اتراکھنڈ کے کاشی پور میں ایک کشمیری شال فروش پر ہونے والا حملہ محض ایک فرد پر تشدد کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو شناخت، روزگار اور شہری حقوق کو نشانہ بناتی ہے۔
ایک نوجوان، جو شدید سردیوں میں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے در در جا کر محنت کر رہا تھا، اسے تشدد، دھمکیوں اور زبردستی نعروں کے ذریعے ذلیل کیا گیا۔ یہ منظر کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے۔ ایسے واقعات کی جتنی سخت مذمت کی جائے کم ہے، کیونکہ یہ نہ صرف انسانی وقار کے خلاف ہیں بلکہ آئین کی روح پر بھی حملہ ہیں۔
کشمیری شال فروش دہائیوں سے ملک کے مختلف حصوں میں موسمی تجارت کرتے آئے ہیں۔ ان کا سرمایہ ان کی محنت، ان کا اعتماد اور اس ملک کے آئین پر یقین رہا ہے۔ جب کسی شہری کو محض اس کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے، تو یہ سوال صرف امن و امان کا نہیں رہتا، یہ ریاستی ذمہ داری اور سماجی شعور کا امتحان بن جاتا ہے۔ اس واقعے میں جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ تشدد، دھونس اور خوف کے ذریعے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بانٹنے کی کوشش دراصل حب الوطنی کی توہین ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اس طرح کے واقعات اتفاقیہ نہیں ہوتے۔ یہ اْس فضا میں جنم لیتے ہیں جہاں نفرت انگیز بیانیہ، غیر ذمہ دارانہ سیاست اور خاموش تماشائی بنے رہنے کی عادت پروان چڑھتی ہے۔ جب قانون کی جگہ ہجوم لے لے اور انصاف کی جگہ طاقت، تو معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ کشمیری ہو یا کسی اور خطے کا شہری‘کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے کی جان، عزت اور روزگار سے کھیلے۔
تاہم اس تاریک پس منظر میں ایک روشن پہلو بھی سامنے آیا، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ کی بروقت اور واضح مداخلت نے یہ پیغام دیا کہ ریاست ایسے جرائم پر خاموش نہیں رہے گی۔ یہ کہنا کہ کشمیریوں کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائیں گی، محض ایک بیان نہیں بلکہ آئینی یقین دہانی ہے۔ اسی مداخلت کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے، ایف آئی آر درج ہوئی، گرفتاریاں ہوئیں اور یہ واضح کیا گیا کہ کوئی دباؤ یا غیر رسمی سمجھوتہ قانون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔
یہ رویہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب وہ کمزور کے ساتھ کھڑی نظر آئے۔ وزارتِ داخلہ کی یہ مداخلت نہ صرف متاثرہ شخص کے لیے اعتماد کا باعث بنی بلکہ ملک بھر میں کام کرنے والے کشمیری تاجروں اور مزدوروں کے لیے بھی ایک اطمینان بخش پیغام تھا کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں۔ یہ وہ موقع تھا جب مرکز نے واضح کیا کہ شہریوں کے درمیان کوئی درجہ بندی نہیں، سب برابر ہیں اور قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے۔
اس کے ساتھ ہی اتراکھنڈ پولیس کی تیز رفتار کارروائی بھی اس بات کی علامت ہے کہ اگر ادارے چاہیں تو قانون کی عملداری ممکن ہے۔ مشن موڈ میں تحقیقات، ملزمان کی شناخت اور گرفتاری‘یہ سب اقدامات اس لیے ضروری تھے کہ معاشرے میں یہ تاثر قائم ہو کہ تشدد کرنے والا بچ نہیں سکتا۔ یہ عمل محض ایک کیس کا حل نہیں بلکہ ایک مثال ہے، جسے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معیار بننا چاہیے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر بار صرف واقعے کے بعد حرکت میں آئیں گے؟ کیا نفرت کے بیج بوئے جانے سے پہلے انہیں روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہوگی؟ یہ ذمہ داری صرف حکومتوں پر نہیں، سماج پر بھی عائد ہوتی ہے۔ مذہبی، سیاسی یا علاقائی شناخت کو ہتھیار بنا کر دوسروں کو خوفزدہ کرنا دراصل معاشرتی کمزوری کی علامت ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اختلاف کے ساتھ جینے اور تنوع کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔
کشمیری شال فروش کا واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ روزگار کی تلاش میں گھر سے دور نکلنے والا ہر شخص ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چاہے وہ مزدور ہو، تاجر ہو یا طالب علم‘اس کی حفاظت، عزت اور آزادی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آئین نے جو حق دیا ہے، اس پر کوئی گروہ، کوئی تنظیم اور کوئی فرد قدغن نہیں لگا سکتا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے واقعات پر سیاست نہ کی جائے۔ متاثرہ شخص کو انصاف دلانا مقصد ہونا چاہیے، نہ کہ وقتی فائدہ اٹھانا۔ جب نفرت کو سیاسی ایندھن بنایا جاتا ہے تو اس کی آگ سب کو جلاتی ہے۔ آج نشانہ کوئی اور ہے، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔ اس لیے بروقت ریاستی مداخلت کے ساتھ ساتھ مستقل پالیسی اور سماجی بیداری کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے دیا گیا واضح پیغام اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، مگر یہ آخری قدم نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ذمہ داری ریاستی حکومتوں، پولیس انتظامیہ اور سماجی اداروں پر آتی ہے کہ وہ زمین پر اس پیغام کو حقیقت بنائیں۔ زیرو ٹالرنس کا اعلان تب ہی مؤثر ہوگا جب اس پر بلا امتیاز عمل ہوگا۔
آخر میں، اس واقعے یا اس جیسے واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کے ساتھ یہ کہنا ضروری ہے کہ ریاست کا کردار امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ قانون نے حرکت کی، انصاف کا عمل شروع ہوا اور ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی کہ تشدد اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔ کشمیری ہو یا غیر کشمیری‘ہر شہری کا حق ہے کہ وہ بغیر خوف کے محنت کرے، جئے اور عزت کے ساتھ اس ملک کا حصہ بنے۔ یہی آئین کا وعدہ ہے، اور اسی وعدے کی پاسداری ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔




