کبھی کبھی سچ دشمن کے کیمپ سے نہیں بلکہ اپنے ہی گھر کے اندر سے ابھرتا ہے، اور جب ایسا ہوتا ہے تو وہ زیادہ تکلیف دہ بھی ہوتا ہے اور زیادہ بے نقاب کرنے والا بھی۔ پاکستان کے معروف سیاسی و مذہبی رہنما مولانا فضل الرحمٰن کا حالیہ بیان اسی نوعیت کا ایک اعتراف ہے، جو نہ صرف پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پر سوالیہ نشان لگاتا ہے بلکہ دہشت گردی کے حوالے سے اس کے برسوں پرانے دوہرے معیار کو بھی برہنہ کر دیتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے جس سادگی مگر دوٹوک انداز میں یہ کہا کہ اگر افغانستان پر پاکستان کا حملہ درست ہے تو پھر پاکستان پر بھارت کا حملہ بھی درست ماننا پڑے گا، دراصل وہ پاکستان کی ریاستی منطق کو اس کے منطقی انجام تک لے گئے ہیں۔ یہ بیان کسی جذباتی نعرے یا وقتی سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک بنیادی اصولی سوال ہے: کیا سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائی صرف پاکستان کا حق ہے؟ اور اگر نہیں، تو پھر اعتراض کس بنیاد پر؟
یہ سوال اس لیے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کیونکہ پاکستان برسوں سے خود کو دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار قرار دیتا آیا ہے۔ عالمی فورمز، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، اور مغربی دارالحکومتوں میں سفارتی مہمات‘ہر جگہ یہی بیانیہ دہرایا جاتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ لیکن اس بیانیے کے نیچے جو حقیقت دفن ہے، وہ یہی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کو کبھی اصولی مسئلہ نہیں سمجھا، بلکہ ہمیشہ اسے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔
افغانستان میں حالیہ پاکستانی فوجی کارروائیاں اسی انتخابی سوچ کی تازہ مثال ہیں۔ شہری ہلاکتوں کی اطلاعات کے باوجود ان حملوں کو ’قومی سلامتی‘ اور’دفاعِ وطن‘ کے نام پر جائز ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی منطق پاکستان استعمال کر سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟ اگر پاکستان یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے سرحد پار موجود دشمن کو نشانہ بنایا، تو بھارت بھی یہی کہنے کا حق رکھتا ہے کہ اس نے اپنے شہریوں کے قاتلوں کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
پاکستان کی اصل مشکل یہ نہیں کہ اس پر الزام لگ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پاس ان الزامات کا کوئی اصولی جواب نہیں۔ ایک طرف وہ افغانستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، دوسری طرف دنیا یہ سوال کرتی ہے کہ لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد اور دیگر گروہ دہائیوں تک پاکستان میں کس کی سرپرستی میں سرگرم رہے؟ ان کے مراکز، مدارس، فنڈنگ نیٹ ورکس اور تربیتی ڈھانچے کیسے پنپتے رہے؟
یہاں پاکستان کی فوج کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق پالیسی کا مرکز پارلیمان نہیں بلکہ جی ایچ کیو رہا ہے۔ ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کے نظریے کے تحت کچھ گروہوں کو ریاستی اثاثہ سمجھا گیا، اور یہی وہ بنیادی غلطی تھی جس نے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا۔ جب یہی گروہ قابو سے باہر ہوئے تو انہیں دہشت گرد قرار دے دیا گیا، مگر اس سوال کا جواب آج تک نہیں دیا گیا کہ انہیں پیدا ہی کیوں کیا گیا تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا بیان اسی تضاد پر انگلی رکھتا ہے۔ وہ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ایک ہی وقت میں دو متضاد مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ یا تو سرحد پار کارروائیاں ایک اصولی حق ہیں، یا پھر وہ ہر صورت میں غلط ہیں۔ اگر وہ غلط ہیں تو پاکستان کو سب سے پہلے خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔ اور اگر وہ درست ہیں، تو پھر بھارت پر اخلاقی برتری کا دعویٰ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج افغانستان بھی وہی زبان استعمال کر رہا ہے جو کبھی پاکستان استعمال کرتا تھا۔ کابل کہتا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کی، کیونکہ حملے پاکستان کی طرف سے شروع ہوئے۔ یعنی پاکستان اب خود اسی دلیل کا سامنا کر رہا ہے جسے وہ برسوں سے مسترد کرتا آیا ہے۔ یہ تاریخ کا عجیب مگر سبق آموز انتقام ہے۔
پاکستان کی منافقت صرف خارجہ محاذ تک محدود نہیں۔ داخلی سطح پر بھی یہی دوہرا معیار کارفرما ہے۔ کچھ شدت پسند تنظیمیں ’قابلِ قبول‘ ہیں، کچھ ’ناقابلِ قبول‘۔ یہ تفریق قانون کی نہیں بلکہ مفاد کی بنیاد پر کی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج تک دہشت گردی کے مسئلے کو جڑ سے ختم نہیں کر سکا۔
بین الاقوامی برادری اب اس کھیل کو سمجھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو بار بار سفارتی دباؤ، مالی نگرانی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ہر بار وقتی اصلاحات کے بعد پرانی روش اختیار کر لی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان دراصل اسی روش پر ایک داخلی فردِ جرم ہے‘ایک ایسا اعتراف جو ریاستی بیانیے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یا تو وہ دہشت گردی کے حوالے سے ایک واضح، غیر مبہم اور یکساں اصول اپنائے، یا پھر اسی تضاد کے ساتھ آگے بڑھے جس نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے۔ دنیا اب بیانات سے نہیں، عمل سے قائل ہوتی ہے۔ اور عمل یہی کہتا ہے کہ دہشت گردی اگر جرم ہے تو ہر جگہ جرم ہے، اور اگر دفاع کا حق ہے تو سب کے لیے برابر ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے جو سوال اٹھایا ہے، وہ محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک آئینہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح آنکھیں بند کر کے دوسروں پر انگلی اٹھاتا رہے گا؟
تاریخ کا فیصلہ سخت ہوتا ہے، اور دوہرے معیار رکھنے والی ریاستیں اکثر اس فیصلے میں سرخرو نہیں ہوتیں۔ پاکستان کے پاس ابھی بھی موقع ہے کہ وہ منافقت کے اس دائرے سے باہر نکلے۔ مگر اس کے لیے سب سے پہلے سچ کو تسلیم کرنا ہوگا…اور سچ، اب خود پاکستان کے اندر سے بول رہا ہے۔





