جمعرات, جولائی 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

میرواعظ عمرفاروق کا بیان: انصاف، تاریخ اور حالیہ حقائق کے تناظر میں کیا صحیح ہے؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-12-16
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

 کشمیر میں حالیہ ایام کے دوران بعض علیحدگی پسند عناصر اور دہشت گردی سے وابستہ افراد کی گرفتاریوں پر میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی جانب سے جس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، وہ کئی حوالوں سے ناقابلِ فہم ہی نہیں بلکہ زمینی حقائق اور قانونی تقاضوں سے متصادم بھی نظر آتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ریاستی ادارے برسوں سے زیرِ التوا دہشت گردی کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس نوع کی تشویش دراصل انصاف کے فطری عمل پر سوالیہ نشان لگانے کے مترادف ہے۔
یہ بات کسی ابہام کے بغیر تسلیم کی جانی چاہیے کہ حالیہ دنوں میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے یا جن کے خلاف کارروائی جاری ہے، وہ محض کسی نظریاتی اختلاف یا سیاسی وابستگی کے سبب نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دہشت گردی کے سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ ان گرفتاریوں کا مقصد انتقام نہیں بلکہ قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی ہے۔ ریاست کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ ان جرائم کا حساب لے جو برسوں تک بے حساب رہے، اور ان ہاتھوں کو قانون کے کٹہرے میں لائے جن پر معصوم جانوں کے خون کے دھبے آج بھی ثبت ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جاوید میر عرف جاوید نلکہ اور شکیل احمد بخشی جیسے افراد اُس پاکستان کی اعانت یافتہ نام نہاد علیحدگی پسند تحریک کے اولین قائدین میں شامل رہے ہیں جس نے کشمیر کو تشدد، تباہی اور خونریزی کے ایک نہ ختم ہونے والے دور میں دھکیل دیا۔ یہ وہ دور تھا جب وادی کی پہچان امن، رواداری اور قدرتی حسن کے بجائے بندوق، کرفیو، خوف اور لاشوں سے ہونے لگی۔ ہر گلی کوچے میں قبرستان آباد ہوئے، ہر گھر میں سوگ اور ہر آنکھ میں عدمِ تحفظ نے ڈیرے ڈالے۔ وہ کشمیر جو اپنی معاشرتی ہم آہنگی اور پْرامن فضا کے لیے جانا جاتا تھا، رفتہ رفتہ بدامنی کی علامت بن گیا۔
ان حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ اگر ایسے افراد، جن کا ماضی دہشت گردی یا علیحدگی پسندی سے جڑا رہا ہو، آج بھی قانون کی گرفت سے باہر رہیں یا انہیں محض وقت گزر جانے کی بنیاد پر جواب دہی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو پھر انصاف کا تصور کہاں باقی رہ جاتا ہے؟ کیا برسوں پہلے کیے گئے جرائم اس لیے غیر متعلق ہو جاتے ہیں کہ وقت گزر گیا؟ کیا ان ہزاروں خاندانوں کے زخم بھر چکے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، یا ان بچوں کا دکھ مٹ گیا ہے جو یتیم ہوئے؟
اصل المیہ یہ ہے کہ برسوں تک کشمیر میں تشدد کی سیاست کرنے والوں کو نہ صرف سماجی قبولیت حاصل رہی بلکہ کئی مواقع پر انہیں اخلاقی جواز بھی فراہم کیا گیا۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو براہِ راست تشدد میں شامل نہیں تھے، مگر جن کے خاندان کا کوئی فرد کسی نہ کسی مرحلے پر علیحدگی پسندوں یا دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہو گیا، وہ آج بھی اجتماعی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے گھروں پر چھاپے، روزگار میں رکاوٹیں، سماجی بدنامی اور مسلسل نگرانی ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔
یہاں ایک واضح امتیاز کرنا ناگزیر ہے۔ جو افراد براہِ راست دہشت گردی، قتل و غارت اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، ان کا آزاد گھومنا پھرنا انصاف کے تقاضوں کے عین منافی ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کا واحد ’قصور‘ یہ ہے کہ ان کا کوئی رشتہ دار اس راستے پر چل نکلا، انہیں بلا امتیاز سزا دینا بھی اسی قدر ناانصافی ہے۔ قانون کا تقاضا یہی ہے کہ جرم فرد کا ہوتا ہے، خاندان کا نہیں۔
بدقسمتی سے میرواعظ کے بیان میں یہ امتیاز واضح نہیں ہو پاتا۔ جب وہ دہائیوں پرانے مقدمات میں گرفتاریوں کو مجموعی طور پر تشویش کا باعث قرار دیتے ہیں تو اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ گویا دہشت گردی کے مقدمات محض سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں قانونی کارروائی غیر ضروری یا ظالمانہ ہے۔ یہ تاثر نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ ان ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے جنہوں نے تشدد کی بھینٹ چڑھ کر ناقابلِ تلافی نقصان اٹھایا۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ قانون اور انصاف وقتی مصلحتوں کے تابع نہیں ہو سکتے۔ اگر ریاست آج یہ فیصلہ کر لے کہ پرانے مقدمات کو محض اس لیے بند کر دیا جائے کہ وقت گزر چکا ہے یا حالات بدل گئے ہیں، تو اس سے مستقبل میں قانون شکنی کے لیے ایک خطرناک مثال قائم ہوگی۔ انصاف اگر تاخیر کا شکار ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ترک کر دیا جائے۔
کشمیر آج جس نسبتاً پْرامن دور میں داخل ہو رہا ہے، اس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ تشدد کی سیاست کو غیر مبہم انداز میں مسترد کیا جائے۔ اس عمل میں سب سے بڑی ذمہ داری ان مذہبی اور سماجی قائدین پر عائد ہوتی ہے جو عوامی رائے پر اثر رکھتے ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی بالادستی، انصاف کی اہمیت اور تشدد سے مکمل لاتعلقی کا واضح پیغام دیں گے، نہ کہ ایسے بیانات کے ذریعے ابہام پیدا کریں جو پرانے زخموں کو پھر سے ہرا کریں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیر کو آگے بڑھنا ہے تو سچ کا سامنا کرنا ہوگا۔ تشدد کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانا انصاف ہے، انتقام نہیں۔ اور بے گناہوں کو اجتماعی سزا سے بچانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اصل توازن یہی ہے، اور اسی میں کشمیر کے پائیدار امن کی ضمانت پوشیدہ ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

پہلگام حملہ کیس میں چارج شیٹ داخل

Next Post

کھانا کھائیں… لیکن کیا ؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

کھانا کھائیں… لیکن کیا ؟

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.