سرینگر؍۵ ستمبر
جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے ہفتہ کے روز کہا کہ حکومت ٹیچر ایلیجیبلٹی ٹیسٹ(ٹی ای ٹی) کے معاملے پر جموں و کشمیر اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ایک قرارداد پیش کرے گی۔ یہ اعلان ان سروس اساتذہ میں پائی جانے والی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی ای ٹی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایتو نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر پہلے ہی سپریم کورٹ سے رجوع کرچکی ہے۔ جموں و کشمیر حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے پرائمری اور اپر پرائمری جماعتوں کے تمام ان سروس اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی لازمی قرار دینے والے عدالتی حکم پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی ہے۔
ایتو نے کہا، ’’ہم پہلے ہی معزز عدالت سے رجوع کرچکے ہیں۔ لیکن اساتذہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ جب ایک استاد ذہنی طور پر پریشان ہو تو وہ بچوں کو کیسے پڑھا سکتا ہے؟‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض امتحان میں شرکت تک محدود نہیں بلکہ اساتذہ کے وقار اور عزت سے بھی جڑا ہوا ہے۔
وزیر نے کہا، ’’ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیسٹ اہم نہیں ہے۔ یہ ایک استاد کے احترام کا معاملہ ہے۔ جو استاد لاکھوں بچوں کو امتحانات کی تیاری کرواتا ہے، وہ خود ایک ٹیسٹ نہیں دے سکتا۔ وہ دے سکتا ہے، لیکن یہ اس کے وقار کا معاملہ ہے۔ اسی لیے اساتذہ کا احترام ہمارے لیے اہم ہے۔‘‘
ایتو نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اسمبلی کی حمایت حاصل کرے گی۔
وزیر تعلیم نے کہا، ’’جیسے ہی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگا، میں ایک قرارداد پیش کروں گی۔ ہم اس قرارداد کو اکثریت سے منظور کرائیں گے، تاکہ جو اساتذہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں وہ اس کیفیت سے باہر نکل سکیں اور بچوں کو بہتر طریقے سے پڑھا سکیں۔‘‘
یہ معاملہ سپریم کورٹ کے۲۹ مئی کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ان سروس اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی ہے۔ تاہم عدالت نے اساتذہ کو۳۱؍ اگست۲۰۲۸ تک امتحان پاس کرنے اور ملازمت جاری رکھنے کا وقت دیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کے بڑی تعداد میں ان سروس اساتذہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے، جو ٹی ای ٹی کی لازمی شرط سے استثنیٰ یا راحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ۲۳؍ اگست۲۰۱۰سے قبل مقرر کیے گئے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو ٹی ای ٹی سے مکمل اور مستقل استثنیٰ دیا جائے۔
۔۔۔۔۔ایجنسیاں










