جموں و کشمیر میں تعلیم کے شعبے سے متعلق حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ نجی اسکولوں کی بے مہار طاقت اور حکومتی اداروں کی کمزور عمل درآمدی صلاحیت کے درمیان خلیج نہ صرف برقرار ہے بلکہ وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
فیس فکسیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی (ایف ایف آر سی) کی تازہ ترین وضاحت، جس میں اسکولوں کو ۲۷۔۲۰۲۶ تعلیمی سیشن کی قبل از وقت فیس وصولی سے روکا گیا ہے، اس عدم توازن کی ایک تازہ مثال ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ۲۷۔۲۰۲۶ سیشن کی فیس یکم اپریل ۲۰۲۶سے پہلے وصول نہیں کی جا سکتی، اور اس ضمن میں نومبر ۲۰۲۵ سے فیس مانگنا سراسر خلاف ورزی ہے۔ تاہم زمین پر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
یہاں مسئلہ صرف چند اسکولوں کے انحراف کا نہیں بلکہ ایک ایسے رویے کا ہے جو وادی میں عام ہوتا جا رہا ہے…ایک ایسی روش جو حکومتی ہدایات کو پائے حقارت سے ٹھکراتی ہے اور والدین کو مکمل طور پر لاچار بنا دیتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ’حکمِ نواب تا درِ نواب‘ والی مثال یہاں پوری شدت سے صادق آتی ہے۔ کئی نجی اسکول، جن میں چند بڑے اور نامور ادارے بھی شامل ہیں، نہ صرف کمیٹی کی ہدایات کو نظرانداز کر رہے ہیں بلکہ اپنی من مانیاں بڑھانے میں مصروف ہیں۔ والدین کی جانب سے ملنے والی تازہ شکایات کے مطابق متعدد اسکول نومبر ۲۰۲۵ سے ہی۲۷۔۲۰۲۶ سیشن کی فیس اور اینول چارجز کا تقاضا کر رہے ہیں۔ بعض اداروں نے تو والدین کو تحریری طور پر خبردار بھی کیا ہے کہ اگر وہ پیشگی فیس ادا نہیں کرتے تو پی ٹی ایم یا رزلٹ کے دن انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ طرزِ عمل صرف مالی دباؤ ہی نہیں ڈالتا بلکہ والدین کے وقار اور بچوں کے حقوق کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
اس مسئلے کی ایک اور جہت وہ کاروباری مفاد ہے جو ہر سال تعلیمی سیشن کے آغاز پر بستوں سے لے کر یونیفارمز تک پھیل جاتا ہے۔ کئی اسکول ایسے مخصوص دکانداروں کو ترجیح دیتے ہیں جہاں سے ہی نئی کلاسوں کی کتابیں دستیاب ہوتی ہیں، اور ان دکانداروں کے نرخ کسی ضابطے میں قید نہیں ہوتے۔ یہ گٹھ جوڑ والدین کے لیے ایک اور معاشی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ سرکاری بیانات کچھ بھی ہوں، حقیقت یہی ہے کہ نجی اسکولوں کے اس بے مہار نظام کے سامنے حکومتی ادارے آج بھی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔
ایف ایس آر سی کی وضاحت اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس کے بعد بھی کوئی عملی تبدیلی آئے گی؟ کیونکہ وادی میں عمومی تاثر یہی ہے کہ نجی اسکولوں کے انتظامیہ کے سامنے حکومتی احکامات کی حیثیت اکثر محض کاغذی رہ جاتی ہے۔ جب اسکول اپنی مرضی سے فیس کے اوقات طے کریں، اپنے من پسند دکانداروں کے ذریعے کتابیں بیچوائیں، اور والدین کو دھمکی آمیز نوٹس جاری کریں، تو یہ صورت حال محض ادارہ جاتی کمزوری نہیں بلکہ حکومتی رٹ کے لیے براہِ راست چیلنج بن جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم کے شعبے میں نجی اداروں کا کردار ناقابلِ تردید ہے۔ والدین بہتر تعلیمی معیار اور سہولیات کی وجہ سے انہی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان اسکولوں کے پاس قدرتی طور پر ایک مضبوط مارکیٹ موجود ہے۔ تاہم، اسی مقام پر ریاستی ضابطہ کاری کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر اسکول اپنی خدمات کی قیمت کا تعین خود مختارانہ انداز میں کر سکتے ہیں، تو شہریوں کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ سرکاری اداروں سے ایسے تحفظ کی توقع رکھیں جو انہیں استحصال سے بچا سکے۔ لیکن افسوس کہ یہ توازن بگڑ چکا ہے۔
ایف ایس آر سی کی طرف سے واضح طور پر یہ کہنا کہ تعلیمی سال اور مالی سال دو الگ اکائیاں ہیں، اور فیس مالی سال کی بنیاد پر ہی مقرر کی جاتی ہے، ایک بنیادی اصول کی یاددہانی ہے۔ لیکن جب یہی اصول اسکولوں کی جانب سے بار بار پامال ہو، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ریاست کب تک زبانی وارننگز پر اکتفا کرتی رہے گی؟ کیا وقت نہیں آ گیا کہ ایسے اسکولوں کے خلاف سخت اور مثال قائم کرنے والے اقدامات کیے جائیں؟
والدین کے سامنے جو صورتحال کھڑی ہو رہی ہے وہ محض اقتصادی نہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ کا بھی باعث ہے۔ جب ایک اسکول پیشگی فیس نہ دینے پر نتائج کے دن مشکلات کی دھمکی دیتا ہے تو یہ دراصل بچے کی تعلیم کو سودے بازی کا ہتھیار بنانے کے مترادف ہے۔ اس طرح کے حربے نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ تعلیمی ماحول کو مسخ کر دیتے ہیں۔ ایسے میں ریاست کا کردار مزید مؤثر ہونا چاہیے تھا، مگر اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ والدین شکایات درج کراتے ہیں اور کارروائی کے نام پر محض رسمی خط و کتابت ہوتی ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ ایسے اسکول اپنی طاقت کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ مناسب نگرانی کے فقدان اور سزا سے بچ نکلنے کی روایت نے انہیں بے خوف بنا دیا ہے۔ جب کسی اسکول کو معلوم ہو کہ زیادہ سے زیادہ ایک نوٹس موصول ہوگا جس پر کوئی عملی فالو اپ نہیں ہوگا، تو وہ کیوں اپنا رویہ بدلنے کی زحمت کرے گا؟ اس رویے کو تبدیل کرنا صرف حکومتی اداروں کے سخت عزائم سے ہی ممکن ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور ایف ایس آر سی دونوں محض وضاحتوں اور مشوروں سے آگے بڑھیں۔ چند فوری اور عملی اقدامات اس صورتحال میں نمایاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔
ایسے اسکولوں کی شناخت اور ان کے خلاف باضابطہ کارروائی کے لیے موجودہ نظام کو جدید اور تیز رفتار ہونا چاہیے۔ والدین کی شکایات کو آن لائن پورٹل کے ذریعے فوری طور پر لیا جائے اور اس پر مقررہ مدت میں کارروائی لازم قرار دی جائے۔محض انتباہات مسئلہ حل نہیں کرتے۔ ایسے اسکولوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں، اور خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس معطلی تک کی کارروائی ہونی چاہیے۔
اسکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ مخصوص دکانداروں کے ساتھ کسی طرح کا گٹھ جوڑ نہ رکھیں۔ والدین کو آزادی ہو کہ وہ اپنی پسند کی دکان سے کتابیں خرید سکیں۔ایسے نوٹس جن میں پی ٹی ایم یا نتائج روکنے کی دھمکی دی جائے، انہیں قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے۔
آخر کار، سوال یہی ہے کہ کیا حکومت تعلیم کے اس نجی اجارہ دارانہ ڈھانچے کو قابو میں لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے گی؟ وادی کے والدین برسوں سے اس تبدیلی کے منتظر ہیں۔ نجی اسکولوں کو ان کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے پر مجبور کرنا نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کا تقاضا بھی۔
اگر حکومت اس صورتحال کو اسی طرح نظرانداز کرتی رہی تو یہ روش مزید مضبوط ہوگی، اور والدین کا اعتماد ریاستی اداروں سے اٹھ جائے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں حکومت کو اپنی رٹ منوانی ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نجی اسکولوں کے منتظمین کو باور کرایا جائے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے…اور تعلیم کے نام پر کسی کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔





