کشمیر میں حالیہ ایام کے دوران بعض علیحدگی پسند عناصر اور دہشت گردی سے وابستہ افراد کی گرفتاریوں پر میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی جانب سے جس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، وہ کئی حوالوں سے ناقابلِ فہم ہی نہیں بلکہ زمینی حقائق اور قانونی تقاضوں سے متصادم بھی نظر آتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ریاستی ادارے برسوں سے زیرِ التوا دہشت گردی کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس نوع کی تشویش دراصل انصاف کے فطری عمل پر سوالیہ نشان لگانے کے مترادف ہے۔
یہ بات کسی ابہام کے بغیر تسلیم کی جانی چاہیے کہ حالیہ دنوں میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے یا جن کے خلاف کارروائی جاری ہے، وہ محض کسی نظریاتی اختلاف یا سیاسی وابستگی کے سبب نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دہشت گردی کے سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ ان گرفتاریوں کا مقصد انتقام نہیں بلکہ قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی ہے۔ ریاست کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ ان جرائم کا حساب لے جو برسوں تک بے حساب رہے، اور ان ہاتھوں کو قانون کے کٹہرے میں لائے جن پر معصوم جانوں کے خون کے دھبے آج بھی ثبت ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جاوید میر عرف جاوید نلکہ اور شکیل احمد بخشی جیسے افراد اُس پاکستان کی اعانت یافتہ نام نہاد علیحدگی پسند تحریک کے اولین قائدین میں شامل رہے ہیں جس نے کشمیر کو تشدد، تباہی اور خونریزی کے ایک نہ ختم ہونے والے دور میں دھکیل دیا۔ یہ وہ دور تھا جب وادی کی پہچان امن، رواداری اور قدرتی حسن کے بجائے بندوق، کرفیو، خوف اور لاشوں سے ہونے لگی۔ ہر گلی کوچے میں قبرستان آباد ہوئے، ہر گھر میں سوگ اور ہر آنکھ میں عدمِ تحفظ نے ڈیرے ڈالے۔ وہ کشمیر جو اپنی معاشرتی ہم آہنگی اور پْرامن فضا کے لیے جانا جاتا تھا، رفتہ رفتہ بدامنی کی علامت بن گیا۔
ان حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ اگر ایسے افراد، جن کا ماضی دہشت گردی یا علیحدگی پسندی سے جڑا رہا ہو، آج بھی قانون کی گرفت سے باہر رہیں یا انہیں محض وقت گزر جانے کی بنیاد پر جواب دہی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو پھر انصاف کا تصور کہاں باقی رہ جاتا ہے؟ کیا برسوں پہلے کیے گئے جرائم اس لیے غیر متعلق ہو جاتے ہیں کہ وقت گزر گیا؟ کیا ان ہزاروں خاندانوں کے زخم بھر چکے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، یا ان بچوں کا دکھ مٹ گیا ہے جو یتیم ہوئے؟
اصل المیہ یہ ہے کہ برسوں تک کشمیر میں تشدد کی سیاست کرنے والوں کو نہ صرف سماجی قبولیت حاصل رہی بلکہ کئی مواقع پر انہیں اخلاقی جواز بھی فراہم کیا گیا۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو براہِ راست تشدد میں شامل نہیں تھے، مگر جن کے خاندان کا کوئی فرد کسی نہ کسی مرحلے پر علیحدگی پسندوں یا دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہو گیا، وہ آج بھی اجتماعی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے گھروں پر چھاپے، روزگار میں رکاوٹیں، سماجی بدنامی اور مسلسل نگرانی ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔
یہاں ایک واضح امتیاز کرنا ناگزیر ہے۔ جو افراد براہِ راست دہشت گردی، قتل و غارت اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، ان کا آزاد گھومنا پھرنا انصاف کے تقاضوں کے عین منافی ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کا واحد ’قصور‘ یہ ہے کہ ان کا کوئی رشتہ دار اس راستے پر چل نکلا، انہیں بلا امتیاز سزا دینا بھی اسی قدر ناانصافی ہے۔ قانون کا تقاضا یہی ہے کہ جرم فرد کا ہوتا ہے، خاندان کا نہیں۔
بدقسمتی سے میرواعظ کے بیان میں یہ امتیاز واضح نہیں ہو پاتا۔ جب وہ دہائیوں پرانے مقدمات میں گرفتاریوں کو مجموعی طور پر تشویش کا باعث قرار دیتے ہیں تو اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ گویا دہشت گردی کے مقدمات محض سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں قانونی کارروائی غیر ضروری یا ظالمانہ ہے۔ یہ تاثر نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ ان ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے جنہوں نے تشدد کی بھینٹ چڑھ کر ناقابلِ تلافی نقصان اٹھایا۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ قانون اور انصاف وقتی مصلحتوں کے تابع نہیں ہو سکتے۔ اگر ریاست آج یہ فیصلہ کر لے کہ پرانے مقدمات کو محض اس لیے بند کر دیا جائے کہ وقت گزر چکا ہے یا حالات بدل گئے ہیں، تو اس سے مستقبل میں قانون شکنی کے لیے ایک خطرناک مثال قائم ہوگی۔ انصاف اگر تاخیر کا شکار ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ترک کر دیا جائے۔
کشمیر آج جس نسبتاً پْرامن دور میں داخل ہو رہا ہے، اس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ تشدد کی سیاست کو غیر مبہم انداز میں مسترد کیا جائے۔ اس عمل میں سب سے بڑی ذمہ داری ان مذہبی اور سماجی قائدین پر عائد ہوتی ہے جو عوامی رائے پر اثر رکھتے ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی بالادستی، انصاف کی اہمیت اور تشدد سے مکمل لاتعلقی کا واضح پیغام دیں گے، نہ کہ ایسے بیانات کے ذریعے ابہام پیدا کریں جو پرانے زخموں کو پھر سے ہرا کریں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیر کو آگے بڑھنا ہے تو سچ کا سامنا کرنا ہوگا۔ تشدد کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانا انصاف ہے، انتقام نہیں۔ اور بے گناہوں کو اجتماعی سزا سے بچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اصل توازن یہی ہے، اور اسی میں کشمیر کے پائیدار امن کی ضمانت پوشیدہ ہے۔





