سوشل میڈیا نے پریشان کر کے رکھ دیا ہے … یا پھر کنفیوز… ایک پوسٹ… ایک ریل میں … ایک فیڈ میں کسی چیز کے کھانے کے فوائد گنے جاتے ہیں اور دوسرے پوسٹ میں اس کے صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کا خاکہ… تفصیلی خاکہ پیش کیا جاتا ہے… انسان دھنگ رہ جاتا ہے کہ بھلا ایک ہی چیز کیسے ابن آدم کیلئے فائدے مند ہو سکتی ہے اور مضر صحت بھی … مشکل … بڑی مشکل سے دل و دماغ کو پھر سمجھانا پڑتا ہے کہ صاحب اب ہم شوسل میڈیا کے دور میں رہ رہے ہیں… یہ آپ سے اجازت طلب نہیں کر تا ہے… کسی بات کی اجازت نہیں مانگتا ہے ‘ یہ آپ کے گھر ‘ آپ کے بیڈ روم حتیٰ کہ آپ کی زندگی میں بھی داخل ہو تا ہے… اور اسے اس کیلئے آپ کی پیشگی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے… بالکل بھی نہیں ہو تی ہے… داخل ہونے کے بعد اس کا جو جی چاہے وہ آپ سے کرواتا ہے اور آپ سے کرتا ہے…کسی سے دنوں فاقے کرواتا ہے اور کسی کو بغیر کسی خوف کے پیٹ بھر کے کھانا کھانے کا حوصلہ دیتا ہے … اس صورتحال کے بیچ کشمیر میں کبھی گلا سڑا گوشت برآمدہوتا ہے تو کبھی اس گوشت سے بنے رستا اور گوشتابا و کباب۔ نلوں سے تو اب زیادہ پانی آتا نہیں ہے… وہ زیاہ تر پیاسے ہی ہو تے ہیں… اور اگر کبھی کبھار ان کی پیاس بجھ بھی جائے تو… تو کیا ہم بھی اس پانی سے اپنی پیاس بھجا سکتے ہیں… ہم نہیں جانتے ہیں… اس لئے ہم میں بہت ساروں نے بند بوتل پانی سے رجوع کیا… اسے پینا شروع کردیا … اور اب اس پانی کو بھی ناقابل استعمال قرار دیا گیا ہے… ایک برانڈ کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے… امتحانات میں انڈا آئے تو بے چارے کی خیر ہوتی … گھر میں ہر ایک ڈانٹ سنی پڑتی تھی… اب تو امتحانات میں انڈے نہیں آتے ہیں… لیکن اگر انڈے کو امتحان میں انڈا آیا تو… تو صاحب پھر یہ سوال پوچھنا ہی چاہئے کہ ہم آخر کھائیں کیا… اس لئے نہیںکہ پیٹ کی آگ بھجانی ہے… بلکہ اس لئے کہ ہمیں زندہ رہنا ہے…یازندہ رہنے کیلئے کھانا ضروری ہے… وہ کھانا جو ہمیں زندہ رکھے… جو ہمیں زندگی کی طرف لے جائے نہ کہ وہ کھانا جو ہمیں زندگی سے کہیں اور لے جائے… اس سے دور لے جائے… لیکن صاحب ہمارے کشمیر میں کیا ایسا کوئی کھانا ہے دستیاب؟ہم نہیں جانتے ہیں…لیکن اتنا جانتے ہیں کہ … کہ اس کا جواب بھی سوشل میڈیا نے تیار رکھا ہو گا …بس آپ کے دیکھنے کی دیر ہے ۔اپنے موبائل کو آن کیجئے ۔ ہے نا؟




