جموں؍۵ستمبر
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے ہفتہ کے روز امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے حالیہ دنوں مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران اس معاملے سمیت کئی دیگر مسائل اٹھائے ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، یہاں ایک تقریب کے موقع پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’جب بھی عمر (عبداللہ) صاحب دہلی جاتے ہیں، خواہ وہ وزیر داخلہ، وزیر اعظم یا کسی دوسرے مرکزی وزیر سے ملاقات کریں، وہ جموں و کشمیر سے متعلق تمام ترقیاتی مسائل پر بات کرتے ہیں۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے درمیان ملاقات کے دوران ریاستی حیثیت کی بحالی، ریزرویشن کی معقولیت، کاروباری قواعد کو حتمی شکل دینے اور سری نگر میں ہونے والے پہلے بین الاقوامی فلم فئیر فیسٹیول سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ عمر کی ملاقات کے بعد وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں کیے گئے وعدے، سپریم کورٹ کے سامنے کیے گئے وعدے اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے کو پورا کریں گے۔‘‘
چودھری نے کہا، ’’اس وعدے کو پورا نہ کرکے بی جے پی صرف جموں و کشمیر کے عوام سے ہی غداری نہیں کر رہی بلکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ سے بھی غداری کر رہی ہے۔‘‘
۳۱ ؍اگست سے ماہانہ وظیفے میں مبینہ تفاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے ایم بی بی ایس انٹرنز کی ہڑتال کے بارے میں پوچھے جانے پر چودھری نے کہا کہ حکومت اس معاملے کا جامع جائزہ لے رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر یہ صرف ایک مسئلہ ہوتا تو ہم یہاں اس کا اعلان کرکے آگے بڑھ جاتے۔ لیکن ہم اس معاملے کو مکمل طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ ہمارے ڈاکٹر ہیں اور ہمارے لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔ خدا کے بعد اگر کسی کو دوسرا سب سے بلند مقام دیا جاتا ہے تو وہ ڈاکٹروں کا ہے۔‘‘
۲ستمبر کو سری نگر میں بی جے پی کے حکومت مخالف احتجاج کے بارے میں نائب وزیر اعلیٰ نے اسے اپوزیشن جماعت کی جانب سے لال چوک میں کیا گیا ’’ڈرامہ‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد جموں کے عوام کو درپیش مسائل سے توجہ ہٹانا تھا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعت کو چیلنج کیا کہ وہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اہم عہدوں پر مقامی افسران، ماہرین تعلیم اور پیشہ ور افراد کی نمائندگی سے متعلق سوالات کا جواب دے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’سری نگر کا لال چوک جمہوریت کی ایک تاریخی علامت ہے اور بی جے پی کی قیادت وہاں محض مگرمچھ کے آنسو بہانے اور عوام کو بے وقوف بنانے گئی تھی۔‘‘ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کے مسائل سے توجہ ہٹا کر جموں کے لوگوں کی آنکھوں پر ’’پٹی باندھ‘‘ رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جموں اندر سے مشکلات کا شکار ہے۔ لوگوں کے دلوں میں درد ہے۔ خواہ ٹرانسپورٹر ہوں، ہوٹل مالکان، صنعت کار یا بے روزگار نوجوان، ہر کوئی پریشان ہے۔‘‘
چودھری نے بی جے پی کی قیادت کو چیلنج کیا کہ وہ لال چوک میں احتجاج کرنے کے بجائے جموں کے شالیمار روڈ پر واقع اپنے ’گھنٹہ گھر‘ میں ان مسائل پر بات کرے۔انہوں نے سوال کیا، ’’آپ وہاں کیوں نہیں جاتے اور مہاراجہ صاحب کے مجسمے کے نیچے کھڑے ہوکر جموں کے عوام کو جواب دیتے؟‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسران کی مرکز کے زیر انتظام علاقے سے باہر اہم عہدوں پر تقرریوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ان کے مطابق مقامی افسران کو اسی طرح کے مواقع نہیں دیے جا رہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اگر جموں و کشمیر کے افسران کو دوسری ریاستوں یا لداخ میں ڈی جی کے طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے تو جموں و کشمیر کے افسران کو یہاں ڈی جی کیوں مقرر نہیں کیا جا سکتا؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کئی مقامی آئی پی ایس افسران ایسے عہدوں پر فائز ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
چودھری نے یونیورسٹیوں اور دیگر اعلیٰ اداروں میں تقرریوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جموں کے ’’مقامی باشندوں کے بیٹوں‘‘ کو ڈائریکٹرز اور وائس چانسلرز جیسے عہدوں کے لیے کیوں زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ معاملہ نوجوان پیشہ ور افراد اور ملازمین کی امنگوں سے بھی متعلق ہے۔انہوں نے کہا، ’’ریکارڈ دیکھیں۔ ہمارے افسران کو جموں و کشمیر سے ملک کے مختلف حصوں، مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے اپنے افسران کو یہاں تعینات کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ انہیں یہاں ڈپٹی کمشنر کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟ کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟‘‘
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










