پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیمیں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد ایک مرتبہ پھر قریبی تعاون کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔
پاکستان کے شہر بہاولپور میں جیش کے اس ہیڈکوارٹر میں دونوں گروہوں کے کمانڈروں کی ملاقات کی نئی تصویری شواہد سامنے آئے ہیں، جو آپریشن سندور کے دوران بھارتی کارروائی کا نشانہ بننے والے اہم مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
مصدقہ تصاویر میں لشکر کے ڈپٹی چیف سیف اللہ قصوری کو جیش کے سینئر کمانڈروں کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ انٹیلیجنس حکام کے مطابق یہ ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ دونوں گروہ اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ جوڑ رہے ہیں، جس سے خطے میں مشترکہ حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کے راولا کوٹ میں دہشت گرد لانچ پیڈز دوبارہ تعمیر کیے جا رہے ہیں‘وہی ٹھکانے جنہیں آپریشن سندور میں تباہ کیا گیا تھا۔
مزید برآں، جیشِ محمد نے ایک نئی’فدائی‘ ٹیم کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ ریڈ فورٹ کار بم حملے کے بعد ایک اور بڑی کارروائی کی جا سکے۔ تفتیش میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ دھماکے کی مالی معاونت ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کی گئی، جن میں ایک پاکستانی فنانس ایپ’SadaPay‘ بھی شامل ہے۔
اس دوران،ٹی وی چینل ‘این ڈی ٹی وی کی جانب سے پیش کی گئی خفیہ رپورٹوں نے پاکستان کی سرزمین سے چلنے والی دہشت گرد سرگرمیوں میں تشویشناک اضافے کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ستمبر کے بعد لشکر اور جیش نے دراندازی، سرویلنس اور سرحد پار لاجسٹکس میں نمایاں تیزی دکھائی ہے۔ انٹیلیجنس کے مطابق دونوں گروہوں کے متعدد یونٹس کشمیر میں داخل ہو چکے ہیں اور ان کی پشت پر آئی ایس آئی اور ایس ایس جی کے اہلکار موجود ہیں۔
چینل کو موصول ہونے والی ستمبر کی تصاویر میں خیبر پختونخوا کے لوئر دیر میں نئے دہشت گرد انفراسٹرکچر‘بشمول مرکز جہادِ اقصیٰ‘کی تعمیر دکھائی دیتی ہے، جسے لشکر کے ترجمان عامر ضیا نے مسجد قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ تاہم خفیہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مرکز اب لشکر کے خودکش بمبار یونٹ کا نیا ٹھکانہ بننے جا رہا ہے، کیونکہ بھمبر-برنالہ میں موجود سابقہ سہولت آپریشن سندور میں تباہ کر دی گئی تھی۔
لال قلع دھماکے کی تفتیش کے دوران ملنے والے شواہد‘جس میں امونیم نائٹریٹ فیول آئل سے بھری ہوئی ایک ہنڈائی آئی ۲۰ تاریخی عمارت کے قریب پھٹ گئی تھی‘سے ظاہر ہوا کہ فنڈ ریزنگ ڈیجیٹل ذرائع سے کی جا رہی تھی، جن میں یہی پاکستانی ایپ شامل ہے۔
حقیقت میں، ریڈ فورٹ کار بم سے چند روز پہلے این ڈی ٹی وی کو موصول ہونے والی تازہ خفیہ رپورٹس نے پاکستان حمایت یافتہ دہشت گرد سرگرمیوں میں خوفناک اضافے کا انکشاف کیا، جن کا ہدف جموں و کشمیر تھا۔ ان رپورٹس میں اشارہ کیا گیا تھا کہ لشکر اور جیش ممکنہ طور پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے نئی مربوط کارروائیوں کی لہر کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروہوں نے ستمبر سے دراندازی، ریکی اور سرحد پار اسلحہ و سازوسامان کی ترسیل میں اضافہ کر دیا تھا، اور لشکر و جیش کے متعدد یونٹ کشمیر میں داخل ہو چکے تھے، جنہیں پاکستان کی اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اہلکاروں کی مدد حاصل تھی۔










