کشمیر نے کل اپنے ایک معتبر اور سچے صحافی، طارق بٹ، کو کھو دیا۔ محض ۵۳برس کی عمر میں ان کی اچانک موت، حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث، نہ صرف صحافتی حلقوں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی گہرا صدمہ ہے۔ مگر یہ سانحہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں۔ یہ اس بڑھتے ہوئے بحران کا حصہ ہے جو وادی میں خاموشی سے ہزاروں زندگیاں نگل رہا ہے…قلبی امراض کی صورت میں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب دل کے امراض بزرگوں تک محدود نہیں رہے۔ سرینگر سے کپواڑہ تک، تیس اور چالیس برس کے افراد بڑی تعداد میں دل کے دوروں، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے شکار ہو رہے ہیں۔ انڈین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق، چالیس برس سے زائد عمر کے۵ء۷ فیصد کشمیری کورونری آرٹری ڈیزیز میں مبتلا ہیں، اور شہری علاقوں میں یہ شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔
تازہ اسپتالی اعداد و شمار چونکانے والے ہیں: ہر پانچ میں سے ایک مریض، جو دل کے دورے کے باعث اسپتال پہنچتا ہے، پینتالیس برس سے کم عمر ہوتا ہے۔ صرف رواں برس میں درجنوں نوجوان، بعض کی عمر تیس کے قریب، دل کی بیماری یا غیر تشخیص شدہ شوگر اور موٹاپے کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سردیوں میں یہ خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔ بڑے اسپتال روزانہ تیس کے قریب کارڈی ایک ایمرجنسی نمٹاتے ہیں، جب کہ گرمیوں میں یہی تعداد نصف کے قریب رہتی ہے۔
یہ رجحان محض اعداد کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک معاشرتی و طرزِ زندگی کا بحران ہے۔
کشمیر میں تمباکو نوشی ایک دیرینہ سماجی عادت ہے، مگر اب یہ جان لیوا حد تک بڑھ چکی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ۳۸ تا ۵۶ فیصد بالغ افراد تمباکو یا اس سے بنی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح ۷۶ فیصد تک جا پہنچی ہے۔ حقہ‘ جو کبھی میل ملاپ کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اب موت کی سانسیں بن چکا ہے۔
اسی کے ساتھ، منشیات کی وبا نے نوجوان نسل کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ۲۰۲۲ کی ایک سرکاری رپورٹ نے بتایا کہ تقریباً۸ فیصد نوجوان اوپیئڈز یا دیگر نشہ آور اشیاء کے عادی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، منشیات کا براہِ راست اثر دل اور خون کی نالیوں پر پڑتا ہے، جس سے وقت سے پہلے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
لیکن خطرے کی جڑ صرف جسمانی نہیں، ذہنی بھی ہے۔میڈیسن سانس فرنٹیئرز کے ایک سروے (۲۰۱۵) میں بتایا گیا کہ ۴۵ فیصد بالغ کشمیری کسی نہ کسی درجے کے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ برسوں سے جاری سیاسی بے یقینی، تشدد، اور بیروزگاری نے سماج کو مستقل ذہنی تناؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مسلسل دباؤ میں رہنے سے جسم کا اعصابی نظام بگڑتا ہے، کورٹیسول کی سطح بلند رہتی ہے، بلڈ پریشر بڑھتا ہے، اور آخرکار دل تھک کر رک جاتا ہے۔جیسا کہ صورہ میڈیکل انسٹچوٹ کے ایک ماہر کارڈیالوجسٹ نے کہا’جب جسم کو کبھی سکون نہ ملے، تو دل ایک دن ہار مان لیتا ہے‘۔
کشمیر کا روایتی کھانا ذائقے میں بے مثال مگر اب مضرِ صحت ہو چکا ہے۔ چکنائی، نمک اور سرخ گوشت کی زیادتی نے دل کے نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔ روایتی سبزیاں اور دالیں تیزی سے فاسٹ فوڈ، چائے اور پیک شدہ خوراکوں سے بدل رہی ہیں۔
۲۰۲۴ کے ایک مطالعے کے مطابق، نوجوانوں میں موٹاپا، ناقص خوراک، اور قلبی صحت سے لاعلمی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
یہ بحران محض عادات کا نتیجہ نہیں بلکہ صحتِ عامہ کے ڈھانچے کی کمزوری کا مظہر بھی ہے۔ سری نگر کے اسپتال جیسے ایس کے آئی ایم ایس اور ایس ایم ایچ ایس دل کے مریضوں کو سنبھال لیتے ہیں، مگر جنوبی اور شمالی اضلاع میں صورتحال مختلف ہے۔ کپواڑہ، پلوامہ اور شوپیاں کے اسپتالوں میں نہ ماہر کارڈیالوجسٹ ہیں، نہ کیتھ لیبز، نہ جدید ڈیفبریلیٹرز۔
ایک عام شخص اگر رات گئے دل کے دورے میں مبتلا ہو جائے تو بعض اوقات اسے چار گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔نجی اسپتالوں میں علاج کی لاگت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے‘ایک معمولی انجیوپلاسٹی کا خرچ ۲ء۱لاکھ روپے سے زیادہ۔ سرکاری اسپتالوں میں لمبی قطاریں اور ناکافی بعد از علاج سہولیات۔ نتیجہ: ہر تاخیر، ایک جان کے ضیاع کے برابر۔
وادی کی شدید سردی دل کے مریضوں کے لیے اضافی خطرہ بن چکی ہے۔درجہ حرارت گرنے سے خون کی نالیاں سکڑتی ہیں، آکسیجن کی کمی بڑھتی ہے، اور دل پر دباؤ کئی گنا ہو جاتا ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق، سردیوں میں دل کے دوروں کی شرح تقریباً دوگنی ہو جاتی ہے۔
بدقسمتی سے کشمیر میں دل کی بیماریوں کے متعلق جامع اعداد و شمار دستیاب نہیں۔کوئی باقاعدہ نظام نہیں جو ہر سال بلڈ پریشر، شوگر یا کولیسٹرول کی اسکریننگ کرے۔بغیر ڈیٹا کے کوئی بھی پالیسی مؤثر نہیں بن سکتی۔ یہی لاعلمی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ضرورت ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں دل کے امراض کی ابتدائی جانچ لازمی بنائی جائے۔ہر ضلع میں جدید کارڈیالوجی سینٹر قائم کیے جائیں۔تمباکو اور منشیات کے خلاف سخت قانون سازی کے ساتھ ساتھ روایتی، کم چکنائی والی غذا کے فروغ کی مہم شروع کی جائے۔
ذہنی صحت پر کام ناگزیر ہے کیونکہ جب ذہن پرسکون ہوگا تو جسم بھی محفوظ رہے گا۔جیسا کہ ایک ماہر ڈاکٹر کاکہنا ہے ’’یہ صرف طبی نہیں بلکہ سماجی بحران ہے…غربت، تعلیم، ذہنی دباؤ، سب اس کے حصے ہیں‘‘۔
طارق بٹ کی موت ایک علامت ہے‘یہ یاد دہانی کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے۔اگر ہم نے اب بھی اپنے رویّے، خوراک، اور نظامِ صحت کو نہ بدلا تو ایک پوری نسل اپنے دلوں کے ساتھ بوجھ تلے دب جائے گی۔کشمیر، جو کبھی محبت اور سکون کی علامت تھا، اب دلوں کی کمزوری سے لڑ رہا ہے۔وقت ہے کہ ہم دلوں کو سنبھالیںکیونکہ دل ہی کشمیر کی اصل دھڑکن ہیں۔





