جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں حالیہ دنوں ریزرویشن پالیسی پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر اْس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آخر میرٹ اور مساوات کے درمیان توازن کہاں ٹوٹ رہا ہے؟ سجاد لون کی جانب سے اْٹھائے گئے اعتراضات اور نذیر احمد گوریزی کے جوابی مؤقف نے اس بات کو واضح کر دیا کہ ریزرویشن کا مسئلہ اب صرف ایک انتظامی یا اعداد و شمار کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ریاست کی سماجی و تعلیمی سمت طے کرنے کا پیمانہ بن چکا ہے۔
جموں و کشمیر میں ریزرویشن کا مقصد ابتدا میں اْن علاقوں اور طبقات کو اوپر لانا تھا جو تاریخی، جغرافیائی یا معاشی پسماندگی کے سبب پیچھے رہ گئے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ پالیسی ایک ایسے دائرے میں قید ہو گئی ہے جہاں میرٹ پر محنت کرنے والے نوجوان خود کو محرومی کی دیوار کے پیچھے محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس احساسِ محرومی نے تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں انصاف کے تصور کو دھندلا دیا ہے۔
سجاد لون نے اسمبلی میں جو سوال اْٹھایا کہ اگر اسی طرز کی ریزرویشن پالیسی پہلے دن سے لاگو ہوتی تو کیا آج ہم اْن قابل ڈاکٹروں، انجینئروں اور ماہرینِ تعلیم پر فخر کر سکتے جنہوں نے دنیا میں ریاست کا نام روشن کیا؟ یہ سوال سطحی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک گہری تشویش ہے کہ کہیں پالیسی کی نیت درست ہونے کے باوجود اس کا نفاذ غیر متوازن تو نہیں ہو گیا؟ جب کسی بھی نظام میں اعداد و شمار اور زمینی حقائق کو پسِ پشت ڈال کر فیصلہ کیا جاتا ہے، تو وہ انصاف نہیں رہتا، بلکہ امتیاز کی نئی شکل بن جاتا ہے۔
دوسری جانب نذیر احمد گوریزی جیسے نمائندے جن کا تعلق دشوار گزار اور سہولیات سے محروم علاقوں سے ہے، اْن کی بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ گریز جیسے علاقے جہاں ایک سائنس ٹیچر بھی دستیاب نہیں، وہاں یہ کہنا آسان نہیں کہ تمام طبقات یکساں مواقع رکھتے ہیں۔ ان کی دلیل کہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ اپنی سختیوں کے باوجود اعلیٰ عہدوں تک پہنچ رہے ہیں، دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ریزرویشن کا بنیادی مقصد ابھی ختم نہیں ہوا۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ریزرویشن کی ضرورت نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ اس کا دائرہ اور معیار وقت کے ساتھ تبدیل نہیں کیا گیا۔ آبادی میں اضافے، تعلیمی ڈھانچے کی تبدیلی، اور شہری و دیہی علاقوں کے فرق کو نظرانداز کر کے بنائی گئی پالیسیاں جلد یا بدیر ناانصافی پیدا کرتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں یہی ہورہا ہے۔ کئی اضلاع میں ریزروڈ کوٹے کا فائدہ مسلسل ایک ہی طبقہ یا علاقہ اْٹھا رہا ہے، جب کہ دیگر مستحق طبقات ابھی بھی انتظار میں ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریزرویشن کو کسی سیاسی مفاہمت کے بجائے ایک سائنسی اور شفاف عمل کے تحت پرکھا جائے۔ محکمہ سماجی بہبود اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو یہ ذمہ داری دی جانی چاہیے کہ وہ ہر چند سال بعد اعداد و شمار کے ساتھ جائزہ لیں کہ آیا ریزرویشن کا اصل مقصد حاصل ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی طبقہ یا علاقہ اپنی معاشی اور تعلیمی پوزیشن بہتر کر چکا ہے تو اْس کے لیے مخصوص رعایتوں کو مرحلہ وار ختم کیا جانا چاہیے، تاکہ وہی سہولت اْن علاقوں تک پہنچے جو اب بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔
یہ بھی لازم ہے کہ میرٹ کو قربان کیے بغیر برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ریزرویشن کی بنیاد مواقع کی مساوات ہونی چاہیے، نتائج کی مساوات نہیں۔ ریاست کو ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں کمزور طبقے کو سہارا ضرور ملے، لیکن وہ سہارا کسی دوسرے کی محنت اور قابلیت کے مقابل رکاوٹ نہ بنے۔
تعلیمی اداروں میں میرٹ لسٹ اور سلیکشن لسٹ کے درمیان جو فرق پیدا ہوا ہے، وہ اس عدم توازن کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ اگر پالیسی پر تنقید کرنے والے صرف ’ناخوش طبقات‘ نہیں بلکہ خود نظام کا حصہ بننے والے نمائندے بھی سوال اْٹھا رہے ہیں، تو اسے محض سیاست قرار دے کر ٹالنا دانشمندی نہیں۔ حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ کابینہ سب کمیٹی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے، تاکہ بحث جذبات سے نکل کر اعداد و شواہد کی بنیاد پر ہو۔
آخرکار، ریزرویشن کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ سب کو اوپر لانا ہے۔ مگر جب کوئی پالیسی اپنے ہی مقصد کے برعکس میرٹ کو کمزور کرنے لگے، تو اس پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے اپنی قابلیت، محنت اور ثابت قدمی سے ہر شعبے میں نام کمایا ہے۔ یہ ان کا حق ہے کہ انہیں ایک ایسا نظام ملے جو ان کی محنت کا احترام کرے، نہ کہ ان کے راستے میں مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کرے۔
ریاست کو اب ایک نئے توازن کی ضرورت ہے … ایسا توازن جو میرٹ اور مساوات، دونوں کو ایک ساتھ زندہ رکھے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں سہارا دیا جائے، مگر جہاں صلاحیت ہو وہاں راستہ کھلا رکھا جائے۔ ورنہ ریزرویشن کا مقصد ’مساوات‘ نہیں بلکہ ’مراعات‘ بن کر رہ جائے گا۔





