اپوزیشن کی غیر فعالیتـ:

کیا انڈیا اتحاد آئی سی یو کی طرف بڑھ رہا ہے؟

 جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حالیہ دنوں ایک ایسی بات کہہ دی جس نے نہ صرف قومی سطح پر اپوزیشن کی سیاست میں ہلچل پیدا کی بلکہ خود انڈیا اتحاد کے وجود اور سمت کے بارے میں بنیادی سوالات کو ازسرِنو زندہ کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا بلاک اس وقت ’لائف سپورٹ‘ پر ہے‘ایک تشبیہ جو کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ مگر سچائی سے قریب تر معلوم ہوتی ہے۔ اس بیان نے اپوزیشن کے مختلف دھڑوں میں نہ صرف بے چینی پیدا کی بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ اختلافِ رائے دبانے سے کہیں بہتر اسے کھلے میں لانا ہے تاکہ علاج ممکن ہو سکے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا عمر عبداللہ کا یہ تبصرہ محض جذباتی ردِعمل تھا یا واقعی اپوزیشن اتحاد کی موجودہ کیفیت اس تشخیص کے عین مطابق ہے؟ مختلف اتحادی جماعتوں کے ردعمل، ناراضگی، وضاحتوں اور تنقیدوں کو دیکھ کر معاملہ محض ایک بیان کا نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کے بحران کا دکھائی دیتا ہے۔
انڈیا بلاک کی تشکیل ایک بڑے مقصد کے لیے ہوئی تھی‘ایک ایسا مقصد جو محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں تھا بلکہ جمہوری اقدار، آئینی اصولوں اور وفاقی توازن کے تحفظ سے جڑا ہوا تھا۔ مگر تشکیل کے وقت کا جوش اور نعرے انتخابات کے بعد گویا ہوا ہو چکے ہیں۔ ۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے نہ کوئی بڑی میٹنگ ہوئی، نہ کوئی مشترکہ حکمتِ عملی بنی اور نہ ہی مخصوص ریاستوں کے لیے کوئی مربوط منصوبہ سامنے آیا۔ یہی وہ خلا ہے جس نے عمر عبداللہ جیسے تجربہ کار سیاست دان کو اس قدر تلخ حقیقت بیان کرنے پر مجبور کیا۔
سی پی آئی کے ڈی راجہ نے جو نشاندہی کی کہ اتحاد کی کوئی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوئی، وہ اس بحران کی سب سے نمایاں علامت ہے۔ شیوسینا (یو بی آتی) کی پرینکا چترویدی نے مہاراشٹر اور بہار میں اپوزیشن کی شکست کی وجوہات گنوائیں‘دیر سے سیٹ شیئرنگ، مشترکہ ایجنڈے کا فقدان، امیدواروں کے اعلان میں بے ترتیبی، اور’فرینڈلی فائٹس‘۔ یہ تمام عوامل کسی بھی مضبوط اتحاد کے لیے موت کا پروانہ ہوتے ہیں، خصوصاً اْس وقت جب سامنے بی جے پی جیسی جماعت ہو جو انتخاب کو محض سیاسی عمل نہیں بلکہ ہمہ وقتی مہم سمجھ کر لڑتی ہے۔
مگر عمر عبداللہ کے بیان پر ہونے والا ردعمل بھی کم دلچسپ نہیں۔ آر جے ڈی کے منوج جھا نے اس بیان کو ’جلد بازی‘ قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر اتحاد سانسیں لے رہا ہے تو اس کے ہر رکن کو اس کی بحالی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، نہ کہ بسترِ مرگ کی پیشین گوئی کرنی چاہیے۔ سماجوادی پارٹی کے راجیو رائے نے بالکل مختلف راستہ اختیار کیا…وہ شکست کو وقتی اور سیاست کا لازمی حصہ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ حوصلہ شکن بیانات وہی کھیل ہیں جو بی جے پی چاہتی ہے۔
پی ڈی پی کے رہنما وحید الرحمٰن پرہ نے اس بحث کو ایک اور رخ دیا اور نیشنل کانفرنس پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات کے وقت اتحاد کا سہارا لیتی ہے مگر ریاست سے باہر حکومت کے بیانیے کی ہم نوائی کرتی ہے۔ یہ الزام ظاہر کرتا ہے کہ اختلاف صرف حکمت عملی کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے، اور اعتماد کی کمی کسی بھی اتحاد کے لیے سب سے تباہ کن عنصر ہوتی ہے۔
جو بات سب سے زیادہ معنی خیز ہے وہ یہ کہ کانگریس‘جو اتحاد کی سب سے بڑی اور مرکزی جماعت ہے‘ابھی تک مکمل خاموش ہے۔ یہی خاموشی اصل مسئلہ ہے۔ قیادت کی غیر موجودگی، سمت کا فقدان اور ذمہ داری سے گریز اتحاد کو کمزور کرتے ہیں۔ اتحاد چھوٹی جماعتوں کے کندھوں پر نہیں چل سکتے، اور نہ ہی ہر بحران میں بیانیہ بدل کر کام چلایا جا سکتا ہے۔ ایک مرکزی قوت کا فعال ہونا لازم ہے، ورنہ ایسے اتحاد صرف انتخابی موسم میں زندہ دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف، بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شدید حملے کیے۔ شانواز حسین نے تو یہاں تک کہا کہ اتحاد کی ‘‘آخری رسومات’’ بھی ادا ہو چکی ہیں۔ یہ سیاسی بیان بازی اپنی جگہ، مگر اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حکمران اتحاد کو اپوزیشن کی کمزوری کا صحیح ادراک ہے اور وہ ہر ایسی دراڑ کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کرے گا۔
سوال مگر پھر وہی ہے‘کیا  انڈیا بلاک واقعی لائف سپورٹ پر ہے؟ یا پھر یہ ایک سیاسی جھٹکے کے بعد کی تھکن ہے؟ اگر اتحاد صرف انتخابات کے وقت جاگتا اور نتیجوں کے بعد سو جاتا ہے تو پھر یہ تشبیہ درست ہے۔ لیکن اگر اس کے اندر ابھی بھی اپنی کمزوریوں کی نشاندہی، اصلاح اور اپنے بنیادی مقصد کی طرف لوٹنے کی خواہش موجود ہے، تو پھر عمر عبداللہ کا بیان ایک ویک اپ کال بن سکتا ہے۔
اپوزیشن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بی جے پی کی سب سے بڑی طاقت اس کی تنظیمی مشینری، ہمہ وقت تیاری اور بیانیے کی سخت گرفت ہے۔ اس کا مقابلہ محض بیانات، پریس کانفرنسوں یا سوشل میڈیا پر ’اتحاد‘ دکھانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے مستقل منصوبہ بندی، واضح ترجیحات، مضبوط رابطہ اور سب سے بڑھ کر باہمی اعتماد ضروری ہیں۔
آخر میں، عمر عبداللہ کا بیان چاہے سخت ہو، مگر اس میں پوشیدہ حقیقت سے انکار مشکل ہے۔ اگر انڈیا بلاک واقعی ایک موثر سیاسی متبادل بننا چاہتا ہے تو اسے ابھی جاگ کر اپنی نبض ٹٹولنی ہوگی۔ ورنہ لائف سپورٹ سے آئی سی یو تک کا سفر بہت مختصر ہوتا ہے…اور سیاست ایسے خلا کو کبھی خالی نہیں چھوڑتی۔

Next Post