نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کے روز پہلگام دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں چھ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔
یہ چارج شیٹ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے اس ہولناک حملے کے سات ماہ بعد داخل کی گئی ہے، جس میں ۲۶ شہری ہلاک ہوئے تھے۔
۱۵۹۷ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں این آئی اے نے پہلگام سازش میں پاکستان کے کردار کی تفصیل بیان کی ہے۔
ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو بھی حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور عمل درآمد میں کردار کے لیے نامزد کیا گیا ہے، اور اس حملے کو ’مذہب کی بنیاد پر ہدفی قتل‘ قرار دیا ہے۔
یہ چارج شیٹ دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں پہلی گرفتاری (۲۲جون) کی تاریخ سے مقررہ۱۸۰ دن کی قانونی مدت کے اندر داخل کی گئی ہے۔
چار دہشت گردوں، جن میں پاکستانی ہینڈلر دہشت گرد ساجد جٹ بھی شامل ہے، کو چارج شیٹ میں نامزد کیا گیا ہے، جو این آئی اے کی خصوصی عدالت، جموں میں داخل کی گئی ہے۔
دیگر تین دہشت گرد فیصل جٹ عرف سلیمان شاہ، حبیب طاہر عرف جبران اور حمزہ افغانی ہیں، جو رواں سال جولائی میں سری نگر کے داچھی گام علاقے میں آپریشن مہادیو کے دوران سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
تحقیقی ایجنسی نے کہا’’لشکرِ طیبہ/ٹی آر ایف کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا چاروں دہشت گردوں پر بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس)۲۰۲۳/ آرمز ایکٹ۱۹۵۹/اور غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ۱۹۶۷ کی متعلقہ دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اپنی چارج شیٹ میں این آئی اے نے ملزمان کے خلاف بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے سے متعلق تعزیری دفعات بھی شامل کی ہیں۔
دو دیگر افراد، بشیر احمد جوتھر اور پرویز احمد جوتھر، کو بھی چارج شیٹ میں نامزد کیا گیا ہے۔ این آئی اے کے مطابق ان دونوں کو دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام میں ۲۲ جون۲۰۲۵ کو گرفتار کیا گیا تھا، اور انہوں نے پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کی شناخت ظاہر کی تھی۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ وہ پاکستانی شہری تھے اور کالعدم لشکرِ طیبہ دہشت گرد تنظیم سے وابستہ تھے۔
وفاقی ایجنسی نے اپنی تفتیش کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی اور پاکستان میں قائم دہشت گردوں کو اس حملے سے جوڑنے کے لیے مختلف تکنیکی اور فارنزک شواہد جمع کیے۔
ایجنسی کو تین پاکستانی دہشت گردوں کے موبائل فونز سے بعض افراد کے آدھار کارڈز، تصاویر اور فیس بک آئی ڈیز بھی ملیں، جنہیں بالآخر۲۸ جولائی کو تین ماہ طویل تلاش کے بعد داچھی گام جنگلات میں سیکورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔
تین دہشت گردوں ‘سلیمان شاہ، حمزہ افغانی عرف افغان اور جبران‘اور پاکستان میں موجود ان کے ہینڈلر کے درمیان ہونے والی کئی اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ کمیونی کیشنز کو بھی ڈی کوڈ کیا گیا ہے، جنہوں نے پہلگام حملے کی منصوبہ بندی اور تنظیم کی تھی۔ یہ تمام مواد این آئی اے کی چارج شیٹ میں ثبوت کے طور پر شامل کیا جائے گا۔
پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، جب بھارت نے شہریوں کے قتل کے بدلے ۷ مئی کو آپریشن سندور کا آغاز کیا۔ بھارتی افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں سرحد پار واقع نو دہشت گرد کیمپوں کو علی الصبح فضائی حملوں میں نشانہ بنایا، جن میں کم از کم ۱۰۰ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
اس کے بعد مغربی سرحد پر حملوں اور جوابی حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جس میں لڑاکا طیارے، میزائل، مسلح ڈرونز اور شدید توپ خانے اور راکٹوں کے تبادلے شامل تھے۔
ایسے ہی ایک حملے میں،۹؍ اور۱۰ مئی کی درمیانی شب، بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے ۱۳ فضائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ چار دن کی لڑائی کے بعد، ۱۰ مئی کی شام دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت طے پانے کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئیں۔










