کون کہتا ہے کہ ہم غریب ہیں… غریب یوٹی ہیں… ہمارے وسائل محدود ہیں ‘ ذرائع آمدنی نہ ہونے کے برابر ہیں‘ ہم دہلی کے رحم و کرم پر جی رہے ہیں ‘ ہم گرانٹ لے لے کے گزر بسر کررہے ہیں‘ ہم ہر ایک کو روز گار فراہم نہیں کر سکتے ہیں ‘ ہم فلاحی اسکیموں کو اور زیادہ موثر نہیں بنا سکتے ہیں‘ ہم ہسپتالوں میں خدمات کو مزید بہتر نہیں بنا سکتے ہیں ‘ ہم موسم سرما میں اضافی بجلی نہیں خرید سکتے ہیں … یہ سب باتیں کون کہتا ہے… جو کوئی بھی کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے اور … اور اللہ میاں کی قسم سو فیصد جھوٹ کہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک امیر ریاست معاف کیجئے یو ٹی ہیں ‘ہمارے پاس بے پناہ مالی وسائل ہیں ‘ ہماری آمدنی کے ذرائع لا محدود ہیں ‘ ہم دہلی کے رحم و کرم پر نہیں جی رہے ہیں ‘ ہم گرانٹ کے منتظر نہیں رہتے ہیں ‘ ہماری فلاحی اسکیموں کا کوئی ثانی نہیں ہے ‘ ہمارے ہسپتالوں میں فراہم کی جانی والی خدمات کا کوئی مقابلہ نہیں ‘ ہمارے سرکاری اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی کہیں کوئی مثال نہیں مل سکتی ہے ‘ ہم سرما میں کشمیر اور گرما میں جموں میں بجلی کی کٹوتی نہیں کرتے ہیں… ایک منٹ کی بھی کٹوتی نہیں ہو تی ہے… ہم ۷x۲۴ بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں ‘ ہمارے ہاں بے روز گاری کا کوئی مسئلہ نہیں ہے… سب ہنسی خوشی زندگی گزر بسر کررہے ہیں… اور یہ سب جن کی وجہ سے ممکن ہوا وہ ہمار ے سیاستدان ہیں… ممبران اسمبلی ہیں… یہ سب ان کی محنت اورکاشوں کا ہی ثمر ہے جو ہم کھا رہے ہیں… جو ہمیں نصیب ہو رہا ہے… بدلے میں ہم تو انہیں کچھ نہیں دیتے ہیں لیکن ہاں… ہم لوگ خوش ہیں کہ اگر ان کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ سے تین لاکھ کرنے کی سفارش کی گئی ہے… ہم خوش ہیں … ہمیں اس بات پر بھی مسرت ہو رہی ہے کہ اگر الاؤنسوں کی شکل میں ماہانہ لاکھوں روپے بھی انہیں دئے جانے کا انتظام ہو رہا ہے… جن میں ۳۰ ہزار روپے ٹیلی فون کا خرچہ بھی شامل ہے… کیا کریں کہ مہنگائی کے اس دور میں فون کا ماہانہ خرچہ سچ میں ۳۰ ہزار روپے تو ہو تا ہے ہی… ہم اس سب پر راضی ہیں… ان سب سفارشات پر جو ممبران اسمبلی نے خود کیلئے تجویز کر دی ہیں اور اب ان پر مہر تصدیق ثبت کی جائے … ہم خوش ہیں کہ ممبران اسمبلی ایک آرام دہ زندگی گزاریں گے… خوش اس لئے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے ہم آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہے نا؟



