد پیدا ہونے والا عدم اطمینان ہے۔ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ موجودہ پالیسی نے ان کے لیے آگے بڑھنے کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ مقابلے کے امتحانات، خاص طور پر سول سروسز جیسے باوقار امتحانات، نوجوانوں کے خوابوں کا مرکز ہوتے ہیں، مگر ۲۰۲۵میں بھی کئی امیدوار صرف اس لیے اس دوڑ میں شامل نہ ہو سکے کہ عمر کی بالائی حد میں رعایت سے متعلق فیصلہ بروقت نہیں ہو سکا۔ انتظامی تاخیر نے نہ صرف ایک موقع چھینا بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔
معاشی سطح پر دیکھا جائے تو کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا ستون باغبانی، خصوصاً سیب کی صنعت ہے۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اسی شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ مگر امسال موسم کی غیر متوقع خرابی اور اس کے نتیجے میں سرینگر-جموں شاہراہ کی بندش نے باغبانی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا۔ عین اس وقت جب سیب کو ملک کی مختلف منڈیوں میں روانہ کیا جانا تھا، شاہراہ کئی دنوں تک بند رہی۔ سیب سے لدی ٹرکیں سڑکوں پر درماندہ رہیں، مال خراب ہوا، اور کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
اگرچہ بعد میں ریلوے کی جانب سے خصوصی مال بردار ٹرینیں چلائی گئیں، جس سے صورتحال میں کچھ بہتری آئی، مگر یہ اقدام وقتی ثابت ہوا۔ شاہراہ کے دوبارہ کھلنے کے بعد ہی کشمیر کا میوہ بڑی منڈیوں تک پہنچ سکا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ وادی کی معیشت آج بھی ایک ہی زمینی رابطے پر کس قدر انحصار کرتی ہے، اور کسی بھی موسمی یا انتظامی رکاوٹ کا براہِ راست خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔
سیاحت کشمیر کی معیشت کا ایک اور اہم ستون ہے۔ سال ۲۰۲۵ کے آغاز میں یہ امید بندھی تھی کہ وادی سیاحتی سرگرمیوں کے ذریعے معاشی طور پر کچھ سنبھل سکے گی۔ ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں سیاح کشمیر پہنچے، ہوٹل، ہاؤس بوٹس اور مقامی کاروبار ایک بار پھر آباد نظر آنے لگے۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ پہلگام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ۲۶ معصوم افراد کے قتل نے نہ صرف انسانی ضمیر کو جھنجھوڑا بلکہ کشمیر کی سیاحت اور معیشت پر بھی گہرا زخم لگایا۔
اس حملے کے بعد حالات تیزی سے بدل گئے۔ سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، اور دونوں ملکوں کے درمیان چار دن تک مسلح جھڑپیں جاری رہیں۔ اگرچہ ایک بڑی جنگ ٹل گئی، لیکن اس کشیدگی نے سیاحوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔ ہوٹلوں میں بکنگ منسوخ ہوئیں، سیاح واپس لوٹ گئے، اور مقامی سطح پر روزگار کے کئی مواقع ایک بار پھر ختم ہو گئے۔
سال ۲۰۲۵ میں سامنے آنے والے کچھ واقعات نے کشمیری سماج کے اندر موجود سنگین اخلاقی بحران کی بھی نشاندہی کی۔ گلے سڑے گوشت کی برآمدگی نے یہ تلخ حقیقت بے نقاب کی کہ آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے مالی فائدے کے لیے لوگوں کی صحت اور جان سے کھیلنے کو تیار ہیں۔ اس معاملے پر عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ تاحال نہ ذمہ داروں کا واضح تعین ہو سکا ہے اور نہ ہی کوئی سخت اور مؤثر کارروائی سامنے آئی ہے۔ یہ خاموشی عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کرتی ہے۔
تاہم، تصویر کا ایک رخ مکمل طور پر تاریک بھی نہیں۔ سال۲۰۲۵ میں کچھ مثبت پیش رفتیں بھی ہوئیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بہتری کا سفر جاری رہا۔ سونہ مرگ ٹنل کا افتتاح ہو یا سرینگر سے کٹرا تک وندے بھارت ٹرین کی شروعات، یہ اقدامات طویل المدتی اعتبار سے خطے کے لیے اہم سمجھے جا سکتے ہیں۔ ریل رابطے نے خاص طور پر وادی کے لیے نئی امیدیں پیدا کی ہیں، کیونکہ یہ صرف مسافروں ہی نہیں بلکہ مال برداری کے لیے بھی ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے۔
پن بجلی کے شعبے میں بھی پیش رفت قابلِ ذکر رہی۔ متعدد چھوٹے اور بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، اور حال ہی میں چناب دریا پر بننے والے دلہستی پروجیکٹ ٹو کی منظوری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر یہ منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں تو آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر نہ صرف بجلی کے شعبے میں خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کو بھی بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام منصوبے ایک عام کشمیری کی زندگی میں فوری اور محسوس تبدیلی لا پائیں گے؟ یا پھر یہ بھی محض مستقبل کے وعدے بن کر رہ جائیں گے؟ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی عام شہری کو روزگار، صحت، تعلیم اور تحفظ جیسے بنیادی مسائل درپیش ہیں۔
۲۰۲۵ رخصت ہو رہا ہے۔ یہ سال امید اور محرومی کے بیچ معلق رہا۔ ایک طرف ترقیاتی منصوبے اور بڑے اعلانات، دوسری طرف عام آدمی کی زندگی میں جمود۔ نئے سال کی دہلیز پر کھڑے ہو کر کشمیری عوام کی یہی تمنا ہے کہ آنے والے دن، ہفتے، مہینے اور سال صرف سرکاری فائلوں اور افتتاحی تقاریب تک محدود نہ رہیں، بلکہ واقعی ایک عام کشمیری کے لیے خوشحالی، استحکام اور باوقار زندگی کا پیغام لے کر آئیں۔
یہ امید ہی شاید وہ واحد سرمایہ ہے جو آج بھی کشمیری کے پاس موجود ہے۔





