سری نگر؍۵ ستمبر
کشمیر کے مختلف علاقوں میں دوبارہ نمودار ہونے والے جنگلی سوروں کی اصل اور آبادی کی تاریخ کا تعین کرنے کے لیے کشمیر کے سائنس دانوں نے جینیاتی مطالعہ شروع کر دیا ہے۔
شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی آف کشمیر کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے سربراہ پروفیسر خورشید احمد نے بتایا کہ جانور کا ایک نمونہ پہلے ہی حاصل کر لیا گیا ہے اور جینیاتی تجزیے کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ ان کا تعلق جموں اور بھارت کے دیگر علاقوں میں پائی جانے والی جنگلی سوروں کی آبادی سے ہے یا نہیں۔
خورشید نے کہا’’ہم جینیاتی طور پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا ان کا تعلق بنیادی آبادی، یعنی جموں یا بھارت کے میدانی علاقوں کی آبادی سے ہے، یا ان کا تعلق کشمیر کے دوسری جانب، لائن آف کنٹرول کے پار موجود آبادیوں سے ہے‘‘۔
یہ مطالعہ کشمیر میں جنگلی سوروں کی موجودگی پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان شروع کیا گیا ہے۔ وادی کے کئی علاقوں میں کسانوں نے زرعی اور سبزیوں کے کھیتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی شکایات کی ہیں۔
جنگلی سور کو کشمیر کا مقامی جانور نہیں سمجھا جاتا اور اسے 1980 کی دہائی میں خطے سے مقامی طور پر معدوم قرار دیا گیا تھا۔ خورشید کے مطابق، مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورِ حکومت میں شکار کے مقصد سے کشمیر میں جنگلی سور متعارف کرائے گئے تھے، بالخصوص داچھی گام نیشنل پارک اور اس سے ملحقہ جنگلاتی علاقوں میں۔
جنگلی سور 2013 میں دوبارہ منظر عام پر آیا، جب داچھی گام میں تین جنگلی سور دیکھے گئے۔ یہ 1984 میں اس جانور کے آخری بار دیکھے جانے کے تقریباً تین دہائیوں بعد کی بات تھی۔
جاری جینیاتی مطالعے کے ابتدائی مرحلے میں جموں میں موجود آبادی کے ساتھ ان کے تعلق کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد کشمیر بھر میں جنگلی سوروں کی آبادی کی جینیات کا مطالعہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا’’ہم آبادی کی جینیات کا جائزہ لیں گے کہ آیا شمال اور جنوب میں موجود آبادیوں کے ساتھ ساتھ درمیان کے علاقوں کی آبادیوں کے درمیان اختلاط ہو رہا ہے یا وہ الگ الگ ہیں‘‘۔
یہ تحقیق اس بات کا تعین کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں پائے جانے والے جنگلی سور ایک ہی باہم مربوط آبادی کا حصہ ہیں یا مختلف اور الگ الگ آبادیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے جین کے بہاؤ، نقل و حرکت کے نمونوں اور وادی میں اس نسل کے پھیلاؤ کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔
خورشید نے بتایا کہ یونیورسٹی نے حال ہی میں یہ مطالعہ شروع کیا ہے اور جینیاتی تحقیق مکمل ہونے میں پانچ سے چھ ماہ لگنے کی توقع ہے۔ کشمیر میں جنگلی سوروں کی آبادی کی باقاعدہ گنتی بھی کی جائے گی، کیونکہ وادی میں ان کی درست تعداد ابھی معلوم نہیں ہے۔
کشمیر کے کئی علاقوں سے جنگلی سوروں کی دراندازی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے میں ضلع بانڈی پورہ کے آجاس علاقے میں بڑے پیمانے پر جنگلی سوروں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے زرعی یونیورسٹی کے محکمہ وائلڈ لائف سے مشاورت کی۔
ماہرین نے انتظامیہ کو بتایا کہ یہ نسل خطے کی مقامی نہیں ہے اور وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات کے تحت اسے ممکنہ طور پر ’ورمن‘ قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے بعد اس کی آبادی کو کنٹرول کرنے یا ختم کرنے کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔تاہم خورشید نے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام پر غور کرنے سے پہلے جنگلی سوروں کی آبادی کا سائنسی جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا’اگر حدودِ پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے تو یہ کیسے ہوا، اس کے ذمہ دار عوامل کیا ہیں، ہمیں ان کا بھی مطالعہ کرنا ہوگا۔‘
خورشید کے مطابق جنگلی سور ایک تیزی سے افزائش نسل کرنے والی نسل ہے اور مادہ بڑی تعداد میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کیمرہ ٹریپ سے حاصل ہونے والی تصاویر میں ایک مادہ جنگلی سور کے ساتھ 14 تک بچے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو اس نسل کے تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت بھی کشمیر میں جنگلی سوروں کی دوبارہ نمودار ہونے کی ایک وجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ خطے کے روایتی طور پر سرد موسمی حالات میں یہ نسل اپنی بقا برقرار رکھنے کے قابل نہ رہی ہو۔
توقع ہے کہ جینیاتی مطالعہ کشمیر میں جنگلی سوروں کی آبادی کی اصل، جینیاتی باہمی وابستگی اور پھیلاؤ کے بارے میں سائنسی شواہد فراہم کرے گا، جبکہ اس سے حکام کو اس نسل کے ممکنہ ماحولیاتی اور زرعی اثرات کا جائزہ لینے میں بھی مدد ملے گی۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )










