ہفتہ, جون 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کشمیر میں کچرے کا بحران کا کوئی حل ہے؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-12-28
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

کشمیر کی وادی کو قدرت نے جو حسن، زرخیزی اور توازن عطا کیا تھا، وہ صدیوں تک اس کی شناخت رہا۔ جھیلیں، ندی نالے، کھیت، باغات اور صاف فضا‘یہ سب صرف مناظر نہیں تھے بلکہ ایک طرزِ زندگی کی علامت تھے۔ مگر آج یہی وادی ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جو خاموش بھی ہے اور مہلک بھی:کچرے کا بحران۔ اونتی پورہ کے ڈانگر پورہ پدگام پورہ میں چھ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ اور سرینگر کااچھن ڈمپنگ سائٹ‘یہ دونوں مقامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف وسائل کا نہیں، نیت، نگرانی اور جوابدہی کا ہے۔
پلوامہ کے اونتی پورہ میں جس سائنسی ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ کا خواب دکھایا گیا تھا، وہ آج ایک کھلے کچرا ڈھیر میں بدل چکا ہے۔ الزام یہ نہیں کہ منصوبہ منظور نہیں ہوا، الزام یہ ہے کہ منظوری کے بعد بھی اسے چلایا نہیں گیا۔ چھ کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود نتیجہ صفر ہے۔ کچرا بدستور غیر سائنسی انداز میں کھلے میدان میں پھینکا جا رہا ہے، قوانین پامال ہو رہے ہیں، اور آس پاس کے لوگ جانوروں، تعفن اور بیماریوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جب آبپاشی کی نہر چند میٹر کے فاصلے سے گزرتی ہو اور اس کے ساتھ ہی کچرا جلایا جا رہا ہو، تو یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ کھلی غفلت ہے۔
یہی کہانی، کچھ بڑے پیمانے پر، سرینگر میں اچھن ڈمپنگ سائٹ پر دہرائی جا رہی ہے۔ جو جگہ عارضی انتظام کے طور پر بنائی گئی تھی، وہ دہائیوں سے شہر کا مستقل کوڑا گھر بنی ہوئی ہے۔ روزانہ چار سے پانچ سو ٹن کچرا‘گھریلو، تجارتی، طبی اور پلاسٹک‘بغیر کسی مؤثر چھانٹی یا سائنسی پروسیسنگ کے یہاں پھینکا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ زہریلی گیسیں، بدبو اور آلودہ پانی شہر کی فضا، زمین اور زیرِ زمین پانی کو آہستہ آہستہ زہر آلود کر رہے ہیں۔
یہ بحران اب کسی ایک محلے یا طبقے تک محدود نہیں رہا۔ جب اچھن کی بدبو لال چوک تک پہنچنے لگے تو یہ واضح اشارہ ہے کہ مسئلہ مرکز تک آ چکا ہے۔ بدبو صرف ناک کو نہیں لگتی، یہ صحت، وقار اور شہری حق پر حملہ ہے۔ سانس کی بیماریاں، الرجی، دمہ اور جلدی مسائل‘یہ سب اب محض اتفاق نہیں رہے۔ ڈاکٹر خود اعتراف کر رہے ہیں کہ اچھن کے آس پاس کے علاقوں میں مریضوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔
ایک حالیہ جائزہ اجلاس میں جموںکشمیر کے وزیرِ اعلیٰ‘عمرعبداللہ نے اچھن ڈمپنگ سائٹ سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور عوامی صحت کے مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ سائنسی اور ماحول دوست کچرا نظم و نسق کے طریقے اختیار کیے جائیں اور اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کو مقررہ مدت کے اندر حل کیا جانا چاہیے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ قوانین موجود ہیں یا نہیں۔ میونسپل سالڈ ویسٹ رولز ۲۰۱۶، آبی اور فضائی آلودگی کے قوانین، ماحولیاتی تحفظ ایکٹ…سب موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ جب آلودگی کنٹرول کمیٹی نوٹس جاری کرے اور اس کے باوجود کچرا ڈالا جاتا رہے، تو پھر قانون کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اور جب سرکاری فنڈز خرچ ہو جائیں مگر منصوبہ زمین پر ناکام رہے، تو احتساب کا دروازہ کس نے بند کیا؟
الزام صرف اداروں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جانا بھی آسان حل ہے، مگر یہ پوری سچائی نہیں۔ شہری سطح پر کچرے کی چھانٹی نہ ہونا، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، اور سڑکوں و نالوں میں کوڑا پھینکنے کی عادت‘یہ سب بحران کو گہرا کرتے ہیں۔ مگر شہری ذمہ داری اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب نظام خود سنجیدہ ہو۔ جب شہری دیکھتے ہیں کہ الگ کیا گیا کچرا بھی آخرکار ایک ہی ٹرک میں جا رہا ہے، تو ان کی حوصلہ شکنی فطری ہے۔
اصل مسئلہ ایک فرسودہ ماڈل سے چمٹے رہنا ہے۔ اکیسویں صدی کے شہر کو اسی کی دہائی کے ڈمپنگ نظام سے نہیں چلایا جا سکتا۔ جب تک گھر کی سطح پر چھانٹی نہیں ہوگی، جب تک محلے کی سطح پر کمپوسٹنگ اور ری سائیکلنگ یونٹس قائم نہیں ہوں گے، اور جب تک ناقابلِ استعمال کچرے کے لیے جدید ویسٹ ٹو انرجی حل نہیں اپنائے جائیں گے، تب تک اچن جیسے مقامات بوجھ بنتے رہیں گے۔
اونتی پورہ اور اچھن دونوں ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں: ماحولیاتی بحران اچانک نہیں آتا، یہ برسوں کی لاپرواہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ بحران صرف بدبو یا بدصورتی کا نہیں، یہ پانی، زمین، خوراک اور آنے والی نسلوں کا سوال ہے۔ زیرِ زمین پانی ایک بار آلودہ ہو جائے تو اسے بحال کرنے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں‘اگر ممکن ہو تو۔
اس وقت ضرورت ہے کہ حکومت وقتی بیانات اور کمیٹیوں سے آگے بڑھے۔ ایک واضح، قابلِ عمل اور وقت سے بندھا منصوبہ درکار ہے۔ مرحلہ وار ڈمپنگ سائٹس کی بحالی، سخت نگرانی، آزادانہ آڈٹ، اور ان افسران کی جوابدہی جن کے دور میں منصوبے ناکام ہوئے‘یہ سب ناگزیر ہیں۔ ساتھ ہی شہریوں کو بھی اعتماد میں لے کر یہ پیغام دینا ہوگا کہ کچرا کوئی غیر مرئی مسئلہ نہیں، یہ ہماری روزمرہ زندگی کا آئینہ ہے۔
اچھن کی بدبو اور ڈانگر پورہ کے کچرے کے ڈھیر دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بو کو نظرانداز کرتے رہیں گے، یا اسے اصلاح کا الارم سمجھیں گے؟ کشمیر کی شناخت صرف اس کے مناظر نہیں، بلکہ یہ کہ ہم اس سرزمین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو نقصان صرف ماحول کا نہیں ہوگا، بلکہ ہماری اخلاقی ساکھ کا بھی۔
کچرا صاف کرنا صرف صفائی کا کام نہیں، یہ طرزِ حکمرانی کی آزمائش ہے۔ اور اس آزمائش میں وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وزیر اعظم مودی کا اصلاحات سے قبل گذر بسر میں آسانی کے عزم کا اعادہ

Next Post

میر واعظ عمر کا ’سمجھوتہ‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

میر واعظ عمر کا ’سمجھوتہ‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.