منگل, ستمبر 8, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جموں و کشمیر کی موجودہ ریزرویشن پالیسی

کیا مساوات کے بجائے مراعات بن کر رہ گئی ہے؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-01
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں حالیہ دنوں ریزرویشن پالیسی پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر اْس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آخر میرٹ اور مساوات کے درمیان توازن کہاں ٹوٹ رہا ہے؟ سجاد لون کی جانب سے اْٹھائے گئے اعتراضات اور نذیر احمد گوریزی کے جوابی مؤقف نے اس بات کو واضح کر دیا کہ ریزرویشن کا مسئلہ اب صرف ایک انتظامی یا اعداد و شمار کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ریاست کی سماجی و تعلیمی سمت طے کرنے کا پیمانہ بن چکا ہے۔
جموں و کشمیر میں ریزرویشن کا مقصد ابتدا میں اْن علاقوں اور طبقات کو اوپر لانا تھا جو تاریخی، جغرافیائی یا معاشی پسماندگی کے سبب پیچھے رہ گئے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ پالیسی ایک ایسے دائرے میں قید ہو گئی ہے جہاں میرٹ پر محنت کرنے والے نوجوان خود کو محرومی کی دیوار کے پیچھے محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس احساسِ محرومی نے تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں انصاف کے تصور کو دھندلا دیا ہے۔
سجاد لون نے اسمبلی میں جو سوال اْٹھایا کہ اگر اسی طرز کی ریزرویشن پالیسی پہلے دن سے لاگو ہوتی تو کیا آج ہم اْن قابل ڈاکٹروں، انجینئروں اور ماہرینِ تعلیم پر فخر کر سکتے جنہوں نے دنیا میں ریاست کا نام روشن کیا؟ یہ سوال سطحی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک گہری تشویش ہے کہ کہیں پالیسی کی نیت درست ہونے کے باوجود اس کا نفاذ غیر متوازن تو نہیں ہو گیا؟ جب کسی بھی نظام میں اعداد و شمار اور زمینی حقائق کو پسِ پشت ڈال کر فیصلہ کیا جاتا ہے، تو وہ انصاف نہیں رہتا، بلکہ امتیاز کی نئی شکل بن جاتا ہے۔
دوسری جانب نذیر احمد گوریزی جیسے نمائندے جن کا تعلق دشوار گزار اور سہولیات سے محروم علاقوں سے ہے، اْن کی بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ گریز جیسے علاقے جہاں ایک سائنس ٹیچر بھی دستیاب نہیں، وہاں یہ کہنا آسان نہیں کہ تمام طبقات یکساں مواقع رکھتے ہیں۔ ان کی دلیل کہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ اپنی سختیوں کے باوجود اعلیٰ عہدوں تک پہنچ رہے ہیں، دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ریزرویشن کا بنیادی مقصد ابھی ختم نہیں ہوا۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ریزرویشن کی ضرورت نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ اس کا دائرہ اور معیار وقت کے ساتھ تبدیل نہیں کیا گیا۔ آبادی میں اضافے، تعلیمی ڈھانچے کی تبدیلی، اور شہری و دیہی علاقوں کے فرق کو نظرانداز کر کے بنائی گئی پالیسیاں جلد یا بدیر ناانصافی پیدا کرتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں یہی ہورہا ہے۔ کئی اضلاع میں ریزروڈ کوٹے کا فائدہ مسلسل ایک ہی طبقہ یا علاقہ اْٹھا رہا ہے، جب کہ دیگر مستحق طبقات ابھی بھی انتظار میں ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریزرویشن کو کسی سیاسی مفاہمت کے بجائے ایک سائنسی اور شفاف عمل کے تحت پرکھا جائے۔ محکمہ سماجی بہبود اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو یہ ذمہ داری دی جانی چاہیے کہ وہ ہر چند سال بعد اعداد و شمار کے ساتھ جائزہ لیں کہ آیا ریزرویشن کا اصل مقصد حاصل ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی طبقہ یا علاقہ اپنی معاشی اور تعلیمی پوزیشن بہتر کر چکا ہے تو اْس کے لیے مخصوص رعایتوں کو مرحلہ وار ختم کیا جانا چاہیے، تاکہ وہی سہولت اْن علاقوں تک پہنچے جو اب بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔
یہ بھی لازم ہے کہ میرٹ کو قربان کیے بغیر برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ریزرویشن کی بنیاد مواقع کی مساوات ہونی چاہیے، نتائج کی مساوات نہیں۔ ریاست کو ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں کمزور طبقے کو سہارا ضرور ملے، لیکن وہ سہارا کسی دوسرے کی محنت اور قابلیت کے مقابل رکاوٹ نہ بنے۔
تعلیمی اداروں میں میرٹ لسٹ اور سلیکشن لسٹ کے درمیان جو فرق پیدا ہوا ہے، وہ اس عدم توازن کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ اگر پالیسی پر تنقید کرنے والے صرف ’ناخوش طبقات‘ نہیں بلکہ خود نظام کا حصہ بننے والے نمائندے بھی سوال اْٹھا رہے ہیں، تو اسے محض سیاست قرار دے کر ٹالنا دانشمندی نہیں۔ حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ کابینہ سب کمیٹی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے، تاکہ بحث جذبات سے نکل کر اعداد و شواہد کی بنیاد پر ہو۔
آخرکار، ریزرویشن کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ سب کو اوپر لانا ہے۔ مگر جب کوئی پالیسی اپنے ہی مقصد کے برعکس میرٹ کو کمزور کرنے لگے، تو اس پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے اپنی قابلیت، محنت اور ثابت قدمی سے ہر شعبے میں نام کمایا ہے۔ یہ ان کا حق ہے کہ انہیں ایک ایسا نظام ملے جو ان کی محنت کا احترام کرے، نہ کہ ان کے راستے میں مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کرے۔
ریاست کو اب ایک نئے توازن کی ضرورت ہے … ایسا توازن جو میرٹ اور مساوات، دونوں کو ایک ساتھ زندہ رکھے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں سہارا دیا جائے، مگر جہاں صلاحیت ہو وہاں راستہ کھلا رکھا جائے۔ ورنہ ریزرویشن کا مقصد ’مساوات‘ نہیں بلکہ ’مراعات‘ بن کر رہ جائے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

جنگل راج سے دور رہے گا بہار، پھر سے این ڈی اے سرکار: مودی

Next Post

محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

2026-09-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جل جیون مشن:آخر مسئلہ کیا ہے ؟        

2026-09-05 - Updated on 2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

  احتجاج اور جوابی احتجاج کے بیچ پستا عام آدمی    

2026-09-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

انٹرنز کا وظیفہ: جائز مطالبہ، مگر مریض اولین ترجیح

2026-09-02
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر کی ازسرنو ترتیب

2026-09-01
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

ایک ہی دن کے دو اعلانات: لداخ کو۳۷۱، کشمیر کو۳۷۰ کی سیاست؟                

2026-08-30
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر میںبی جے پی لیڈروں پر مقدمات                

2026-08-29
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.